ڈاکٹر عریف جامعی
لحظہ ہو یا ساعہ، لمحہ ہو یا دقیقہ، ایام ہوں یا پھر ماہ و سال، یہ سب مجموعی طور پر اس وقت کی تقسیمات ہیں جو باقی تخلیقات کی طرح اللہ رب العزت کی تخلیق ہے۔ کائنات کے مختلف مقامات (یہاں ان سے مراد مختلف اجرام فلکی ہیں) پر وقت کی تقسیم بالکل مختلف ہے۔ قرآن نے بھی اس فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’عصر‘‘ اور ’’دھر‘‘ کی ترکیبات استعمال کی ہیں۔ نظریہ اضافیت یعنی تھیوری آف رلیٹیوٹی سے بھی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ’’مکان‘‘ (پلیس) کی تبدیلی سے ’’زمان‘‘(وقت) کے اندازوں میں بھی تغیر واقع ہوجاتا ہے۔
قرآن نے چاند کے گھٹنے اور بڑھنے (یعنی اس کی گردش) کو انسان کے لئے اس لئے ضروری قرار دیا ہے کہ اس کے ذریعے وہ وقت کا حساب کتاب (عدد سنین والحساب) رکھتا ہے۔ یعنی ایک طرف مختلف مقامات پر وقت کی تقسیم مختلف ہوتی ہے اور دوسری طرف انسان مجبور محض ہے کہ اسی قدرتی تقسیم کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے اپنے اوقات کار کی تقسیم اور تنظیم کرے۔ تاہم اللہ تعالی کی قادر مطلق ذات اس تقسیم سے مبرا اور منزہ ہے، کیونکہ ایک تو یہ تقسم اسی کی پیدا کردہ ہے اور دوسرا اس سے مخلوقات کی محدوددیت واضح ہوجاتی ہے۔وقت کی اسی تقسیم سے ماضی، حال اور مستقبل وجود میں آجاتے ہیں۔ تاہم ذات خداوندی کے لئے وقت مجموعی طور پر ’’حال ہی حال‘‘ ہے، کیونکہ اس کی ذات والا صفات ازلی اور ابدی ہے، جس میں کوئی تغیر واقع ہوتا ہے اور نہ کوئی تبدل۔ جہاں تک مخلوقات کا تعلق ہے تو انہیں وقت (زمان، ٹائم)، جگہ (مکان، پلیس) اور مادہ (میٹر) کے ساتھ اس طرح متعلق کیا گیا ہے کہ وہ انہی کے اندر اپنا محل (لوکس) پیدا کرکے اپنے ’’ہونے‘‘ (اگزسٹنس) کا اظہار کرتی ہیں اور انہی میں اپنے نقوش چھوڑتی ہیں۔ وقت کے ساتھ انسان کے “ہونے” کے تعلق کو غالب کا مشہور زمانہ شعر خوب واضح کرتا ہے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اب چاہے رین ڈیکارٹ کا اصول ’’کوگیٹو، ارگو سم‘‘ (یعنی میں سوچتا ہوں، اس لئے میں ہوں) کو مانا جائے یا دوسرا اصول ’’ولو، ارگو سم‘‘(یعنی میں ارادہ کرتا ہوں، اس لئے میں ہوں) کی پاسداری کی جائے، دونوں صورتوں میں انسان کا ’’ہونا‘‘ بہرحال مسلم ہے۔ اب جیسا کہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ انسان (یا مخلوقات) کا ہونا زمان، مکان اور مادے کے اندر ظاہر ہوتا ہے، اس لئے انسان کو کسی نہ کسی طرح وقت کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ اکثر و بیشتر انسان اس پر بھی مجبور ہوجاتا ہے کہ وقت کی قدرتی تقسیم کے اندر اپنی ایک ’’مصنوعی‘‘ تقسیم بھی کرے، تاکہ وہ اپنی مہلت زندگی ایک منصوبہ بند طریقے پر ترتیب دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں کے تجربات سے وقت کی فعالیت کے متعلق کئی دلچسپ ضرب الامثال وجود میں آئے ہیں، جیسے : الوقت کالسیف، فان لم قطعہ، قطعک
یعنی وقت تلوار کی طرح ہے، اگر آپ اس سے نہیں کاٹیں گے، تو یہ آپ کو ضرور کاٹے گا۔یا
یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد
یعنی میں ایک لحظہ کے لئے غافل ہوگیا اور سو سال کا فاصلہ (راستہ) دور ہوگیا۔
اب ظاہر ہے کہ انسان وقت کی تقسیم کے مطابق ہی کار زندگی کی تنظیم کرکے زندگی کو خوب سے خوب تر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تناظر میں انسان ضرور یہ کوشش کرتا ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں انجام پانے والی کارگزاریوں کا جائزہ لے۔ یہیں سے انسان کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ نیا سال شروع ہونے کے موقعے کو ’’محسوس‘‘ کیا جائے یا بالفاظ دیگر اس کو ’’منایا‘‘جائے یا اس موقعے پر کسی نہ کسی طرح خوشی کا اظہار کیا جائے۔ یہاں پر یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ محسوس کرنا، منانا یا خوشی کا اظہار کرنا قطعاً یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کسی تقریب کا اہتمام کیا جائے۔ ویسے معاشرتی تقریب یا محفل کو منانے کی اپنی اہمیت ہے، بشرطیکہ اس میں کسی فحش یا شرکیہ حرکت سے اجتناب کیا جائے۔تاہم ہمارے معاشرے میں سال نو کو منانے سے متعلق کئی رویے پائے جاتے ہیں۔ ان رویوں کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ معاشرے میں اس سلسلے میں ایک خاص قسم کی تقسیم پائی جاتی ہے۔ ایک رویہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں کو کسی قسم کی اہمیت نہیں دینا چاہئے۔ ایسے اشخاص زندگی کو ایک لگے بندھے طریقے پر گزارتے ہیں اور اس طرح ان کی زندگی کسی قسم کے تنوع سے عاری رہتی ہے۔ دوسرا رویہ اس پہلے والے رویے سے بالکل مختلف ہے۔ اس رویے کو اپنانے والے ایسے مواقع کو بھر پور انداز میں منانے کے روادار ہوتے ہیں۔ تاہم اس رویے کو اپناتے ہوئے مختلف معاشرتی روایات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس طرح ان رویوں کو اپنانے والے اکثر و بیشر افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ان دونوں رویوں کے بالکل درمیان اعتدال پر مبنی ایک رویہ ہے جہاں نہ تو ان مواقع کی اہمیت کی بالکل نفی کی جاتی ہے اور نہ ہی اس اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے یہ مواقع انسان کے سر پر سوار ہوجاتے ہیں۔ اس رویے میں دراصل وقت کے کسی خاص موڑ پر پہنچ کر انسان اپنے ماضی پر غور و فکر کرکے اپنے مستقبل کو سنوارنے کا ایک تصور قائم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ چونکہ یہ رویہ اعتدال اور اقتصاد پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے اس کے ذریعے ماضی کے پچھتاوے سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مستقبل کے اندیشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے وقت (سال ہو یا دہائی) کے لئے منصوبے بناکر نئے اہداف کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ رویہ تغافل پر مبنی ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے جشن منانے کا روادار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ رویہ انسان کو احتساب خویش کا عادی بنادیتا ہے۔ چونکہ حساس طبیعتیں ہی یہ رویہ اپناتی ہیں، اس لئے یہ ’’اس سے پہلے کہ ان سے حساب لیا جائے، خود اپنے محتسب بن جاتے ہیں،‘‘ یعنی یہ اس ضرب المثل (جس کو سیدنا عمر کا ایک قول بھی قرار دیا جاتا ہے) کا عملی نمونہ بن جاتے ہیں: ’’حاسبوا قبل ان تحاسبوا۔‘‘
یہاں ہماری مراد نئے سال کا موقع منانے کی حمایت کرنا ہے اور نہ ہی اس کی مخالفت، کیونکہ اس باپت علماء ہی کوئی رائے دے سکتے ہیں۔ تاہم مطالعہ سیرت سے ہمیں اس بات کا اچھا خاصا اندازہ ہوجاتا ہے کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص خاص مواقع پر اللہ تعالی سے خاص انداز میں دعا فرماتے تھے۔ مثال کے طور پر نیا چاند (ہلال) دیکھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے: ’’اے اللہ، تو اس کو ہمارے اوپر امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال۔ (اے چاند) اللہ ہی میرا رب ہے اور اللہ ہی تیرا رب ہے۔ میں اللہ پر ایمان لایا جس نے تجھ کو پیدا کیا ہے۔ اللہ اکبر، بھلائی کا چاند اور ہدایت کا چاند۔‘‘ ظاہر ہے کہ حساس طبیعت انسان ہمیشہ ان مخلوقات کے ساتھ اپنی قدر مشترک ڈھونڈنے کی سعی کرے گا جو وقت کے تغیر اور تبدل کو ظاہر کرتی ہوں۔ چونکہ دونوں اللہ تعالی کی مخلوق ہیں، اس لئے دونوں کا رب کائنات کے ساتھ ایک جیسا تعلق ہے، یعنی دونوں کی سلامتی کا دارومدار اللہ رب العالمین کی ذات پر ہے۔ ایسا انسان جزوی یا دنیاوی سلامتی کے ساتھ ساتھ حقیقی سلامتی یعنی ہدایت، ایمان اور اسلام کے لئے خدا کے سامنے دست سوال دراز کرے گا۔ واضح ہوا کہ نئے سال کی آمد کے موقعے پر اس طرح کا رد عمل دکھانا بجا ہونے کے ساتھ ساتھ خیروبرکت کا بھی باعث بنے گا۔
اب اگر انسان اپنا بے کم و کاست حساب نہ کرتا رہے تو اس کا وقت ایسے گزر جائے گا کہ اسے اپنے آپ کو سدھارنے کا کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔ اس صورت میں انسان کچھ اس طرح بیجا کاموں میں الجھا رہے گا کہ وہ اچانک اپنے آپ کو قبر کے دہانے پر پائے گا۔ انسانیت کی اسی مجموعی صورتحال کو سورہ العصر میں ’’زمانے (وقت) کو گواہ بناکر‘‘اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ’’بے شک انسان خسارے میں ہے۔‘‘ وقت کی اسی تیز رفتار کو سمجھانے کے لئے امام شافعی (رح) نے برف فروش کی مثال دی ہے جو زور زور سے پکار رہا تھا کہ ’’اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے۔‘‘ ظاہر ہے وقت کی کاٹ ایسی تیز ہے کہ ہر انسان اس سے اسی صورت میں بچ سکتا ہے جب وہ وقت کی اس رفتار کو ہر آن مدنظر رکھتے ہوئے اپنا لائحہ عمل بناتا رہے۔اس طرح سال نو کی آمد ہمارے لئے ایک بیش بہا موقعہ فراہم کرتی ہے جس سے ہم سال گزشتہ میں سرزد ہوئی کوتاہیوں سے سال نو میں دور رہنے کا عزم کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان عزم ہی کرسکتا ہے اور اس کے بعد قرآنی اصول ’’فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ‘‘پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آگے بڑھ سکتا ہے۔ دراصل وقت کی مختصر گھڑیوں میں کیا جانے والا تدبر اور تفکر ہی وقت کی لمبی مدتوں (سال، دہائی، صدی، وغیرہ) میں انسان اور انسانیت کو کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار کراسکتا ہے۔ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’عقلمند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں۔ ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کررہا ہو، اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لئے وقت نکالے۔‘‘(ابن حبان)
رابطہ9858471965
[email protected]