سرینگر //سرینگر ،بانڈی پورہ،کولگام اورگاندربل کے ڈپٹی کمشنروں نے ذ رائع ابلاغ کوجانکاری دیتے ہوئے کووِڈ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو کورونا سے نجات کی کلید قراردیااور عوام سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ رہنما خطوط پر من وعن عمل کریں۔ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے جمعہ کو کہا ہے کہ کووڈ 19 سے متعلق اقدامات بشمول ایس او پیز کورونا کرفیو ، کنٹینمنٹ اقدامات ، ٹیسٹنگ ، ویکسی نیشن کووڈ 19 انفیکشن کی روکتھام کیلئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ضلع سرینگر میں کووڈ 19 کی موجودہ سورتحال کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی سی نے کہا کہ مثبت شرح 33 فیصد سے گھٹ کر 6.5 فیصد ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مثبت شرح میں کمی ضلع انتظامیہ کے ساتھ بزنس/ٹرانسپورٹ کمیونٹی سمیت عام لوگوں کے فعال تعاون کا نتیجہ ہے کیونکہ انہوں نے وقتاً فوقتاً حکومت کی طرف سے جاری کووڈ 19 سے متعلق تمام ضروری ہدایات پر عمل کیا ہے ۔ اسد نے بتایا کہ ضلع میں اب تک لگ بھگ 7 لاکھ آر اے ٹی اور آر ٹی پی سی آر کووڈ سے متعلق ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں اور اس وقت سرینگر میں 3700 فعال کووڈ 19 مثبت واقعات ہیں ۔ ڈی سی نے ضلع میں کووڈ 19 وباء کی روکتھام کیلئے عوام سے اپیل کی کہ وہ کووڈ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں تا کہ ان کی جان ، کنبہ اور پورے سرینگر کو کووڈ 19 کی مہلک بیماری سے بچایا جا سکے ۔ جاری کووڈ 19 ویکسی نیشن عمل کے سلسلے میں ڈی سی نے بتایا کہ ضلع میں تقریباً 3 لاکھ آبادی کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہے اور بقیہ علاقوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ لفٹینٹ گورنر کی ہدایات کے مطابق ضلع انتظامیہ سرینگر نے ضلع کی تمام 21 پنچائتوں میں کووڈ کئیر سنٹر قائم کئے ہیں جن میں آکسیجن ، کنسٹریٹرز ، آکسی میٹرز اور دیگر ضروری طبی آلات دستیاب رکھے گئے ہیں ۔ ادھردریں اثنا ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے مقامی پی آر آئی سے تبادلہ خیال کیا اور ان سے کہا کہ وہ ضلعی اِنتظامیہ اور صحت حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے علامتی اَفراد اورجو اَپنے گھر وں میں آئیسولیشن کی سہولیت سے محروم ہیں اُن کی نشاندہی کر یں تاکہ ان کو منتقل کیا جاسکے ۔اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ترجیحی بنیادوں پر قیمتی جانوں کا تحفظ اور بچانا ہے جس کے لئے ہم سب کو ذمہ داری اور لگن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ادھربانڈی پورہ کے ڈپٹی کمشنرڈاکٹر اویس احمد نے ضلع میں کووِڈ ۔19 کی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دینے کے دوران کہا کہ ضلع میں کووِڈ مثبت معاملات میں واضح طور پر کمی آرہی ہے لیکن پابندیوں میں آسانی کے درمیان کووِڈ مناسب طریقے اور زیادہ ذمہ داری کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع میں 804 مثبت معاملات سرگرم ہیں جن میں 71 ہسپتال میں داخل ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں داخل 40 مریض آکسیجن کے تعاون پر ہیں۔ڈی سے کہا کہ وَبائی مرض کی دوسری لہر کے دوران روزانہ 2000 ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ہر پنچایت میں حال ہی میں قائم کووِڈ کیئر سینٹروں کو فعال بنایا گیا ہے اور ان مراکز میں 10 مثبت مریض داخل ہیں جن کی گھر میں الگ تھلگ سہولیت میسر نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ کووِڈ کیئر سینٹر آکسیجن معاون بستروں سے لیس ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ نے ٹیکہ کاری کے جاری عمل کے بارے میں لوگوں سے اپیل کہ وہ کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کیلئے آگے آئیں تاکہ کورونا وائرس پھیلنے کی زنجیر کو توڑا جاسکے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے آج یہاں کولگام میں میڈیا کو بریفنگ دینے کے دوران کہا کہ ضلع میں مثبت معاملات کی شرح میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے تاہم لوگوں کو ایس او پیز کے تمام رہنما اصولوں کی سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں روزانہ کی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے اور مثبت معاملات کی شرح میں کمی آرہی ہے جبکہ صحتیابی اور شفایابی کی شرح 86فی صد پہنچ گئی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ امام الدین نے آج کہا کہ کپواڑہ ضلع بھر میں ٹیکہ کاری مہم کا عمل تیز کر دی گئی ہے تاکہ کووِڈ ۔19 وَبائی مرض پر قابو پا یا جاسکے۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے آج میڈیا اَفراد کو بریفنگ کے دوران کیا۔