یو این آئی
برمنگھم/2027کے آئی سی آئی ون ڈے ورلڈ کپ میں اب 15 ماہ سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے، اور اسی عالمی مہم کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی تجربہ کار ترین تکڑی—روہت شرما، وراٹ کوہلی اور جسپریت بمراہ انگلینڈ کے خلاف رواں ہفتے شروع ہونے والی تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں واپس لوٹ آئی ہے۔انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹی-20 سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے بعد، اب ہندوستانی ٹیم ایجبسٹن میں ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اس سیریز میں جہاں نوجوان کپتان شبھمن گل کی قیادت میں نئی نسل کے جوش کا امتحان ہوگا، وہیں روہت، کوہلی اور بمراہ جیسے سینئر کھلاڑیوں کی واپسی سے ٹیم کو مطلوبہ استحکام، قیادت اور جیتنے کی وہ خاص ذہنی صلاحیت ملنے کی امید ہے، جس کی 50 اوور کے فارمیٹ میں ٹیم کو اشد ضرورت ہے۔ہندوستان کے پاس ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن اب سب سے بڑا چیلنج انفرادی صلاحیتوں کو ایک ایسی متحد اور مضبوط ٹیم میں ڈھالنا ہے جو طویل عرصے تک کامیابی کا تسلسل برقرار رکھ سکے۔
نوجوان کپتان شبھمن گل، جنہیں ہندوستانی کرکٹ کے مستقبل کی باگ ڈور سونپی گئی ہے، کے ارد گرد اب تجربہ کار کھلاڑیوں کی ڈھال موجود ہوگی۔ اس کے علاوہ کے ایل راہل کی واپسی سے مڈل آرڈر کو بھی زبردست تقویت ملی ہے، جس سے بیٹنگ لائن اپ زیادہ متوازن نظر آ رہی ہے۔ٹیم کے لیے فوری ہدف ٹی-20 کی مایوسیوں کو پیچھے چھوڑ کر ون ڈے کرکٹ میں ایک شاندار آغاز کرنا ہے۔ اس سفر میں نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ سپورٹ اسٹاف کا کردار بھی اہم ہوگا، جنہیں کھلاڑیوں کے اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے بڑے اسٹیج کی طرف بڑھنے کے لیے ایک مضبوط مومینٹم بنانا ہوگا۔دوسری طرف، میزبان انگلینڈ کی ٹیم بھی خود کو ثابت کرنے کے لیے بے قرار ہے۔ اگرچہ انگلش ٹیم ٹی-20 فارمیٹ میں انتہائی خطرناک مانی جاتی ہے، لیکن ٹیسٹ اور ون ڈے میں ان کی حالیہ کارکردگی میں تسلسل کی واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ میزبان ٹیم 50 اوور کے اس فارمیٹ میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے میدان میں اترے گی اور انہیں امید ہوگی کہ اوپنر بین ڈکٹ ٹیم کو ایک جارحانہ اور مضبوط شروعات فراہم کریں۔ہندوستان کے لیے یہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم تیار کرنے کی سمت میں پہلا بڑا قدم ہے، جبکہ انگلینڈ کے لیے اس فارمیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی دھاک بٹھانے کا بہترین موقع ہے۔