تسلیمہ اختر
انسان اپنے آپ کو مہذب مخلوق سمجھتا ہے وہ فخر سے کہتا ہے کہ وہ جنگلی جانوروں کی طرح حملہ نہیں کرتا وہ کسی کو پنجوں یا دانتوں سے زخمی نہیں کرتا ،وہ خون بہانے سے نفرت کرتا ہے۔مگر اس ساری تہذیب کے باوجود ایک حقیقت ہمیشہ زندہ رہتی ہے انسان سب سے زیادہ نقصان اپنے ہاتھوں سے نہیں بلکہ اپنی زبان سے پہنچاتا ہے۔
زبان وہ ہتھیار ہے جسے چلانے کے لیے نہ طاقت چاہیے نہ اجازت نہ قیمت ۔یہ ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتی ہے اور اکثر ہمارے اختیار سے پہلے حرکت کر جاتی ہے ،ہم سوچتے بعد میں ہیں اور بول دیتے پہلے ہیں، اسی ایک لمحے میں ہم کسی کے دل پر ایسا وار کر دیتے ہیں جو سالوں تک ٹھیک نہیں ہوتا۔تلوار جسم کو زخمی کرتی ہے مگر زبان انسان کی عزت خود اعتمادی اور سکون کو کاٹ دیتی ہے جسم کا زخم نظر آتا ہے، اس لیے اس کا علاج بھی کیا جاتا ہے لیکن لفظوں کا زخم نظر نہیں آتا، اس لیے اسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں سب سے گہرے زخم وہ ہوتے ہیں جو کسی ڈاکٹر کو دکھائے نہیں جا سکتے۔
ایک بچہ جب پہلی بار زندگی کو سمجھنا شروع کرتا ہے تو اس کی دنیا اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں وہ اپنے والدین کی آنکھوں میں اپنی پہچان تلاش کرتا ہے، اگر اسے وہاں محبت ملے تو وہ خود کو قابل سمجھتا ہے مگر اگر اسے وہاں تضحیک ملے تو وہ خود کو بے قیمت سمجھنے لگتا ہے۔ ایک ماں کا غصے میں کہا گیا جملہ یا باپ کا موازنہ برسوں تک اس کے ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔اکثر لوگ بڑے ہو کر خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، وہ فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں ،اظہار سے گھبراتے ہیں، لوگوں سے نظریں ملانے میں جھجکتے ہیں، انہیں لگتا ہے وہ کمزور ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ کمزور نہیں ہوتے۔ ان کے اندر بچپن میں بوئے گئے الفاظ کمزور ہوتے ہیں، وہ الفاظ جو بار بار انہیں یہ یقین دلاتے رہے کہ وہ ناکام ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ مذاق کے نام پر دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے کہ ہنسی مذاق معمولی بات ہے مگر ہر انسان کی برداشت ایک جیسی نہیں ہوتی بعض لوگ ہنس دیتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں ،وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ رکھ لیتے ہیں مگر دل میں ایک خاموشی پال لیتے ہیں، یہی خاموشی بعد میں فاصلے بن جاتی ہے۔
گھر اکثر بڑے حادثوں سے نہیں ٹوٹتے بلکہ روزمرہ کے جملوں سے ٹوٹتے ہیں۔ایک شوہر کا بار بار تنقید کرنا یا ایک بیوی کا مسلسل طعنہ دینا دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیتا ہے، رشتے شور سے نہیں مرتے وہ خاموشی سے مر جاتے ہیں اور اس خاموشی کی بنیاد ہمیشہ الفاظ ہوتے ہیں۔دوستیاں بھی اسی طرح ختم ہوتی ہیں، دشمنی اکثر کسی ایک بڑی غلطی سے نہیں بنتی بلکہ چھوٹے چھوٹے جملوں کے جمع ہونے سے بنتی ہے ۔ایک وقت آتا ہے جب انسان بات کرنا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ سامنے والا اسے سمجھنا نہیں چاہتا بلکہ صرف جیتنا چاہتا ہے۔
زبان کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس سے ہونے والا گناہ آسان محسوس ہوتا ہے، ہاتھ اٹھانے سے انسان رکتا ہے مگر زبان اٹھانے سے نہیں رکتا ،وہ سمجھتا ہے اس نے صرف بات کی ہے حالانکہ وہ ایک دل توڑ چکا ہوتا ہے غیبت، بہتان، طنز، تحقیر یہ سب ایسے گناہ ہیں جن میں محنت نہیں لگتی مگر اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔
انسان اکثر اپنی نیکیوں پر خوش ہوتا ہے۔وہ عبادت کرتا ہے خیرات دیتا ہے دوسروں کی مدد کرتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی زبان اس کی ساری نیکیوں کو ضائع بھی کر سکتی ہے، ایک سخت جملہ کسی کی عزت کو ختم کر دیتا ہے اور کبھی کبھی ایک زندگی کو بھی اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جو اندر سے صرف اس لیے اداس ہیں کیونکہ کسی نے ان کی قدر نہیں کی بلکہ انہیں مسلسل کمتر سمجھایا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان صرف نقصان کا ذریعہ نہیں بلکہ سب سے بڑی مرہم بھی ہے، جس طرح ایک جملہ کسی کو توڑ دیتا ہے، اسی طرح ایک جملہ کسی کو بچا بھی سکتا ہے۔ ایک استاد اگر طالب علم سے کہہ دے کہ’’تم کر سکتے ہو‘‘ تو اس کے اندر ایک نئی طاقت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک ماں اگر بچے کو یقین دلائے کہ وہ قابل ہے تو وہ دنیا کا سامنا کرنے لگتا ہے۔ایک دوست اگر مشکل وقت میں صرف یہ کہہ دے کہ’’میں تمہارے ساتھ ہوں‘‘ تو انسان ہارنے سے بچ جاتا ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ زبان میں نہیں بلکہ اس کے استعمال میں ہے۔ زبان نہ اچھی ہے نہ بری، اسے اچھا یا برا انسان بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دانا لوگ بولنے سے پہلے سوچنے کو عقل کی علامت کہتے ہیں، خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی بلکہ اکثر سمجھداری ہوتی ہے۔
زندگی میں بہت سے مسائل صرف اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ’’ہم جواب دینا چاہتے ہیں سمجھنا نہیں چاہتے‘‘،’’ہم جیتنا چاہتے ہیں جوڑنا نہیں چاہتے۔‘‘ ہم بولنا چاہتے ہیں سننا نہیں چاہتے‘‘ اگر انسان صرف ایک عادت اپنا لے کہ ہر جملہ بولنے سے پہلے سوچ لے کہ یہ دل جوڑے گا یا توڑے گا تو آدھی دنیا کے جھگڑے ختم ہو جائیں۔
آخرکار انسان کو اپنے ہر لفظ کی ذمہ داری لینی پڑے گی انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو شاید بھول جائے مگر اس کے بولے ہوئے الفاظ لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتے ہیں، اسی لیے دانشمندی یہ نہیں کہ انسان بہت زیادہ بولے بلکہ یہ ہے کہ وہ صحیح بولے،نتیجہ یہ ہے کہ زبان واقعی سب سے سستی تلوار ہے کیونکہ اسے چلانے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا مگر اس کے نقصان کی قیمت بہت بڑی ہوتی ہے۔ایک بے سوچا جملہ برسوں کا تعلق ختم کر سکتا ہے اور ایک نرم جملہ برسوں کی دوری ختم کر سکتا ہے۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ انسان اپنی زبان کو اپنا خادم بنائے مالک نہیں۔کیونکہ جب زبان قابو میں ہو تو انسان محفوظ رہتا ہے اور جب زبان آزاد ہو جائے تو سب سے پہلے انسان خود زخمی ہوتا ہے۔
خاموشی کبھی نقصان نہیں دیتی
مگر لفظ اکثر دے جاتے ہیں