عصر ِ حاضر کا ہر فردِ بشر اس حقیقت سے باخبر ہے کہ موجودہ زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کےانقلاب کا ہے،وقفہ وقفہ کے بعد اس کائنات کے چُھپے راز منکشف ہو رہے ہیں اورآئے روز اظہارِ دنیا کے تناظربھی بدل رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں پنپنے کے لئےہر قوم کے اپنے انداز ہوتے ہیںاور کسی بھی علمی انقلاب کے زمانے میں پنپنے کے لئےہر قسم کے جتن کرتے ہیں۔ یورپ اورترقی یافتہ ممالک ہر معاملے میں ترقی پانے اور آگے بڑھنے کی ہر ممکن کوششوں میںجُٹے ہوئے ہیں۔لیکن ہم ہیں کہ بس تماشا ئی بنے بیٹھے ہیں۔ذرا غور کریں کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اِس انقلابی دور میں ہمارے قوم کی نسلِ نو کیا کررہی ہے اور اُس کاکردارکیا ہے ؟ کافی وقت گزر گیا ہےپھر بھی ہم متحرک نہیںہو رہےہیں۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب دنیا ہر اصول اور جدت کےلئے ہمارے اسلاف کی طرف دیکھتی تھی،مگر آج گلوبل آڈر کی ترقی میں کہیں بھی ہمارا کوئی واضح کردار نظر نہیںآرہا ہے۔بے شک نسل ِانسانی میں جتنی بھی جدت اور انقلاب آئے ہیں، اُن کے پیچھے ہر طبقہ کے افراد کی فکر کا رفر ما رہی ہے۔ہر اقوام کی نسلِ نو اپنے خوبواں کو پورا کرنے کےلئے اپنے مستقبل کا انتخاب خودکرتے ہیں،اپنی علمی قابلیت اور صلاحیت بڑھا کر کم عمری میں ہی اس کے مطلوبہ معیارات سے روشناس ہو جاتے ہیں،لیکن ہماری نسل نو کی زیادہ تر تعداد ا بھی تک اپنے رویے ،کامیابی کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہورہی ہےاور نہ ہی حالات کے پیش ِ نظراپنی کیفیت اور اندازِ فکر بدل رہی ہے بلکہ ہر وقت ایک ہی ذہنی حالت میں رہ کر اپنے دماغ میں غیر سنجیدہ خیالات کو بسائے رہتی ہےاور بے مقصد آرزؤں کے سحر میں مبتلا اپنی ذہنی سوچ اور نقطۂ نظر نہیں بدل رہی ہے۔جس کے نتیجے میںوہ علم ِعر فان کی عدم موجودگی میں علمِ محسوسات اور ادراک ِ تعمیر کی بجائے تخریب کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اقوام عالم اپنی نسلوں کی علم و دانش کی پختگی اور تربیت جن خطوط پر کر رہی ہے، قابلیت کے اعتبار سے اُن میں اور ہمارے بچوں میں ایک واضح فرق نظر آرہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں پہلی سٹیج سے آگے جا کر دماغی قوت اور صلاحیت کے بڑھانے کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً آبادی کے بیشتر حصہ کامقدر فیصلہ ساز پالیسی بنانے والے بااختیار ایگزیکٹو ٹائپ پوزیشن کی بجائے محض مشقت و مزدوری اور کلیریکل ٹائپ ملازمت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ہمارے نوجوا ن یورپ اور امریکہ کے مادی اور پُر تعیش طرزِ زندگی کے سحر میں مبتلا ہیں اور ماڈرن ازم کے نام پر اپنی اقدار کو فرسودہ قرار دیتے ہیں، اُن کی توجہ صرف ماڈرن ازم کے آزاد خیال طرز عمل پر ہوتی ہے،جبکہ وہ مارڈن ازم کی اصل خصوصیات سے نا آشنا نظر آتے ہیں۔ جیسے علم، فن، ہنر، ایجاد، ریسرچ، ٹیکنالوجی اور ترقی کے آداب و اطوار وغیرہ۔ لہٰذا ترقی یافتہ دنیا سے بے حیائی اور عارضی بد نمامادی تخیلات قبول کرنے کی بجائے اُن کی ترقی کے وہ بنیادی اصول اپنا نے کی ضرورت ہے جن پہ کاربند ہوکر اُنہوں نے زمانے کا رُخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔یا د رکھیں،فطرت منصفانہ ہے بلاوجہ کسی قوم کے سرپر حکمرانی کا تاج نہیں سجاتی۔ اپنے آپ کو اس قابل بنانا پڑتا ہے کہ نظام ِعالم کا بوجھ اُٹھا سکیں۔ دنیا کے لئے طب و طبیعیات ، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم و تربیت، قانون و نظامِ معاشرت، حکمرانی و انتظامی امور، سیاست و سفارت، ثقافت و صحافت الغرض بنی نوع انسان کے لئے روئے زمین پر ایک منصفانہ اور ترقی پسند نظام واضع کرنے کی استطاعت ہوں۔ عروج کسی ایک پہلو میں ترقی کرنے سے نہیں آتا،قوم کے معماروں کو بیک وقت ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنا لوہا منوانا پڑتا ہے اور اپنا مزاج و اطوار، نقطۂ نظر و ذہنی حالت، نفسیات و رویے، معیارات و انداز اور ترجیحات بدلنا پڑتی ہیں۔ اپنے بنیادی عقائد ونظریات اور روایات و فلسفہ حیات پہ قائم رہتے ہوئے رونما ہونے والی مثبت تبد یلیوں کو خوش اسلوبی سے قبول کرنا پڑتاہے۔ اس کے بعد تفکر اور تحقیق کے سمندر میں غوطہ زن ہو کرموجودہ اور ممکنہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے، پھر دیر پا خوش حالی اور پائید ار ترقی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔