میر شوکت
شہر اُس روز بھی ویسا ہی تھا جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔چوراہوں پر ہارن بج رہے تھے، دکانوں کے شٹر آدھے کھلے تھے، چائے کے کھوکھوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی اور اخبار فروش صبح کی نمی میں تازہ سرخیاں بانٹ رہے تھے۔ آسمان پر دھند کی ایک ہلکی تہہ تھی، جیسے رات ابھی پوری طرح رخصت نہ ہوئی ہو۔ لوگ اپنے اپنے معمولات میں گم تھے۔ کسی کو دفتر پہنچنے کی جلدی تھی، کوئی رکشے والے سے کرایے پر بحث کر رہا تھا، کوئی دودھ کے تھیلے ہاتھ میں لئے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔پھر اچانک اسکرینوں پر ایک چہرہ نمودار ہوا۔
آواز پُرسکون تھی، لہجہ مانوس، مگر الفاظ میں ایک ایسی لرزش تھی جو آہستہ آہستہ پورے ملک کی رگوں میں اترنے لگی۔ چند جملے بولے گئے اور یوں لگا جیسے پورے ملک کی جیبوں میں پڑے نوٹ اچانک اپنی شناخت کھو بیٹھے ہوں۔
پہلے لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔پھر موبائل فون بجنے لگے۔پھر بازاروں میں بھگدڑ سی مچ گئی۔ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک پورے شہر کی نبض تھام لی ہو۔
راتوں رات گھروں کے صندوق کھلنے لگے۔بوڑھی عورتیں لرزتے ہاتھوں سے بستر کی تہوں میں چھپائے نوٹ نکالنے لگیں۔ وہ نوٹ جو کسی بیماری، کسی حادثے، کسی بیٹی کی شادی یا کسی برے وقت کے لیے رکھ چھوڑے گئے تھے۔ مرد الماریوں کے خفیہ خانوں میں جھانکنے لگے، جیسے اپنی ہی زندگی کے رازوں کی تلاشی لے رہے ہوں۔
بینکوں کے باہر قطاریں اُگ آئیں۔ایسی قطاریں جو سڑکوں پر نہیں، انسانوں کی پیشانیوں پر لکھی ہوئی لگتی تھیں۔لمبی، خاموش، تھکی ہوئی قطاریں۔صبح کی ٹھنڈی دھند میں لوگ ہاتھوں میں پرانے نوٹ دبائے کھڑے تھے۔کسی کی آنکھوں میں نیند تھی، کسی کے چہرے پر فکر اور کسی کے ماتھے پر وہ خاموش خوف جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا۔ قطار میں کھڑا ہر شخص صرف پیسہ بدلوانے نہیں آیا تھا، وہ اپنی زندگی کے چند ٹکڑے بچانے آیا تھا۔مگر اس دوران اسکرینوں پر ایک اور منظر چل رہا تھا۔وہاں قوم سے قربانی مانگی جا رہی تھی۔
کہا جا رہا تھا کہ یہ ایک عظیم جنگ ہے، ایک صفائی ہے، ایک نیا سویرا ہےاور عجیب بات یہ تھی کہ اس پورے منظر میں سب سے زیادہ خاموش وہ لوگ تھے جن کی جیبیں سب سے ہلکی تھیں۔پھر وقت آگے بڑھا، مگر بازار کی سانس پوری طرح بحال نہ ہو سکی۔دکانیں کھلتی تھیں مگر خریداری کے ہاتھ کانپتے تھے۔ہر لین دین کے ساتھ ایک انجانا خدشہ جڑا رہتا تھا۔پھر ایک دن ایک اور لفظ پورے ملک پر اترا۔جی ایس ٹی۔لفظ چھوٹا تھا مگر اس کے پیچھے فائلوں، فارمز، کوڈز اور حسابوں کا ایک ایسا جنگل کھڑا تھا، جس میں چھوٹا دکاندار راستہ بھولنے لگا۔وہ شخص جو عمر بھر کپڑا ناپتا رہا تھا، اب کمپیوٹر اسکرین پر ٹیکس سلیب ڈھونڈ رہا تھا۔جو آدمی ساری زندگی مصالحے بیچتا رہا، وہ اب رات گئے تک انٹرنیٹ سگنل کے سامنے بیٹھا’’ریٹرن فائل‘‘ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔بازاروں میں اب بھی روشنی تھی، مگر اُس روشنی میں پہلے جیسی رونق نہ تھی۔یوں لگتا تھا جیسے دکانیں کھلی ہوں مگر تجارت کہیں اندر سے مرجھا گئی ہو۔پرانے بازاروں کی گلیوں میں، جہاں کبھی آوازیں گونجتی تھیں، اب کیلکولیٹر کی خشک بیپ سنائی دیتی تھی۔ سودا اب بھاؤ تاؤ سے کم، فارموں اور کوڈز سے زیادہ طے ہونے لگا تھا۔
پھر وقت نے ایک اور وار کیا۔ایک ایسا وار جس نے صرف معیشت نہیں، انسانوں کے اعصاب تک ہلا دیے۔شہر اچانک خاموش ہو گئے۔سڑکیں سنسان پڑ گئیں۔ریلوے اسٹیشنوں پر زنگ آلود خاموشی بیٹھ گئی۔ہوائی اڈے ویران ہو گئے۔لاک ڈاؤن۔لفظ مختصر تھا، مگر اس کے اندر پورا ملک قید تھا۔لوگ کھڑکیوں سے جھانکتے تھے جیسے دنیا اچانک کسی نامعلوم وبا نہیں، کسی نامعلوم خوف میں مبتلا ہو گئی ہو۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ ایسا سناٹا جس میں دور کہیں ایمبولینس کی آواز بھی کسی نوحے کی طرح سنائی دیتی تھی۔
مگر سب سے خوفناک منظر سڑکوں پر تھا۔وہ مزدور، جنہوں نے شہروں کی بلند عمارتیں تعمیر کی تھیں، اچانک انہی شہروں میں اجنبی ہو گئے۔کارخانے بند ہوئے تو اُن کے چولہے بجھ گئے۔کرایہ ختم ہوا تو چھتیں چھن گئیں۔پھر وہ نکل پڑے۔سینکڑوں میل لمبی سڑکوں پر۔پیدل۔بھوک کے ساتھ۔پیاس کے ساتھ۔بچوں کے ساتھ۔کوئی اپنے کندھے پر بچہ اٹھائے چل رہا تھا، جیسے مستقبل اب بوجھ بن گیا ہو۔کوئی بوڑھی ماں کو سائیکل پر بٹھائے دھکے دے رہا تھا۔
کسی عورت کے پیر چھل گئے تھے مگر وہ چل رہی تھی، کیونکہ رک جانا شاید مر جانے سے زیادہ خوفناک تھا۔دھوپ جل رہی تھی۔سڑکیں تپ رہی تھیںاور اُن سڑکوں پر انسان نہیں، پورا عہد ننگے پاؤں چل رہا تھا۔ادھر اسکرینوں پر ایک اور دنیا آباد تھی۔وہاں تالیاں تھیں۔تھالیاں تھیں۔موم بتیاں تھیں۔نعرے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے ملک ایک عظیم سانحے سے نہیں، ایک بہت بڑے اسٹیج شو سے گزر رہا ہو۔پھر وبا کی دھند کچھ کم ہوئی، مگر مہنگائی کا سورج پوری شدت سے نکل آیا۔پیٹرول مہنگا ہوا تو موٹر سائیکل سٹارٹ کرنے سے پہلے آدمی جیب ٹٹولنے لگا۔گیس سلنڈر اتنا قیمتی ہو گیا کہ چولہے کی آگ بھی امیروں کی عادت لگنے لگی اور پھر مشورے آنے لگے۔کم تیل استعمال کیجیے۔کم سونا خریدیے۔
کم خرچ کیجیے۔گویا مسئلہ معیشت نہیں، عوام کی خواہشیں تھیں۔یہ ایک عجیب منظر تھا۔جس ملک میں غریب عورت اپنی چوڑیوں کو آخری سہارا سمجھتی ہو، وہاں سونے سے پرہیز کا مشورہ دیا جا رہا تھا۔جس ملک میں نوجوان روزگار کے لیے شہروں کی خاک چھانتے ہوں، وہاں اُنہیں’’خود کفالت‘‘ کے لیکچر مل رہے تھےاور اس سارے منظر میں سب سے زیادہ پُراعتماد چیز نیوز چینل تھے۔وہ چیختے تھے۔مسکراتے تھے۔جشن مناتے تھے۔ایسا لگتا تھا جیسے ملک میں غربت نہیں، صرف’’منفی سوچ‘‘ موجود ہو۔
کبھی کبھی واقعی یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پورا ملک ایک بہت بڑے جہاز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ایک ایسا جہاز جس کے نچلے حصوں میں پانی بھرنا شروع ہو چکا ہو، مگر اوپر ڈیک پر آرکسٹرا پوری دلجمعی سے دھن بجا رہا ہو۔مسافر مختلف ہیں۔کچھ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ جہاز ناقابلِ غرق ہے۔کچھ کو پانی دکھائی دے رہا ہے مگر وہ خاموش ہیں۔
اور کچھ وہ ہیں جو صرف اپنے بچوں کو سینے سے لگائے کسی محفوظ کونے کی تلاش میں ہیں۔کپتان بار بار سامنے آتا ہے۔اُس کی آواز میں اعتماد ہے، لہجے میں استحکام، اور جملوں میں امید۔وہ کہتا ہے:سب ٹھیک ہے۔سب چنگا ہے۔جہاز محفوظ ہے۔منزل قریب ہے۔مگر نیچے کہیں انجن روم میں پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔لوہے کی دیواروں سے ٹکراتا ہوا۔آہستہ آہستہ۔بے آواز۔مگر بے رحم۔اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ جہاز ابھی مکمل نہیں ڈوبا، اس لیے جشن ابھی جاری ہے۔روشنی اب بھی موجود ہے۔موسیقی اب بھی بج رہی ہے۔تقریریں اب بھی ہو رہی ہیں۔مگر کہیں دور، سمندر کی تاریکی میں ایک سرد ہوا مسلسل یہ خبر لا رہی ہے کہ پانی صرف باہر نہیں رہا،اندر بھی داخل ہو چکا ہے۔
اور تاریخ جانتی ہے کہ جہاز باہر کے پانی سے نہیں ڈوبتے۔وہ اُس پانی سے ڈوبتے ہیںجو خاموشی سے اندر بھرنے لگتا ہے۔
[email protected]
�������������������������