مجیب الرحمٰن ہنر
اردو نثر کا ایک نہایت اہم، سنجیدہ اور اثر آفرین حصہ افسانہ ہے۔ افسانہ دراصل انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اُن تلخ و شیریں حقیقتوں کا بیان ہوتا ہے جن سے ہر فردِ بشر کو کسی نہ کسی مرحلے پر سابقہ پڑتا ہے۔ ایک سچا افسانہ نگار زندگی کے رطب و یابس کو محض واقعات کی صورت میں نہیں بلکہ الفاظ کا جامہ پہنا کر، کرداروں کے قالب میں ڈھال کر اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ قاری محض قاری نہیں رہتا بلکہ خود کو اسی زندگی، اسی سماج اور اسی کرب کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو قاری کے ذہن اور فکر میں دیرپا اثر چھوڑتی ہے اور بسا اوقات اس کی سوچ کا رخ متعین کر دیتی ہے۔
افسانے کی تعریف کے حوالے سے ناقدین اور اہلِ قلم نے مختلف آرا پیش کی ہیں۔ کسی کے نزدیک افسانہ وہ ہے جسے ایک نشست میں پڑھ لیا جائے، تو کسی کے نزدیک افسانہ وہ تحریر ہے جو طوالت کے باوجود اپنے اندر ایسی کشش، تجسس اور معنوی گہرائی رکھتی ہو کہ قاری آخری سطر تک بندھا رہے۔ ان تمام تعریفات کی روشنی میں افسانوی مجموعہ ’’گھٹن‘‘ پورا اترتا ہے۔ مصنف نے روایت اور جدید حسیت کے امتزاج کے ساتھ اپنے افسانوں کو اس طرح بُنا ہے کہ قاری نہ صرف سماجی سچائیوں سے دوچار ہوتا ہے بلکہ خود احتسابی پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
افسانہ’’ „گھٹن‘‘ کے مصنف سبزار احمد بٹ سے میری ملاقات حیدرآباد کے ایک ادبی سیمینار میں ہوئی، جہاں انہوں نے محبت و خلوص کے ساتھ اپنا افسانوی مجموعہ ہدیۃً پیش کیا۔ میں نے اسے سطر بہ سطر پڑھا۔ ایک کے بعد ایک عنوان کی کشش مجھے مطالعے پر آمادہ کرتی رہی، یہاں تک کہ میں نے پورا مجموعہ ختم کیا۔ مطالعے کے دوران ذہن میں جو فکری اور جذباتی کیفیات پیدا ہوئیں، میں نے انہی کو اس تبصرے کی صورت میں قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔
مجموعے کے عنوان ہی سے اس کے مزاج اور موضوع کا اندازہ ہو جاتا ہے۔’’ „گھٹن‘‘ دراصل اُس ماحول، اُس سماج اور اُس ذہنی کیفیت کی علامت ہے جہاں انسان سانس تو لے رہا ہے مگر زندگی کی تازگی اور سکون سے محروم ہے۔ اس مجموعے میں زندگی کی وہ تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں جہاں انسانیت بے سہارا نظر آتی ہے، سہارے کی تلاش تو ہے مگر ماحول ناسازگار ہے۔ اخلاقی قدریں دم توڑ رہی ہیں، فکری بگاڑ بڑھ رہا ہے اور نتیجتاً انسان، انسان کے لیے مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔چند افسانوی عنوانات پر مختصراً روشنی ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے: ’’پرانا گھر‘‘یہ افسانہ انسانی زندگی کی جدوجہد، خواہشات اور سماجی تبدیلی کا نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ ایک انسان عمر بھر کی محنت اور مشقت سے اپنے لیے ایک چھت تیار کرتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کی چمک دمک، ظاہری ترقی اور جدید سہولیات کی کشش اسے ایسے ماحول کی طرف کھینچ لاتی ہے جہاں آسائشیں تو ہیں مگر اپنائیت نہیں۔ یہاں زندگی اس قدر مصروف ہے کہ پڑوسی ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں۔ نظریں تو ملتی ہیں مگر دل نہیں ملتے۔ تعلقات رسمی ہیں اور رشتے محض نام کے رہ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ مرنے والے کو کندھا دینے والا بھی کوئی نہیں ملتا۔ ایسے میں منور رانا کا یہ شعر بے اختیار یاد آتا ہے:
تمہارے شہر میں اب کاندھا بھی نہیں دیتے لوگ ہمارے گاؤں میں چھپر بھی مل کر اٹھاتے ہیںمصنف نے اس افسانے کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ترقی اور سہولتیں اگر انسانی رشتوں کو کھوکھلا کر دیں تو وہ نعمت نہیں بلکہ زحمت بن جاتی ہیں۔ زندگی کی اصل معنویت باہمی تعلق، شناسائی اور احساسِ ذمہ داری میں مضمر ہے۔
’’کبوتر باز‘‘یہ افسانہ محض تخلیقی اظہار نہیں بلکہ ایک دردناک سماجی حقیقت کا نوحہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے اسے قلم سے نہیں بلکہ آنسوؤں کو روشنائی بنا کر تحریر کیا ہے۔ بظاہر کبوتر ایک استعارہ ہے، مگر اس استعارے کے پیچھے ظلم، سفاکی اور بے رحمی کی ایک خونی داستان چھپی ہوئی ہے۔ انسان، جسے خالق نے رحم و شفقت کی دولت عطا کی تھی، آخر کس طرح اس درجہ درندہ صفت ہو گیا؟ یہ افسانہ اس سوال کو پوری شدت کے ساتھ قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ سماج کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے، جسے پڑھنے کے لیے مضبوط اعصاب اور زندہ احساسات درکار ہیں۔
’’گدھ‘‘یہ افسانہ قاری کو اندر تک ہلا دیتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بیٹی کو عار سمجھا جاتا تھا اور بعض قبائل میں اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ آج اگرچہ شکل بدل گئی ہے، مگر ذہنیت کم و بیش وہی ہے۔ اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا، ماں کے قدموں تلے جنت رکھی، مگر ہمارا سماج اب بھی بیٹی کی عظمت کو تسلیم کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ایک باپ بیٹی کو ناز و نعم سے پالتا ہے، ماں اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے، مگر شادی کے وقت یہی بیٹی دولت کے پجاریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ افسانہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ہم نے ظاہری ترقی کے باوجود فکری طور پر جاہلیت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔
’’بہادر انکل‘‘یہ کردار تقریباً ہر معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ بظاہر ہمدرد، خیر خواہ اور شریف نظر آنے والا یہ شخص دراصل منافقت کی جیتی جاگتی تصویر ہوتا ہے۔ لبوں پر مسکراہٹ اور دل میں آگ، نہ خود سکون میں رہتا ہے نہ دوسروں کو چین سے جینے دیتا ہے۔ ایسے افراد نے معاشروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ افسانہ سماج کے ان چھپے ہوئے چہروں کو بے نقاب کرتا ہے۔
’’ماں ہوں نا‘‘یہ افسانہ ماں کی بے لوث محبت اور اولاد کی ناقدری کا دردناک مرقع ہے۔ ماں اپنی اولاد کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہے، مگر اولاد اکثر اس عظیم رشتے کی قدر نہیں کر پاتی۔ اولاد کتنی ہی نافرمان کیوں نہ ہو، ماں کی ممتا میں کمی نہیں آتی۔ مصنف نے اس افسانے میں نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں ماں کے احسانات اور اولاد کی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا ہے۔اس کے علاوہ ضمیر، آنچ، پاگل عورت، صلہ، ثبوت اور دیگر افسانے بھی زندگی کے مختلف سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ تمام افسانے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مصنف اپنے سماج، اپنی قوم اور اپنے عہد سے پوری طرح باخبر ہے۔ایک سچا ادیب اپنی قوم اور سماج کا آئینہ ہوتا ہے۔ سچ دکھانا اور سچ کہنا اس کا بنیادی فریضہ ہوتا ہے، اور افسانوی مجموعہ’’ „گھٹن‘‘ کے مصنف اس معیار پر پورا اترتا ہے۔ مصنف کا تعلق بھی ایسے خطے سے ہے جہاں جنت و دوزخ کے مناظر ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں، اسی لئے ان کے قلم میں جہاں پھولوں کی خوشبو ہے وہیں لہو کی سرخی بھی ہے۔ یہی تضاد ان کے افسانوں کو قوت اور تاثیر بخشتا ہے۔مجموعی طور پر ’’گھٹن‘‘ ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جو سیاسی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی تمام پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ افسانوں کی زبان سہل، رواں اور بامحاورہ ہے، تراکیب مناسب اور برمحل ہیں، اور الفاظ کا استعمال سلیقے سے کیا گیا ہے۔ البتہ بعض مقامات پر معمولی طباعتی اغلاط نظر آتی ہیں جو موجودہ دور کی تیز رفتار اشاعت میں قابلِ نظرانداز ہیں۔فاضل مصنف مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ یہ کتاب ان کے لیے باعثِ نجات ہو اور اردو افسانے کے سنجیدہ قارئین میں قدر و منزلت حاصل کرے۔
[email protected]