فکر انگیز
صوفیہ بانو
اسلام میں جس عمل پر نماز کے بعد سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ زکوۃ ہے ، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کر نا ۔ زکوۃ سے متعلق قرآن کریم میں ۸۲ مر تبہ اس کی تاکیدی حکم ہے کہ زکوۃ ادا کر و۔ زکوۃ نہ صرف امتِ محمدیہ پر فرض ہے بلکہ اس سے پہلے بھی تمام امتوں پر زکوۃ فرض تھی ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے زکوۃ دینے والوں کو سچا مومن قرار دیا ہے ۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زکوۃ ادا کر نے والے لوگ قیامت کے دن ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ رہیںگے ۔ زکوۃ ادا کر نے سے نہ صرف گناہ معاف ہو تے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے زکوۃ ادا کر نے والے کے مال میں اضافہ کر نے کا وعدہ بھی کر رکھا ہے اور جو لوگ زکوۃ کی رقم مار کر خود اپنے ہی پاس رکھ لیتے ہیں انہیں کفر اور شرک کی علامت قرار دیا ہے ، اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر تے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کر تے تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے بلکہ ان کے ہی سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں تپا کر ان کی پیشانیوں ، پہلوئوں اور پٹھوں کو داغا جا ئے گا ۔ اس لئے زکوۃ ادا کر نے والوں کو چاہئے کہ وہ خوش دلی کے ساتھ زکوۃ ادا کریں ۔
اسی طرح صدقہ فطر بھی ادا کر نا واجب ہے ۔ صدقہ فطر کا مقصد یہ ہے کہ روزے کی حالت میں جا نے انجانے میں سرزد ہو نے والی گناہوں سے خود کو پاک کر نا ہے ۔ صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کر دینا چاہیئے ورنہ عام صدقہ ہو گا ۔ صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوۃ کے مستحق ہیں ۔ صدقہ فطر ہر مسلمان چاہے وہ غلام ہو یا آزاد ، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا ، روزہ دار ہو یا بے روزہ دار سب پر واجب ہے ۔ صدقہ فطر ادا کر نے کا وقت آخری روزہ کے افطار کر نے کے بعد شروع ہو تا ہے لیکن عید سے دو ایک دن پہلے بھی ادا کیا جا سکتا ہے ۔ صدقہ فطر گھر کے سرپرست کو گھر کے تمام افراد یعنی بیوی ، بچوں اور ملازموں کی طرف سے ادا کر نا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ٹھیک ٹھیک سے اور خوش دلی کے ساتھ زکوۃ اور صدقہ فطر نکالنے اور ادا کر نے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ آمین