غافل تجھے گھڑ یا ل دیتا ہے یہ منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی
٭کلینڈر کی تاریخ
قدیم زمانے سے لوگ وقت کی گنتی کرتے آئے ہیں۔ پہلے ، وقت کو روشنی اور تاریکی سے جوڑ کر ناپا جاتا تھا۔ اُس کے بعد روشنی کو دن اور تاریکی کو رات سے جوڑ کر شب و روز کی بنیادوں پر حساب کتاب کیا جانے لگا۔ کھیتی باڑی چنانچہ انسانی زندگی کا سب سے قدیم مشغلہ رہا ہے، اور جس کا تعلق موسمی حالات سے بہت قریب کا ہے، اس لئے زمانے کی چلت پھرت نے انسانوں کو دن اور رات کے باری باری کے آنے میں ایک تسلسل سمجھنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ تسلسل اپنے مدار تک پہنچنے کے بعد جب ختم ہوتا ہے تو ایک اور ہو بہو تسلسل شروع ہوجاتا ہے۔ اس چیز نے انسانوںکو مختلف موسمی حالات سمجھنے کی راہ فراہم کی۔ یوں کلینڈر نے رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ شکل اختیار کرلی۔دنیا میں بہت سار ے اقسام کے کلینڈر پائے جاتے ہیں، جن کی خصوصیات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اور ہر ایک کلینڈر کے پیچھے اپنی ایک کہانی ہے۔
٭سال میں مختلف اہم ایام اور اُن کی غایت
اب دنیائے انسانیت نے اپنی تاریخ میں کئی سارے ایسے واقعات دیکھے ہیں جو کہ خصوصیت کے حامل ہیں۔ مثلاً، کسی خاص انسان کی پیدائش، کسی ملک کی آزادی، کسی کی موت وغیرہ۔ متعلقہ ایا م کو اِن واقعات سے جوڑا گیا ، یو ں ایسے دنوں کو بعد میں انہی واقعات کے تناطر میں منا یا جانے لگا ۔ اس سے آگے چل کر بیسوی صدی میں متعدد اقدامات اٹھائے گئے جن کے مطابق مختلف دنوں کو کئی ساری شقوں میں تفویض کیا گیا۔مختلف تنظیمات کی ایما پر یہ بھی کہا گیا کہ فلاں طبقہ مفلوک الحال ہے، فلاں انسان تعظیم کے لائق ہے، فلاں گروہ پس ماندہ ہے، اس لئے اُن کی یاداشت میں ایک دن مقرر کیا جائے ۔ اُس دن خوب انہماک سے موقع کی مناسبت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف پروگرامات کاانعقاد کیا جائے گا اور اُس دن کے تئیں جانکاری بڑھائی جائے ۔لیکن باقی ماندہ دنوں میں اُن گرہوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ ایک الگ موضوع ہے۔ غو رکرنے کے لائق یہ بات ہے کہ ایسے دن ہمیں کیوں منانے پڑتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے، چنانچہ متعلقہ گرہوں کے ساتھ ناانصافیاں ہر روز انجام پاتی ہے اور دنیائے انسانیت کو انہیں یاد رکھنے کی فرصت نہیں، اس لئے ایک دن مقرر کر کے الگ سے انہیں یاد رکھنے کی ضرورت پڑگئی ۔
٭ اسلامی نقطہ نظر
اس کے برعکس اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آپ کے لئے ہر دن انصاف و برابری کاہونا چا ہے۔ مسلمان کو کسی بھی وقت کسی پر ظلم و ناانصافیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مفلوک الحال انسانوں کی خدمت گذاری ہر صاحب استطاعت انسان پر فرض ہے۔ اسلامی ریاست کی خاص ذمہ داری ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی قرض میں نہ ڈھوبے، نادارں و غریبوں کی دست گیری کی جائے، والدین کے حقوق کے تئیں خاص اقدامات اٹھائے جائیں، ہر ایک کو عزت ملے اور ہر کسی کو اپنا حق بہم پہنچے۔ یوں اسلامی ریاست میں ایسے دن منانے دن کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
٭ مختلف ایام کے حوالے سے تہوارو ں کی موجودہ صورتحال
جیسا کہ تذکرہ کیا گیا کہ انسانی تاریخ میں واقعی کچھ دن اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن بعد کے انسانوں نے اُن دنوں سے سبق حاصل کرنے کے بجائے رنگ رلیاں اور میلے منانے شروع کئے۔ ایسے کئی سارے دن دنیا کے اکثر ممالک میں مذہبی و روایتی طور پر بھی منائے جاتے ہیں۔ اُن دنوں اکثر فضول ، لغویات، بے جا اور لایعنی مشغلے انجام پاتے ہیں۔ جن شخصیات وواقعات کے نذرانہ عقیدت میں دن منایا جاتا ہے، اُن کی تعلیمات کو اِنہی دنوں میں پائوں تلے روند دیا جاتا ہے۔
٭اسلامی تہواروں کو منانے کی شرعی حیثیت
اسلام میں دو دن ایسے ہیں جو کہ مسلمانوںکے لئے واقعی خوشی منانے کے ہیں، اور جن کو منانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ ایک عیدالفطر، دوسرا عیدا لضحیٰ۔ عید الفطر اسلامی کلینڈر کے مطابق شوال کے پہلے دن منائی جاتی ہے۔اسی طرح کا فلسفہ لیلتہ القدر اور حج بیت اللہ کی رسوم میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے ایک اصول اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اب اگر کسی دن کو کسی خاص واقع سے منسوب کیا جائے، تو بہتر ہے کہ فضولیات اور لغویات سے اجتناب کرکے اُس واقع کی اہمیت کو ہی بیان کیا جائے اور وہاں سے سبق حاصل کرنے کے بعد اسے اپنی زندگی میں عملانے کی کوشش کی جائے ۔ اس میں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کس دن کو شرعی حیثیت حاصل ہے ، کس کو مباح قرار دیا جاسکتا ہے اور کون سا دن منانا بدعت ہوگا۔
٭نئے سال منانے کی روایت
مختلف کلینڈرز کے پہلے دن کو بڑے ہی شاندار انداز میں منایا جاتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو قدیم زمانے سے چلتا آرہا ہے۔ قدیم مصر میں نیا سال دریائے نیل میں سالانہ سیلاب کے آنے پر منایا جاتا تھا، جو کہ ایک خاص ستارے کے طلوع ہونے سے مطابقت رکھتا تھا ۔ اسی طرح سے فارس کے لوگ نئے سال کو بہار کی آمد میں، یونان کے سرما کی آمد میں منایا کرتے تھے۔ اب سال کے پہلے دن پر منحصر ہے کہ اس کے پس منظر میں کون سی کہانی ہے۔ کہانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نئے سال کو اختیار کرنے کا جوا ز یا عدم جواز نکالا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جنوری کی پہلی تاریخ کو عیسوی کلینڈر کے حساب سے سال کا پہلے دن مانا جاتا ہے اور یہ بارہ مہینوں کا سال ہوتا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق ۴۵؍ ق م میں یونان کے بادشاہ جو لین سیسار نے یونانی کلینڈر کے اندر اصلاحات لانے کی کوشش کی۔ لیکن جولین کلینڈر میں رہ گئی خامیوں کو تیرویں پو پ گریگوری نے ۱۵۸۲ ء ،میں ٹھیک کر کے لاگو کر دیا۔ گریگوری کلینڈر کے اندر لائی گئی اصلاحات کا مقصد سال کے کلینڈر کو موسموں کے بدلائو کے مطابق رکھنا تھا۔ انہی اصلاحات کی رُو سے جنوری کی پہلی تاریخ کو اب سال کا پہلا دن مانا جاتا ہے اور ہر چار سال کے بعد سال فروری کے مہینے کو ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اِسے عرف عام میں شمسی کلینڈر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کلینڈر دنیا کے تقریباً ہر علاقے میں رائج العمل ہے۔
٭نیا سال منانے کا معقول طریقہ
ہونا تو یہ چاہے کہ مسلمان سورۃ توبہ (۳۶:۹) میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ۱۲؍ مہینو ں کو ساتھ لے کر اپنے وقت کی ناپ تول کر لیتے، لیکن موجودہ حالت میں اگر مسلمان ایسا کرلیں گے تو وہ باقی دنیا سے کٹ جائیں گے۔ حالانکہ حضرت عمر ؓ کی طرف سے قائم کردہ اس ہجری کلینڈر کے اندر ایک ہمہ گیری اور ہمہ جہتی ہے، جس کا حساب لگانا دنیا کے ہر علاقے میں بسنے والے انسان کے لئے آسان ہے۔۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے باقی دنیا کے ساتھ چلنے کے حوالے سے شمسی کیلنڈر کو اختیار کرنے میں اس طرح سے کوئی قباحت نہیں ہے۔’’اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانَا(انعام ،۶:۹۶)۔ حُسْبَانَا بالضم مصدر ہے اور حساب کرنے اور شمار کرنے کے معنیٰ میں آتا ہے، اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ تعالی نے آفتاب و ماہتاب کے طلوع و غروب اور ان کی رفتار کو ایک خاص حساب سے رکھا ہے جس کے ذریعے انسان سالوں، مہینوں، دنوں اور گھنٹوں کا ؛ بل کہ منٹوں اور سکنڈوں کا حساب بآسانی لگا سکتا ہے۔۔ یہ اللہ جل شانہ ہی کی قدرت قاہرہ کا عمل ہے کہ ان عظیم الشان نورانی کروں اور ان کی حرکات کو ایسے مستحکم اور مضبوط انداز سے رکھا کہ سیکنڈ کا فرق نہیں آتا، یہ دونوں نور کے کرے اپنے اپنے دائرے میں ایک معین رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں؛لَا الشَّمْسِ یَنبَغِی لَھَا اَنْ تُدْرَکَ الْقَمَرَوَ لَ الَّیْلِ سَابِقُ النَّھَار(نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سفقت لے جاسکتی ہے)، ہزاروں سال میں بھی ان کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ قرآن کریم کے اس ارشاد نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ سالوں اور مہینوں کا حساب شمسی بھی ہوسکتا ہے اور قمری بھی ۔دونوں ہی اللہ کے انعامات ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ عام اَن پڑھ دنیا کی سہولت اور ان کو حساب کتاب کی الجھن سے بچانے کے لیے اسلامی احکام میں قمری سن و سال استعمال کیے گئے اور چوں کہ اسلامی تاریخ اور اسلامی احکام سب کا مدار قمری حساب پر ہے؛ اس لیے امت پر فرض ہے کہ وہ اس حسا ب کو باقی رکھے۔ دوسرے حسابات شمسی وغیرہ اگر کسی ضرورت سے اختیار کیے جائیں تو کوئی گناہ نہیں ؛ لیکن قمری حسابات کو بالکل نظر انداز اور محو کر دینا گناہ عظیم ہے جس سے انسان کو یہ بھی خبر نہ رہے کہ رمضان کب آئے گا اور ذی الحجہ اور محرم کب ‘‘ (معار ف القرآن، ۴۰۳، ۴۰۲:۳)۔ حضرت تھانوی ؒ اس حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’ چونکہ احکام شریعت کا مدار حساب قمری پر ہے، اس لیے اگر ساری امت دوسری اصطلاح کو اپنا معمول بنالے جس سے حساب قمری ضائع ہوجائے تو سب گنہگار ہوں گے اور اگر وہ محفوظ رہے تو دوسرے حساب کا استعمال بھی مباح ہے، لیکن سنت سلف کے خلاف ضرور ہے اور حساب قمری کا برتنا بوجہ اس کے فرض کفایہ ہونے کے لابُد افضل و احسن ہے‘‘(ماخوذ از بیان القرآن)۔ اس لیے اس بات کو قطعی گوارہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ہم قمری تاریخ کو یکسر فراموش کریں۔
یہ بات صحیح ہے کہ مغربی تہذیب شمسی سال کے پہلے د ن کو بڑے ہی ناز و نخروں سے مناتی ہے اور جس طرز عمل کو اختیار کرنا کسی مسلمان کے لئے شایان شان نہیں ہو سکتا ۔د نیا کے متعدد حصوں میں سال کے پہلے دن جو رنگ رلیاں، فحش گوئیاں، ناچ نغمے اور آتش بازیاں کی جاتی ہیں وہ سراسر ایک فضول و لایعنی عمل ہے، جس سے ہر مسلمان کا بچنا ضروری ہے ، کیوں کہ کہ ’’ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اسے انہی میں شمار کیا جائے گا ‘‘(ابو دائود ) ۔ بنی ﷺ کا فرمان ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں سے بچے (ترمذی )۔ لیکن اس بات پر خوشی محسوس کرنا کہ اللہ نے مسلمان کو ایک اور سال مرحمت فرمادیا ، تو اس میں بھی کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ ایسے موقعے اصل میں انسان کو خاص کر مسلمان کے لئے سبق حاصل کرنے کے لیے ہونے چاہیں کہ میری زندگی کا ایک اور قیمتی سال چلا گیا، میری موت کا وقت قریب آرہا ہے، میں اپنی آخرت کے لئے کس سامان کو تیار رکھے ہوئے ہوں،اور میں نے اس دنیا میں کون سے نقوش چھوڑے ہیں۔ اپنا محاسبہ کرنے کے بعد مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی ایسے کام کا ارتکارب نہ کر بیٹھے جس سے کہ اُس کا رب ناخوش ہوجائے۔ اس سلسلے میں نبی مہربان ﷺ کا فرمان ہے کہ’’تم اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارحساب کیا جائے ‘‘(ترمذی ) ۔ اب اگر انسان نے اللہ کو ناراض کرنے کے اعمال کئے ہیں اُن کی مغفرب طلب کرکے آگے کا لائحہ عمل اللہ کی مرضی کے مطابق مرتب کرلے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جان لو ؛ (۱) اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (۲) اپنی صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے (۳) اپنی مالداری کو فقرو فاقے سے پہلے (۴) اپنے خالی اوقات کو مشغولیت سے پہلے ، اور (۵) اپنی زندگی کو موت سے پہلے ‘‘(مشکاۃ المصابیح )۔ اس طرح سے اِن جیسے دنوں (سال کا پہلا دن، جنم دن، وغیرہ ) کے اندر دعائیں کرنے یا دعائیں دینے، اپنا محاسبہ کرنے، اپنے پچھلی زندگی کا محاسبہ کرنے میں کوئی قباحت نہیںہے، بلکہ قباحت اُن کاموں میں ہے جو لایعنی ہیں یا جن کے اندر اصراف ہو۔ جس طرح سے صبح و شام کے اوقات میں مسلمانوں کو دعائیں سیکھائی گئی ہیں ، اسی طرح صحابہؓ سال ختم ہونے پر اللہ کی جناب میں دعا کرتے تھے الھم الدخلہ علینا بالامن والایمان ، ولسلامۃ و الاسلام ، ورضوان من الرحمن ، و جواز من الشیطان ’’ اے اللہ ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی، اور اسلام کے ساتھ داخل فرما، شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطا فرما ‘‘ (طبرانی )۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر میں شعبہ سوشل ورک کے محقق ہیں)
برقی پتہ۔[email protected]
فون نمبر۔9622939998