میم دانش
میرے گھر کی ہوا پھیکی پڑ گئی تھی۔ پہلے پہل میرا اس کی طرف دھیان نہیں گیا۔ یہ بس ایک چھوٹی سی تکلیف تھی جو ہر وقت ساتھ رہتی تھی، میرے بائیں ہاتھ کی اس انگلی میں ایک خیالی درد جہاں کبھی میری شادی کی انگوٹھی ہوا کرتی تھی۔ دو سال پہلے ڈاکٹروں نے تحقیق امراض کے پہلے دور میں کہا تھا کہ سکین (Scan)کے وقت کوئی دھات جیسی شئے نہیں ہونی چاہیے، اس لئے میں نے انگوٹھی اتار دی۔ اس کے بعد میں نے وہ کبھی نہیں پہنی۔
زندگی آہستہ آہستہ خالی ہوتی جا رہی تھی۔ میری بیوی نوشین نے گھر کو ہرے بھرے پودوں سے بھر رکھا تھا۔ ایک پر جوش جنگل ، جس پر وہ بہت ہی پیار اور نرمی سے حکومت کرتی تھی۔ اس کے جانے کے بعد، میری حد سے زیادہ دیکھ بھال کے باوجود، سارے پودے ایک ایک کر کے مرجھانے لگے۔ ایسا لگتا تھا جیسے نوشین کے بغیر وہ جینا ہی بھول گئے ہوں۔
مجھے سانس لینے میں مشکل ہونے لگی۔ ڈاکٹر کہتے تھے یہ شہر کی آلودگی یا الرجی ہے۔ میں نے آکسیجن کی مشین لے لی۔ اس سے تھوڑا آرام ملتا تھا… گھر اب ہسپتال جیسا لگنے لگا ۔
نل کا پانی صاف تھا، مگر اس کا ذائقہ عجیب اور بے جان تھا۔ جتنا بھی پیتا، پیاس نہیں بجھتی تھی۔ میں نے مہنگا بوتل والا پانی بھی خریدا، وہ بھی بے ذائقہ تھا۔ خواب میں آبشاریں دیکھتا ، نوشین کو بارشوں میں ہنستے ہوئے دیکھتا… جاگتا تو پیاس اور بڑھ جاتی۔
ایسا محسوس ہو رہاتھا جیسے میںکسی خالی صحرا میں قید ہوں۔ دوستوں نے آہستہ آہستہ فون کرنا چھوڑ دیا۔ ایک دوست نے کہا، ‘‘تم تو جیسے زندہ بھوت ہو گئے ہو‘‘۔وہ غلط نہیں تھا… میں اپنے ہی گھر میں ایک سایہ بن چکا تھا۔
میری زندگی بس …کام اور ڈاکٹر وحیدکے کلینک کے درمیان رہ گئی تھی۔ وہ میری رپورٹس دیکھ کر کہتا، ’’تمہارا جسم اس دنیا کے ساتھ ٹھیک طرح سے جڑ نہیں پا رہا‘‘۔ ’’جیسے تم اس دنیا کو قبول ہی نہیں کر رہے‘‘۔
یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی۔
جمعرات کا دن تھا ،میں بالکل ٹوٹا ہوا تھا، میں بالکونی کے دروازے کے سامنے کھڑا شہر کو دیکھ رہا تھا۔ سب لوگ عام زندگی جی رہے تھے، مگر میرے لئے نہ ہوا ٹھیک تھی نہ پانی… میں مزید یہ زندگی نہیں جینا چاہتا تھا۔
میں نے کمرے میں موجود الماری کی ایک دراز کھولی جس میں پرانی چیزیں رکھی تھیں۔ وہاں ایک ڈبہ تھا۔ اس میں میری اورنوشین کی انگوٹھیاں تھیں۔ میں نے ایک انگوٹھی اپنی انگلی میں پہن لی۔
…اور پھراچانک سے سب کچھ بدل گیا۔
مجھے اس کے عطر کی خوشبو آئی۔ میں نے گہری سانس لی اور پہلی بار ہوا اچھی لگی۔ میں کچن گیا، نل سے پانی پیا ،وہ بھی میٹھا لگا۔ میری پیاس دو سال بعد بجھی۔
میں رو پڑا اور اسی لمحے …سچ سمجھ آ گیا۔
پودے لاپرواہی سے نہیں مرجھاگئے تھے۔
ہوا خراب نہیں تھی۔
پانی بے ذائقہ نہیں تھا۔
…میں ہی مر چکا تھا۔
میری یہ حالت اس دن سے شروع ہوئی تھی جس دن نوشین مجھ سے جدا ہوئی تھی!!!
اچانک دروازے کی گھنٹی بجی۔
یہ ایک چونکا دینے والی آواز تھی،یہاں کوئی نہیں آتا تھا۔ نوشین کی انگھوٹھی کو تھامے، میں دروازے کی طرف بڑھا، ایک ایسے جسم کے ساتھ جو زندگی سے لرز رہا تھا ۔
لرزتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا،ڈاکٹر وحید دروازے پر کھڑے تھے، اس بار بغیر سفید کوٹ کے، وہ سنجیدہ لگ رہے تھے۔ ان کے ساتھ نیلے سوٹ میں ایک عورت کھڑی تھی۔
ڈاکٹر وحید بولے …’’ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی تھی‘‘…’’کیا ہم اندر آسکتے ہیں‘‘؟
’’کس بارے میںــ‘‘؟… میں نے ایک دم سے پوچھا
’’ارشد… میرا نام امبرین ہے اور میں ایک ماہر نفسیات ہوں‘‘ …وہ عورت دھیمی آواز میں بولی
’’آپ اورنوشین ایک خاص طرح سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے‘‘۔’’ اس کے بغیرآپ کا جسم اس دنیا کو قبول نہیں کر پا رہا ہے‘‘۔…’’ جو دوائیں آپ کو دی جا رہی تھیں، وہ کسی جسمانی بیماری کے لئے نہیں تھیں بلکہ ایک ضابطے کے تحت دی جا رہی تھیں‘‘۔
ایک گہری سردی نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
’’کس چیز کا ضابطہ‘‘؟؟؟
میڈم امبرین کی آواز نرم اور واضح تھی…’’سپریشن سروائیور سنڈروم‘‘ کے لئے۔’’تمہارا جسم تمہاری بیوی نوشین کے ساتھ ایک باہمی اور عجیب تعلق قائم کر چکا تھا‘‘۔ یہ بے حد نایاب ہے۔ جب اس طرح کا جوڑا الگ ہو جاتا ہے تو انحصار کرنے والے کا نظام بالکل ناکام ہونے لگتا ہے۔ وہ اس دنیا کو ٹھوکر مار دیتے ہیں جس میں ان کا ساتھی شامل نہ ہو۔وہ حقیقی معنوں میں بھول جاتے ہیں کہ اپنے ساتھی کے بغیر کیسے جیا جاتاہے۔
مگر میں تواسے کبھی بھول نہیں سکا۔
وہ کہاں ہے؟
امبرین نے نظریں پھیر لیں۔’’ارشد …جدائی انتخاب کی وجہ سے نہیں تھی، یہ ضرورت کی وجہ سے تھی‘‘۔ اُس نے استحکام کے لئے الگ ہونے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔نوشین سمجھتی تھی کہ تم خود کو سنبھال لو گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ڈاکٹر وحید نے محسوس کیا کہ میری انگلی کی انگھوٹھی سے الٹا عمل شروع ہو رہا ہے ۔ اُن کے مانیٹرز پر ریڈنگ بڑھ رہی تھی ، جو میرے کمرے میں پہلے سے ہی نصب کئے گئے تھے۔
ڈاکٹر وحید اور میڈم امبرین دھیمے لہجے میں ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے۔
’’وہ اب بھی تمہاری آکسیجن ہے‘‘…امبرین بولی
…ایک لمبی خاموشی کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے دل کی ہر دھڑکن اسے ڈھونڈرہی تھی۔ ہر سانس ہوا میں اس کی خوشبو تلاش کررہی تھی۔
’’میں نوشین کو دیکھنا چاہتا ہوں‘‘…میری زبان سے گرم جوش الفاظ اُبل پڑے
امبرین نے سر ہلا کر کہا’’ یہ ممکن نہیں ہے‘‘۔اسے دیکھنا ، اس کے ساتھ رہنا تمہارے رشتے کو اور گہرا کر دے گا ۔ اگر تم دوبارہ الگ ہوگئے تو؟؟؟
تو، تو کیا…’’میں مرجائوں گا‘‘
’’تم مر رہے ہو‘‘…’’ دوائیوں کا تم پر اثر کم ہوتا جا رہا ہے‘‘ ۔امبرین کے اس تیکھے وار سے میں گھبراہٹ سے تھرتھرا اُٹھا
میں ایک قدم پیچھے ہٹ گیا، اپنا ہاتھ انگھوٹھی کے گرد مضبوطی سے بند کرتے ہوئے…’’مجھے اس کے پاس لے چلو‘‘
’’تم نتائج سے بے خبر ہو‘‘… ڈاکٹر حیدر نے التجا کرتے ہوئے کہا۔
’’میں ہرچیز کو سمجھتا ہوں‘‘…بس تم مجھے لے چلو
ایک خوفناک سکون مجھ پر طاری ہے۔’’اس کے بغیر، میں ابھی بھی پانی کے بغیر ہوں، ہوا کے بغیر ہوں۔ اس کے بغیر کوئی زندگی ہی نہیں ہے۔ ہم ایک جسم تھے جو دو حصوں میں بٹ چکا ہے ۔ مجھے میرے دوسرے حصے کے پاس لے جائو …یا مجھے یہاں مرنے دو ۔
امبرین مجھے لمحہ بھر کے لئے دیکھتی رہی ،… پھر ایک بار ، آہستہ سے سر ہلا یا۔
کیونکہ کچھ رشتے توڑے نہیں جا سکتے
انہیں توڑنا زندگی کو آدھا کر دینے کے برابر ہوتا ہے۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛6006305715