خان محمد یاسر اشرف
ازدواجی زندگی انسانی معاشرت کی سب سے مضبوط اور بیک وقت سب سے نازک بنیاد ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو محبت سے شروع ہو کر اعتماد، قربانی، برداشت اور درگزر کے سہارے قائم رہتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک غلط فہمی جڑ پکڑ چکی ہے کہ ازدواجی زندگی کو دلیل، منطق، حساب کتاب اور برتری کی بنیاد پر چلایا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ گھروں کو خاموش میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیتی ہے۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ رشتہ نہ تو مناظرے کا میدان ہے اور نہ ہی انا کی کشتی، جہاں ایک کو جیتنا اور دوسرے کو ہارنا ہو۔ یہ دو انسانوں کے درمیان ایسا مقدس معاہدہ ہے جس کی بقا جیتنے میں نہیں بلکہ نبھانے میں ہے۔ جہاں مقصد سامنے والے کو قائل کرنا نہیں بلکہ سمجھنا ہو، اور ترجیح خود کو درست ثابت کرنا نہیں بلکہ تعلق کو محفوظ رکھنا ہو۔ میاں بیوی کا رشتہ دو مختلف مزاجوں، دو الگ ذہنوں اور دو جدا زندگیوں کا سنگم ہوتا ہے۔ ان کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا فطری ہے، بلکہ یہی فرق زندگی کو رنگ اور وسعت دیتا ہے۔ لیکن المیہ اس وقت جنم لیتا ہے جب اختلاف کو فہم و فراست کے بجائے انا کا مسئلہ بنا لیا جائے۔ جب گھر کے اندر بات سننے کے بجائے جواب تیار کیے جائیں، جب سمجھنے کے بجائے جیتنے کی خواہش غالب آ جائے، تو رشتہ آہستہ آہستہ اپنی روح کھونے لگتا ہے۔
آج کے گھریلو ماحول پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اکثر جھگڑے کسی بڑے مسئلے سے پیدا نہیں ہوتے۔ ایک معمولی بات، ایک بے دھیان جملہ، ایک سخت لہجہ یا ایک لمحاتی غصہ — اور پھر بات بڑھتے بڑھتے انا کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔ ہر بات میں آخری لفظ کہنے کی ضد، ہر بحث میں خود کو حق پر ثابت کرنے کی خواہش اور ہر غلطی کو ذہن میں محفوظ رکھنے کی عادت وہ خاموش زہر ہے جو محبت کی جڑوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ہم یہ حقیقت فراموش کر بیٹھے ہیں کہ نکاح ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ’’قبول ہے‘‘ محض تین الفاظ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک وعدہ اور ایک اخلاقی ذمہ داری کا اعلان ہے کہ زندگی کی سختیاں ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر برداشت کی جائیں گی۔ جب گھر کے اندر ہی فتح اور شکست کا تصور پیدا ہو جائے تو رشتے میں سکون، اعتماد اور اپنائیت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔
ازدواجی زندگی کا سب سے بڑا اور تلخ سچ یہ ہے کہ اگر ایک فریق خود کو فاتح سمجھ لے اور دوسرا شکست خوردہ، تو درحقیقت دونوں ہی ہار جاتے ہیں۔ کیونکہ رشتہ اسی وقت مضبوط رہتا ہے جب دونوں کو عزت، تحفظ اور ذہنی سکون میسر ہو۔ وہ جیت جس کے نتیجے میں دل ٹوٹ جائیں، آنکھوں میں خاموش شکوے اتر آئیں اور دلوں کے درمیان دیواریں کھڑی ہو جائیں، دراصل سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔یہ مضمون اس حقیقت کی جانب توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہے کہ ہر بات کا جواب دینا عقلمندی نہیں۔ بعض اوقات خاموشی کمزوری نہیں بلکہ رشتے کی دانشمندانہ حفاظت ہوتی ہے۔ نرم لہجہ، جھک جانے کا حوصلہ اور بات کو نظر انداز کر دینے کی صلاحیت وہ خوبیاں ہیں جو بکھرتے گھروں کو سہارا دیتی ہیں۔ جو شخص ہر بحث میں اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے، وہ اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اس کے الفاظ تو جیت رہے ہیں، مگر اس کا رشتہ ہار رہا ہے۔
ازدواجی رشتے میں معافی کو بنیادی قدر کا درجہ حاصل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں معاف کرنا کمزوری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاف کرنے کا حوصلہ صرف وہی رکھتا ہے جس کا دل بڑا ہو۔ ہر اختلاف میں ماضی کے زخم کریدنا، پرانی باتوں کو دہرانا اور سابقہ غلطیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا نہ صرف حال کا سکون چھین لیتا ہے بلکہ مستقبل کو بھی بداعتمادی اور خوف کی نذر کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ انسان بدلتا ہے۔ حالات، ذمہ داریاں، ناکامیاں اور تجربات مزاج میں تبدیلی لے آتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو بدلنے کی اجازت نہ دیں، اگر ایک دوسرے کو ماضی کے سانچے میں قید رکھیں، تو رشتہ گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ازدواجی زندگی اسی وقت آگے بڑھتی ہے جب دونوں ایک دوسرے کو سنیں، سمجھیں اور ساتھ ساتھ ارتقا کا سفر طے کریں۔
گھر اس وقت جنت بن جاتا ہے جب شریکِ حیات کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھا جائے۔ جب ایک کی کمزوری دوسرے کی ڈھال بن جائے، جب ایک کی خاموشی دوسرے کی زبان بن جائے، اور جب اختلاف نفرت کے بجائے فہم کا ذریعہ بنے۔ اگر دونوں ایک دوسرے کے خلاف محاذ بنا لیں تو گھر میدانِ جنگ بن جاتا ہے، اور اگر دونوں ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو یہی گھر امن، سکون اور رحمت کا مرکز بن جاتا ہے۔آخر میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون صحیح ہے؟بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ رشتہ کیسے محفوظ رہے؟کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے اَنّا کی لڑائیوں میں ضائع کرنے کے بجائے محبت، برداشت اور درگزر میں لگانا ہی اصل دانشمندی ہے۔ ازدواجی زندگی کا اصول یہی ہے کہ رشتہ جیتنے کے لیے نہیں، نبھانے کے لیے ہوتا ہے — اور جو یہ حقیقت سمجھ لے، اس کے گھر میں سکون خود چل کر آ جاتا ہے۔
رابطہ۔ 9881296564