شدید بارش، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ نے سرحدی اضلاع کو ہلا کر رکھ دیا، ریسکیو آپریشن جاری، ہزاروں متاثر، بحالی کا طویل مرحلہ شروع
سمت بھار گو +حسین محتشم +رمیش کیسر +محمد بشارت +جاوید اقبال
راجوری/پونچھ//سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شاید اپنی حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کا سامنا کیا۔ موسلادھار بارش، اچانک آنے والے فلیش فلڈ، ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے بڑے تودے گرنے کے باعث دونوں اضلاع میں ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے لے کر مکانات، بازاروں، سڑکوں، پلوں، زرعی اراضی، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور سینکڑوں گاڑیوں کی تباہی تک، اس آفت نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا اور پورے خطے کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔سرکاری اور ضلعی انتظامیہ سے موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق راجوری اور پونچھ میں کم از کم 11افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ مختلف مقامات پر زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نقصانات کی اصل تصویر آئندہ دنوں میں مزید واضح ہوگی۔راجوری شہر میں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی بیلہ بس اسٹینڈ، گجر منڈی، عبداللہ پل، آٹی فتح پور، ڈھانگری، تھنہ منڈی، نوشہرہ اور دیگر علاقوں میں مچائی۔ شہر کی ایک پوری جھگی بستی سیلابی ریلے کی نذر ہوگئی جہاں سو سے زائد کچے مکانات مکمل طور پر بہہ گئے اور درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ متعدد رہائشی مکانات اور دریا کے کنارے قائم دکانیں بھی پانی کی نذر ہو گئیں، جبکہ کئی خاندانوں کو راتوں رات محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔راجوری کے بیلہ مرکزی بس اسٹینڈ میں سیلابی پانی نے تقریباً چالیس گاڑیوں کو ایک دوسرے کے اوپر پھینک دیا، جبکہ درجنوں گاڑیاں تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان میں سے کئی گاڑیاں تیز بہاؤ کے ساتھ بہہ گئیں، جن میں بعض کو بعد میں دریا کے کناروں پر پھنسے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ پونچھ میں بھی ایک درجن سے زائد گاڑیاں سیلاب میں تباہ یا بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔پونچھ ضلع میں صورتحال مزید تشویشناک رہی، جہاں سرنکوٹ، مڑھا، لوئر مْڑہ، سنگلہ، بفلیاز، نونہ بندی، دھندک، مرہوٹ اور دیگر علاقوں میں مکان منہدم ہونے، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے متعدد واقعات پیش آئے۔ کئی خاندان اپنے ہی گھروں کے ملبے تلے دب گئے، جبکہ خواتین اور معصوم بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ ایک ہی خاندان کے کئی افراد کی اجتماعی نماز جنازہ نے پورے علاقے کو اشکبار کر دیا۔شدید بارش نے کوٹرنکہ، بدھل، خواص، پیڑی، تھنہ منڈی اور منجاکوٹ سمیت متعدد بالائی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ درجنوں رہائشی مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، زرعی زمینیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جبکہ اندرونی رابطہ سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئیں۔ کئی دیہات کا ضلعی ہیڈکوارٹر سے زمینی رابطہ کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر منقطع رہا۔سیلابی ریلے نے بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ محکمہ بجلی کے مطابق تھنہ منڈی کے مقام پر پونچھ کو بجلی فراہم کرنے والا اہم ٹرانسمیشن ٹاور سیلاب میں بہہ گیا جبکہ متعدد بجلی کے کھمبے، تاریں اور دیگر تنصیبات بھی تباہ ہوئیں۔ محکمہ نے موسم سازگار رہنے کی صورت میں مرحلہ وار بجلی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔قدرتی آفت کے باوجود ایس ڈی آر ایف، جموں و کشمیر پولیس، فوج، سول ڈیفنس، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، ضلعی انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ مختلف مقامات پر سیلابی پانی میں پھنسے درجنوں افراد کو بحفاظت نکالا گیا۔ تھنہ منڈی کے چرونگ میں 15 افراد، آٹی فتح پور میں ایک باپ بیٹی، ڈھانگری میں دو نوجوان اور نوشہرہ میں ایک شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ اسی دوران پونچھ میں اے ایس آئی طارق خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سیلابی ریلے میں پھنسے ایک قیمتی مویشی کو بھی بچایا، جسے عوام نے خوب سراہا۔متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لیے راجوری میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں ریلیف کیمپ قائم کیا گیا، جہاں بے گھر خاندانوں کی رہائش، خوراک، پینے کے پانی اور طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مزید متاثرہ خاندانوں کو بھی مرحلہ وار وہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔اس قدرتی آفت نے ایک بار پھر شہری منصوبہ بندی، ماحولیات کے تحفظ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام پر بھی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف سماجی حلقوں اور مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ندی نالوں، دریا کناروں اور سیلابی گزرگاہوں میں مبینہ تجاوزات، غیر مجاز تعمیرات اور لینڈ یوز قوانین کی خلاف ورزیوں نے نقصان کی شدت میں اضافہ کیا۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، سیلابی علاقوں کا ازسرنو سروے کیا جائے اور جہاں بھی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو وہاں بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔دوسری جانب عوام نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد، مناسب معاوضہ، تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو، زرعی نقصانات کی بھرپائی، مویشی پال حضرات کی مدد، سڑکوں، پلوں، بجلی اور پینے کے پانی کی جلد بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگوں نے یہ بھی زور دیا کہ محکمہ مال کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر پنچایت وار نقصان کا مکمل سروے کرایا جائے تاکہ ہر متاثرہ خاندان کو سرکاری امداد بروقت فراہم کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اس لیے مستقبل میں نقصان کم کرنے کے لیے بروقت وارننگ سسٹم، مضبوط ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ماحول دوست ترقی، ندی نالوں اور سیلابی راستوں کا تحفظ، تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور حساس علاقوں میں سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔