نجیب الرحمن خان
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں زکوٰۃ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع معاشی نظام ہے جو معاشرے میں انصاف، مساوات اور سماجی فلاح کو فروغ دیتا ہے۔’’زکوٰۃ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ’’پاکیزگی، نشوونما اور بڑھوتری ‘‘کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں ’’زکوٰۃ اس مقررہ مال کو کہتے ہیں جو صاحبِ نصاب مسلمان اپنے مال میں سے ایک مخصوص مقدار کے طور پر مستحق افراد کو ادا کرتا ہے‘‘۔ ’’عام طور پر زکوٰۃ کی مقدار مال کا چالیسواں حصہ (2.5 فیصد) ہوتی ہے۔‘‘اس طرح زکوٰۃ کا مقصد دولت کی منصفانہ تقسیم اور معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کرنا ہے۔قرآنِ مجید میں زکوٰۃ کا ذکر تقریباً 32 مرتبہ آیا ہے اور اکثر جگہوں پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام میں اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق کی ادائیگی بھی نہایت اہم ہے۔ نماز اللہ سے تعلق کو مضبوط کرتی ہے جبکہ زکوٰۃ بندوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
آج کی دنیا میں غربت اور معاشی عدم مساوات ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ World Bank کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 کروڑ افراد یعنی عالمی آبادی کے لگ بھگ 8 سے 9 فیصد لوگ اب بھی شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں اور روزانہ 2.15 ڈالر سے کم پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں اور معاشی عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔’’اوکسفیم ‘‘کی عدم مساوات سے متعلق رپورٹ کے مطابق نئی عالمی دولت کا بڑا حصہ صرف ایک فیصد امیر ترین افراد کے پاس جا رہا ہے، جبکہ اربوں لوگ اب بھی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام کا نظامِ زکوٰۃ ایک متوازن اور مؤثر معاشی حل پیش کرتا ہے۔زکوٰۃ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ دولت کی گردش کو یقینی بناتی ہے۔ جب صاحبِ نصاب افراد اپنے مال کا ایک حصہ زکوٰۃ کے طور پر ادا کرتے ہیں تو وہ دولت معاشرے کے ضرورت مند افراد تک پہنچتی ہے۔ اس طرح غریب اور کمزور طبقات کو مالی سہارا ملتا ہے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دولت کی منصفانہ تقسیم کسی بھی معاشرے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔قرآن مجید میں زکوٰۃ کے مستحق افراد کے 8 مدوں کی واضح فہرست بیان کی گئی ہے۔ سورہ توبہ کی آیت 60 کے مطابق ’’ یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور اُن کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھُڑانے اور قرضداروں کی مدد کرنے میں اور راہِ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لئے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے ۔‘‘اس سے واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا نظام معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دینے اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
زکوٰۃ کے روحانی اور سماجی فوائد بھی بہت اہم ہیں۔ یہ انسان کے مال کو پاک کرتی ہے اور اس میں برکت پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارے کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ جب امیر طبقہ اپنی دولت کا ایک حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کرتا ہے تو اس سے معاشرے میں باہمی اعتماد اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان زکوٰۃ کو صرف ایک رسمی عبادت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے معاشرتی اور معاشی اثرات کو بھی سمجھیں۔ اگر زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کو صحیح روح کے ساتھ نافذ کیا جائے تو معاشرے میں غربت کے خاتمے اور معاشی انصاف کے قیام میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
(رابطہ۔9657233166)
[email protected]
��