رمضان المبارک اپنے تمام تر رحمتوں برکتوں اور مغفرتوں کا سرچشمہ لے کے ہمارے بیچ جلوہ فگن ہوا اور ہمارے بیچ میں بڑی تیزی سے رخصت بھی ہو گیا۔یہ مہینہ مسلمان کو عملی اور ایمانی طورپر بلندی عطا کرتا ہے جو مسلمانوں کا عظیم سرمایہ ہے اور اسلام کا مقصود و مطلوب بھی ہے۔جیسے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ رمضان کو میں نے آپ لوگوں پہ فرض کیا جس طریقے سے میں نے یہ سابقہ امتوں پر فرض کیا تھا اور اس ماہ رمضان المبارک کا غرض و غایت یہ ہے کہ حصول تقویٰ ہو تاکہ اسکے اندر کی سوچ سمجھ اخلاق کردار سب بدل جائے اور رمضان کے بعد صالح زندگی کا حامل اور اسلام کے تعلیمات کے مطابق ہو۔یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال کا درجہ بڑا دیا جاتا ہے۔شیطان جکڑے جاتے ہیں ہیں اور ہر طرف رحمت کا نور چھایا ہوتا ہے۔رمضان المبارک ایک مسلمان کی زندگی میں ٹریننگ پیریڈ کی حیثیت سے کام کرتا ہے جہاں پر ایک مسلمان کو ایک مہینے کے اندر باقی مہینوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے جس کے اعمال اور جس کی ایمانی قوت کو بڑھا دیا جاتا ہیاور جس کے اندر کے نفس کے شیطان کو بند کیا جاتا ہے اور ایمان کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔اس مہینے کا ہر ایک لمحہ رحمت مغفرت اور برکت سے پرنور ہوتا ہے جہاں شیطان بند ہوتے ہیں تو ایک انسان اپنی ایمانی صلاحیت کو نکھارتا ہے قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرتا ہیفرض نمازوں اور نوافل کا اہتمام کرتا ہے۔اس مہینے میں ایک روزے دار سحری اور افطاری کرتا ہے اور دن بھوکا رہ جاتا ہے دن میں وہ گرمی کی شدت سے پیاس کا برداشت ہونا اس کے اندر تقویٰ کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اس ماہ رمضان المبارک کا غرض یہی ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو پالے اور اللہ کی ربوبیت کو اقرار کرے اللہ تعالی کے ہر حکم پہ سربسجود ہو شیطان کے بد اخلاقی کاموں سے منہ موڑ لے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ جہاں ماہ رمضان المبارک کے مہینے میں مساجد آباد ہوتی ہے قرآن کی تلاوت عام ہوتی ہے نوافل اور صدقہ کا اہتمام ہوتا ہے وہی رمضان المبارک کے بعد مسلمانوں کی مساجد پھر سے ویران ہونے لگتی ہے قرآن کو پھر سے طاقوں پہ سجایا جاتا ہے اور نوافل تو دور کی بات ھے فرض نمازوں کا بھی اہتمام نہیں کیا جاتا ہے یہ ماہ رمضان مبارک کا مقصد اور غرض نہیں ہے۔ماہ رمضان مبارک یہ ہے کہ انسان باقی گیارہ مہینوں میں اپنی زندگی کو اسی طرح سے گزارے جس طرح ماہ رمضان المبارک کے مہینے گزر رہی تھی۔ماہ رمضان المبارک میں اْس بابرکت کلام کو نازل کیا گیا جو انقلاب اور اور علم و حکمت سے سرشار ہے جس کتاب میں دنیا کی تقدیر پنہاہے جس کتاب کے ذریعہ سے ایک انسان کو فرشتوں سے اعلیٰ مقام عطا ہوا۔اس قرآن مجید کو ہم پھر طاقوں پہ سجا لیتے اس قرآن مجید کو پھر اگلے ماہ رمضان کی تلاوت کے لئے ہم گلاف میں بند کر دیتے ہیں لیکن امت مسلمہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس کتاب کو گلاف میں رکھ دے اور عطر کی بارش کرے بلکہ اس کتاب کے مطالعہ کرنے سے انسان کی زندگی اور اخلاق میں خوشبو آنی چاہیے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہماری کامیابی کا راز مضمر ہے۔ ہم اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اپنے خالق حقیقی کا قرب حاصل ہونا چاہیے اور اپنے مقصد وجود کو سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ وہ کتاب ہیجس میں بتایا گیا ہے کہ تم ایک بہترین گروہ جس کو لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے تاکہ آپ اچھائی کا حکم دے اور بدی سے لوگوں کو روکے اور اللہ پر ایمان لائے تو یہ اس امت کو زیب نہیں دیتا کہ امت مسلمہ کے افرد اس قرآن مجید کی تلاوت تک ہی محدود رہے۔ماہ رمضان مبارک کے ذریعے امت مسلمہ کے ہر فرد کے اندر جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ ہمیں قرآن کی دعوت لیکر اٹھنا ہے اور پوری دنیا پر چھا جانا ہے۔ہمیں اس عظیم پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھانا ہے اور دنیا میں امن و شانتی کا درس دینا ہے۔ہم رمضان المبارک کے بعد پھر سے وہی مسجد آباد کرنے کی کوشش کریں گے جن میں ماہ رمضان المبارک میں ہم نماز کا اہتمام کرتے تھے اگر ایک انسان کی زندگی ماہ رمضان مبارک کے بعدبھی نہ بدلی تو محاسبہ کرنا چاہیے کہیں ہم ان لوگوں میں تو نہیں ہے جنکے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امین کیا تھا اور حضرت جبرائیل جو کہ فرشتوں کے سردار ہے نے بددعا کی تھی جس نے ماہ رمضان المبارک پا لیا اور پھر بھی وہ اپنے گناہوں کو معاف نہ کروا سکا۔اللہ ہم سب کو اس بد دعا سے بچا لے ( آمین)۔ہمیں ماہ رمضان مبارک کے بعد اپنی زندگی کو بدلنا ہے اگر کوئی ماہ رمضان المبارک سے پہلے غلط کاموں میں پھنسا ہوا تھا پھر ماہ رمضان المبارک آنے کے بعد اس نیچھوڑ دیا اور پھر مبارک کے بعد اگر ان کاموں کا دوبارہ سے اس نے اہتمام کیا تو یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان المبارک میں بھوک اور پیاس اور رات میں نیند حرام کرنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔
رمضان المبارک کا بھی یہی مقصد قرآن سورۃ البقرہ آیت 183 میں بیان کیا ہے روزہ دار نے اگر اس مقصد کو پا لیا تو گویا شریعت کے اصل مقصد کو اس نے پا لیا اور گمراہی سے محفوظ ہوگیا۔ ایک شخص جس طرح روزے کی حالت میں ان تمام چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جن کو شریعت نے وقتی طور پر ممنوع قرار دیا ہے۔ یہ دراصل اس بات کی مشق کرائی جاتی ہے کہ کہ جس طرح رمضان ان میں ان چیزوں سے روکے رہے اور شریعت کی پابندی کی، ویسے ہی رمضان کے بعد بعد ان تمام چیزوں سے رکے رہنا ایک مسلمہ کی ذمہ داری ہے جن کو شریعت نے مستقل طور پر حرام قرار دیا ہے۔اہل ایمان کو چاہیے کہ ممنوعات سے مکمل گریز کریں اور شریعت کا پاس و لحاظ رکھے گے وہ چیزیں جن پر صرف صبح شام تک پابندی تھی جب ان پر اس قدر سکتی سے عمل کیا گیا گیا اور پورا مہینہ اس پر مشرک ہوتا رہا ہاں تجھ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند شاید کی گئی ہے ان پر کس قدر ہمیں سکتے سے عمل کرنا چاہیے۔اسی لئے آخر پر میں یہی گزارش کرنا چاہوں گا کہ ہم سب کو اپنے زندگیوں کے اندر یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ میری زندگی کا رخ کس طرف جا رہا ہے کیا میں اس فرض منصبی کو نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں جس کے لیے میرا وجود اس فانی دنیا میں بھیجا گیا ہے یا میری زندگی اس ویران جانور کی طرح ہے جو دن میں جہاں سے چاہے ہے کھاتا ہے اور اپنا پیٹ بھرتا ہے جس کی نہ کوئی ذمہ داری ہوتی ہے اور نہ کوئی مقصد ہوتا۔ اللہ ہم سب کا ماہ رمضان المبارک قبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگی میں اسلام پسند ذندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن کے ہر حکم پر لبیک کہنے کا حوصلہ عطا فرمائے (آمین یارب العالمین)
(مضمون نگارعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے طالب علم ہیں)