انور سيّد، کولگام
حالیہ دنوں کی بات ہے کہ ایک دوست کے ساتھ بیٹھے گفتگو ہو رہی تھی۔ باتوں باتوں میں اُس نے ایک ایسا خیال پیش کیا جو بظاہر معمولی، مگر گہرائی میں پورے معاشرے کی تصویر پیش کرتا تھا۔ اُس نے کہا کہ آج کل ہمارے گھروں میں ایک خاموش منظرنامہ جنم لے چکا ہے، جس پر کم لوگ بات کرتے ہیں مگر اس کے اثرات ہر گھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی گفتگو مجھے اس موضوع پر قلم اٹھانے پر مجبور کر گئی۔
ہمارے خاندانی نظام میں چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد اور پھوپھی زاد رشتے ہمیشہ بھائی بہنوں کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ خوشی ہو یا غم، یہی رشتے سب سے پہلے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ قربت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں ان رشتوں کو محبت اور احترام کے بجائے ایک دوسرے کا مدمقابل سمجھا جانے لگا ہے۔
اس بدلتی ہوئی سوچ کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، مگر ایک نمایاں کردار شریکِ حیات کا بھی نظر آتا ہے۔ بعض اوقات شوہر یا بیوی انجانے میں اپنے شریک کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً چچا زاد یا ماموں زاد، اس کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ یہ خیال دل میں جگہ بنا لیتا ہے کہ یہ رشتے خیر خواہ نہیں بلکہ مقابل ہیں۔
یہ سوچ حسد اور بغض کو جنم دیتی ہے۔ ایک کی کامیابی دوسرے کے دل میں خوشی کے بجائے خلش پیدا کرتی ہے۔ شادی بیاہ، ملازمت، کاروبار، گھر یا بچوں کی تعلیم جیسے معاملات خاندانی خوشیوں کے بجائے موازنہ اور مقابلے کا میدان بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ رشتے جنہیں مضبوط سہارا ہونا چاہیے تھا، خاموش فاصلے اختیار کرنے لگتے ہیں۔
اس کا سب سے گہرا اثر آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔ بچے یہ سیکھتے ہیں کہ ان کے چچا زاد یا خالہ زاد دوست نہیں بلکہ ایسے لوگ ہیں جن سے خود کو بچا کر رکھنا چاہیے۔ اس طرح رشتوں کی اصل روح، یعنی محبت، ایثار اور اپنائیت، دھندلا جاتی ہے اور خاندانی تعلقات محض رسمی رہ جاتے ہیں۔
ہماری دینی اور تہذیبی تعلیمات ہمیں جوڑنے، معاف کرنے اور دل صاف رکھنے کا درس دیتی ہیں۔ حسد وہ آگ ہے جو پہلے اپنے ہی دل کو جلاتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک پُرسکون خاندانی ماحول چاہتے ہیں تو ہمیں اس خاموش منظرنامے کو پہچاننا ہوگا اور اس سوچ کو بدلنا ہوگا کہ ہر قریبی رشتہ مقابل ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ شریکِ حیات ایک دوسرے کے لیے رشتوں سے دوری کا سبب نہ بنیں بلکہ محبت اور سمجھداری کے ساتھ خاندان کو جوڑنے کا ذریعہ بنیں۔ جب گھروں میں خیر خواہی کو فروغ دیا جائے گا تو حسد خود بخود کم ہو جائے گا اور رشتوں میں پھر سے زندگی آ جائے گی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد اور پھوپھی زاد رشتے مقابل نہیں بلکہ طاقت ہوتے ہیں۔ اگر ہم نے وقت پر اس حقیقت کو نہ سمجھا تو یہ خاموش منظرنامہ آہستہ آہستہ ہمارے خاندانی نظام کو کھوکھلا کر دے گا۔ رشتے جتنے مضبوط ہوں گے، معاشرہ اتنا ہی مضبوط ہو گا۔
پسِ تحریر: یہ سطور کسی فرد، خاندان یا مخصوص رشتے کی طرف اشارہ نہیں کرتیں بلکہ ایک عمومی سماجی رویے کی نشاندہی ہیں جو خاموشی سے ہمارے گھروں میں جگہ بنا رہا ہے۔ مقصد الزام دینا نہیں بلکہ اس سوچ کی طرف توجہ دلانا ہے جو رشتوں کو جوڑنے کے بجائے توڑ رہی ہے۔ اگر ہم نے وقت پر اس رویے کو نہ پہچانا تو فاصلے صرف دلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نسلوں کے درمیان دیوار بن جائیں گے۔
[email protected]