راجوری//سرحدوں پر گولہ باری کے نتیجہ میں جہاں معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں وہیں شعبۂ تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوتا رہا ہے ۔ فائرنگ کے نتیجہ میں اسکول بند کر دئیے جاتے ہیں جس سے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع ہو کر رہ جاتا ہے ۔ تاہم اب کی بار ضلع انتظامیہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ نقل مکانی کرنے والے تارکین کیلئے قائم کئے گئے پناہ گزین کیمپوں میں بچوں کے لئے خصوصی کلاسیں لگائی جائیںاور ان کیمپوں میں 33اساتذہ کو تعینات کیا گیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ حد متارکہ پر آر پار گولہ باری کے بعد سرحدی علاقہ کے اسکول بند کر دئیے گئے تھے جس کے بعد انتظامیہ نے ان بند پڑے اسکولوں، جن میںبوائز مڈل اسکول سیریا، پرائمری اسکول بخشی محلہ ، مڈل اسکول جھنگر، پرائمی اسکول جھنگر، پرائمری اسکول مہندر موڑہ، ہائی اسکول سہر، مڈل اسکول ماکری، پرائمری اسکول نکی ماکری ، پرائمری اسکول نمب کلاری اور پرائمری اسکول نمب شامل ہیں، کے طلاب کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لئے یہ متبادل انتظام کیا ہے ۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے جاری حکمنامہ کے مطابق گورنمنٹ مڈل اسکول نوشہرہ میں قائم کئے گئے ریلیف کیمپ میں 8اساتذہ کو تعینات کیا گیا ہے جب کہ 9بوائز ہائر سکینڈری کیمپ نوشہرہ اور 15اساتذہ ہائی اسکول نونیال کے ریلیف کیمپ میں بچوں کو پڑھائیں گے۔