جموں //ریاست کو تباہی اور بربادی کے دلدل سے نکالنے کیلئے یک جٹ ہونے کی تلقین کرتے ہوئے حزب اختلاف نے بجٹ کارروائی کے آخری روز ریاستی وزیر اعلیٰ سے کہا کہ مسئلہ کے حل کیلئے سرکار کو بہتر اقدامات کرنے چاہئیں ۔قانون ساز اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے آخری روزنیشنل کانفرنس ، کانگرنس ، سی پی ایم آئی ، پی ڈی ایف ، پیپلز کانفرنس کے علاوہ بی جے پی ممبران نے اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ، میڈیا اور اسمبلی کے عملہ کی ایوان کو اچھے طریقے سے چلانے پر مبارک باد پیش کی۔ مذکورہ ممبران نے اجتماعی طور قانون اور ایوان کی بالا دستی کو بلند رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انتظامیہ میں مزید جواب دہی اور شفافیت لانے کی تلقین کی تاکہ عام لوگوں کو سہولیات فراہم ہو سکیں ۔انہوں نے تنقید اور اعتراضات کو جمہوریت کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد لوگوں کے مسائل اور مشکلات کا ازالہ ہونا چاہئے ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کے لیڈر وممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور حالات کو ٹھیک کرنے کیلئے ریاستی سرکار کو جہاں کہیں بھی نیشنل کانفرنس کی ضرورت ہو گی وہ اُس کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے سرکار پر زور دیا کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں کسی کو بھی فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی اجازت نہ دیں کیونکہ اس سے ریاست میں حالات ٹھیک ہونے کے بجائے بگڑ سکتے ہیں ۔ کانگرنس کے لیڈر نوانگ رنگزن جورا نے کہا کہ اپوزیشن کا حق ویل میں آکر احتجاج اور نعرہ بازی کرنا ہے لیکن ہم یہاں جو بات کہتے ہیں پھر اُس کو ہذف کیا جاتا ہے یہ کسی بھی قانون میں نہیں ہے کہ اس کو ہذف کیا جائے بلکہ یہ کوشش کی جانی چاہئے کہ ہم جمہوری طریقے سے اپنی بات سرکار کے سامنے رکھیں جس سے لوگوں کا فائدہ ہو ۔سی پی آئی ایم لیڈر وممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے متعلق جو بھی فیصلے ہوں انہیں ہمیں خود حل کرنا چاہئے، نہ کہ انہیںمرکز پر چھوڑا جانا چاہئے۔ انہو ں نے حزب اختلاف کے کام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں جب اپوزیشن تنقید کرے گی تب ہی کام بھی ہوں گے ۔حکیم محمد یاسین نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت جو حالات بنے ہوئے ہیں ہمیں اُن سے نکلنے کیلئے مل جل کر کام کرنا ہو گا ۔پیپلز کانفرنس لیڈر وممبر اسمبلی کپوارہ بشیر احمد ڈار نے کہا کہ ہمیں ایسا کام کرنا چاہئے جس سے ایوان کا سر بھی بلند رہے ۔بی جے پی لیڈر ست پال شرما نے کہا کہ بی جے پی نہ ہی آر ایس ایس ہندو کو مسلم سے اور نہ ہی مسلم کو ہندو سے لڑواتی ہے لیکن سب نمبر لینے کیلئے دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا ’’ ہم لوگوں کے چنے ہوئے نمائندے ہیں اور لوگ ہمیں چن کر یہاں اس لئے بھیجتے ہیں تاکہ لوگوں کی بات ہو‘‘ ۔