ایک ایسے سماج میں جہاں سیتا اور ساوتری کے تقدس کے بلند بانگ دعوے کئے جا تے ہیں، اگر وہاں کسی طبقہ کی دشمنی میں اس طبقہ کی خواتین کی عزت کو سرِ بازار نیلام کر نے کی گھناؤنی حرکتیں کی جا تی ہیں تو اس سماج میں رہنے والے ان شر پسندوں کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟ اس سال کے پہلے ہی دن یکم؍ جنوری کو سوشیل میڈیا پر مسلم خواتین کو بے آ برو کرنے کی جو سازش رچائی گئی یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے اُن ساری منافرطاقتوں کا ذہن کارفرما ہے جو کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کو بدنام کر نے کا ایجنڈا بنائے ہوئے ہیں۔ کل تک یونیورسیٹیوں اور کالجوں میں پڑھنے والے مسلم نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات لگا کر گرفتار کرنے اور انہیں جیلوں میں بند کرکے رکھنے کا عمل زوروں پر تھا ۔ اور اب اعلیٰ تعلیم یا فتہ مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف اوچھی حرکتیں کی جا رہی ہیں۔ نئے سال کے پہلے دن "بلی بائی " مو بائیل ایپ کے ذریعہ ملک کی نامور مسلم خواتین کی تصاویر اَپ لوڈ کر کے ان خواتین کو آن لائن نیلامی کے لئے پیش کرتے ہوئے اِسے " دی ڈیل آف ڈے "کا نام دیاگیا۔ مسلم خواتین کو ہراج کرنے کی اس بیہودہ اور شرمناک حرکت کے خلاف سِول سوسائٹی کے افراد اپنا احتجاج درج کرارہے ہیں لیکن " بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ "کا نعرہ دینے والی حکومت اس شرانگیزی کے خلاف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ضابطہ کی کاروائی کے لئے منگل کے روزاُتراکھنڈ کی ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا اور اسے کلیدی ملزمہ بتایا جا رہا ہے ۔اسی کے ساتھ ممبئی پولیس نے بنگلورو کے ایک نوجوان وشال کو بھی گرفتار کرلیا ہے، جو انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ ممبئی پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ اس ایپ کی تیاری اور نیلامی کروانے کے پیچھے صرف گرفتار شدہ طالب علم نہیں ہے بلکہ اور بھی بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ راقم السطور کا بھی ماننا ہے کہ یہ کوئی بغیر سوچے سمجھے کی گئی حرکت نہیں ہے ۔ اس کے پس پردہ وہ گندی ذہنیت کام کر رہی ہے جو ہمیشہ انہیں مسلم دشمنی پر اُبھارتی ہے۔ مسلمانوں سے نفرت و عناد ان کے دل و دماغ میں اس قدر چھا گیا ہے کہ اب ان کے پاس مسلم خواتین کے لئے بھی عزت و احترام کا جذبہ باقی نہیں رہا۔مذہبی منافرت میں یہ جنونی اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ عورتوں کی عفت وعصمت کو نیلام کر نے میں اپنی شان سمجھ رہے ہیں۔ جس ملک میں عورت کو دیوی کا درجہ دینے کی باتیں کی جاتی ہیں اگر وہاں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والی عزت دار خواتین کو سرِ بازار نیلام کیا جاتا ہے تو پھر یہ سوال ہے کہ آیا اس ملک میں مسلمان خاتون کی کوئی وقعت ہے یا نہیں ؟ وہ مسلم خواتین جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے، انہیں خاص طور پر ٹارگٹ کرنا اور ان کی تصاویر سے چھیڑ چھاڑ کر تے ہوئے اسے سوشل میڈیا پیش کرنا ، ایک ایسی شیطانی حرکت ہے ،جس کا تصور ایک مہذب سماج میں نہیں کیا جا سکتا۔ اس قسم کی جنونی کارستانیوں کے ذریعہ ہندوتوا کے علمبردارخود اپنے ملک کی ساکھ کو تباہ وتاراج کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی تہذیب رہی ہے کہ یہاں ہر عورت کوعزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اس میں مذہب، ذات، ز بان یا علاقہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ فرقہ پرست عناصرکی جانب سے حالیہ عرصہ میں مسلم خواتین کو بدنام کرنے کی حرکتیں اب نا قابل برداشت ہو تی جارہی ہیں۔ اس زہر آلود ذہنیت کے خلاف آواز اٹھانا ہر اُ س محبِ وطن کی ذ مہ داری ہے جو خواتین کی عزت و احترام کو تہذیب یافتہ معاشرہ کی علامت مانتا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال پہلے بھی "سلی ڈیلس "ایپ بناکر مسلم خواتین کو ہراج کر نے کا اعلان سو شل میڈیا پر کیا گیا تھا۔ دوسری مرتبہ مسلم خواتین کی نیلامی کی یہ حرکت کی گئی ہے۔ ایک سال پہلے ہی سلی ڈیل بنانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جا تی تو اب یہ حرکت نہ کی جاتی۔ لیکن حکومت کی اس معاملے میں خاموشی نے ان شر پسندوں کو ایک اور ایپ بناکر مسلم خواتین کو بدنام کرنے کا موقع دیا۔ بلی بائی ایپ ہو یا سلی بائی ایپ ہو، یہ سارے ایپ فاشزم پر یقین رکھنے والوں کی جانب سے تیار کئے جا رہے ہیں۔ اس میں جہاں ایک مقصد مسلم خواتین کے جذبات کو مجروح کرنا ہے ،وہیں ان کے حوصلوں کو پست کر دینا ہے۔ ان اپیس میں ایسی مسلم خواتین کی تصاویر کو مسخ کیا گیا جو اپنی سماجی، صحافتی ، تعلیمی اور فلاحی خدمات کا ایک ریکارڈ رکھتی ہیں۔ حکو مت کی تفتیشی ایجنسیاں اگر گزشتہ سال ہی ایسے اپیس بنانے والوں کو قانونی لگام دے دیتی تو ایسی نا زیبا حرکتیں یہ شیطان ذہن عناصر نہ دہراتے۔ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انتظامیہ نے قانون کے دو پیمانے رکھے ہیں۔ مسلمان کچھ کرے نہ کرے، شک کی بنیاد پر اسے قانونی گھیرے میں لے لیا جاتا ہے۔ جب کہ فرقہ پرست عناصر کھلے عام گندگی پھیلاتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جا تی۔ یہی وجہ ہے ایک طرف خوف اور دہشت کا ماحول بڑھتا جا رہا ہے اور دوسری طرف قانون کی دھجیاں اُ ڑانے پر بھی اُن سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو تی ہے۔ حکومت خود جب ایک فرقہ کی شرمناک حرکتوں کے باوجود ان کے ساتھ نرمی سے پیش آ تی ہے تو ملک میں نفرت پھیلانے والوں اور زہر اگلنے والوں کی تعداد ہر روز بڑھتی ہی چلی جا ئے گی۔ اب نفرت کی انتہا اس درجہ پر پہنچ گئی ہے کہ مسلم خواتین کی عزتوں اور عفتوں کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن ابلیسوں نے مسلم خواتین کی نیلامی کا اعلان کیا تھا، انہیں برہنہ کر کے سڑکوں پر گھمایا جاتا تاکہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کرتے اور آئندہ کوئی ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی ہمت نہ کرتا۔ لیکن افسوس کہ "بلی بائی "وائرل ہوئے ایک ہفتہ گزرگیا لیکن حقیقی خاطیوں کو پکڑنے میں پولیس ناکام ہے۔ محض دو افراد کو گرفتار کر کے معاملہ کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اتنا بڑا ڈرامہ ایک عورت اور ایک مرد مل کر نہیں بنا سکتے ۔ اس کے پیچھے بہت سے دماغ کام کر رہے ہیں ۔ ممبئی پولیس کے بیان کو مرکزی حکومت سنجیدگی سے لیتے ہوئے آگے کی کاروائی کر کے گی تو بہت سارے کردار سامنے آ ئیں گے۔ سوال حکومت کے سیاسی عزم کا ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی کم ہی توقع ہے کہ حکومت ایسے حساس موضوعات پر اپنے کان دھرے گی۔ جس دورِ حکومت میں وقفے وقفے سے فرقہ پرست طاقتیں اپنی اشتعال انگیزی کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن کر کے رکھ دی ہیں ، وہاں مسلم خواتین کی ہمدردی میں حکومت آگے آئے گی اس پر یقین کرنا بہت دشوار ہے۔ گزشتہ سات سال سے کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ شہریت تر میمی قانون کے ذریعہ ان کی شہریت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کے لئے قانون کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ان کی تہذیب و تمدن اور ان کی زبان کو ختم کرنے کی پوری تیاری کرلی گئی ہے۔اسی ہفتہ "سوریہ نمسکار"کو تعلیمی اداروں میں لازمی طور پر پڑھنے کا قانون بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے بنایا ہے۔ بی جے پی اس تیر سے دو شکار کررہی ہے۔ ایک تو یہ کہ جو بچے سرکاری مدارس میں پڑھ رہے ہیں وہ اس شرکیہ عمل کے عادی ہو جائیں اور آئندہ اپنی زندگی میں اسے ورزش کے نام پر اپنا لیں۔ اور جو بچے سوریہ نمسکار کرنے کے لئے تیار نہ ہوں ،ان کو سرکاری اسکول میں آ نے سے روک دیا جائے۔ اس طرح مسلم بچے تعلیم سے دور ہو جائیں۔ ہر دو صورتوں میں ہمارے لئے آزمائش ہے ۔
مسلم خواتین جو تعلیم میں آ گے بڑھ رہی ہیں، میڈیا میں اپنی پہچا ن بنا رہی ہیں اور اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، ان کی یہ ساری انقلابی سر گرمیاں فا شسٹ قوتوں کو انجانے خوف میں مبتلا کر رہی ہیں۔ انہیں یہ خوف کھائے جا رہا کہ کہیں مسلم خواتین ان سے حساب کتاب چکانے کے لئے آگے نہ بڑھ جائیں۔ سی اے اے کے خلاف اٹھے احتجاج اور خاص طور پر دہلی کے شاہین باغ کے خواتین کے احتجاج نے پورے ملک میں ایک ہیجان پیدا کر دیا تھا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ کا یہ پہلا احتجاج تھا جس میں نوجوان تعلیم یا فتہ خواتین سے لے کر معّمر خواتین نے اپنے عزم اور ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ مسلم خاتون اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے کسی کی محتاج نہیں ہے۔ وہ جب میدان میں آ تی ہیں توعزم و استقلال کے ساتھ پُرامن طریقے پر آگے بڑھتی ہیںاور کوئی اُنہیں ڈرا اور دھمکا نہیں سکتا ہے۔ شاہین باغ کے دھرنے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کہ کسی قائد کی قیادت کے بغیر بھی مسلم خواتین اپنی آنے والی نسلوں کی حفاظت کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دینے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔مسلم خواتین کے اس عزم و استقلال کو دیکھ کر منافر طبقہ حواس باختہ ہوگیا ۔اوراب اُسی حواس باختگی کے نتیجہ میں اِن با صلاحیت اور بیباک خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے خباثت بھرے دماغوں نے "بلی بائی "اور "سلی بائی "کا ہتھکنڈا استعمال کر تے ہوئے انہیں بدنام کر نے کی مذموم حرکت کی ہے۔ لیکن وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کبھی بھی کا میاب نہیں ہو سکتے۔ مسلم خواتین کی اس شعور بیداری سے مسلم دشمن طاقتیں اس لئے بھی پریشان ہیں کہ گزشتہ چند برسوں سے ان طاقتوں نے مسلم خواتین سے ہمدردی کے نام پر انہیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ چند نام نہاد ترقی یا فتہ خواتین کو منظرِ عام پر لا کر یہ باور کرانے کی سعیِ ناکام کی گئی کہ مسلم خواتین اپنے مذہبی عقیدہ اورسماجی بندھنوں کو توڑ کر اپنی پسند کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے مسلم عورتوں سے بے پناہ محبت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے تین طلاق کے خلاف قانون بھی بنا دیا۔ مسلم علماء اور مسلم پرسنل لاء سے واقف دانشوروں سے کوئی مشاورت کئے بغیر مسلمانوں کی مرضی کے خلاف یہ قانون ملک میں نا فذ بھی کردیا گیا۔ وزیراعظم کو مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی معاشی پسماندگی کو دور کرنے کی فکر نہیں رہی۔ انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کتنی ہی مسلم لڑکیاں تعلیم کو اس لئے ترک کر نے پر مجبور ہوئیں کہ اسکولوں میں ضرورت سے فارغ ہونے کے لئے پردے کا انتظام نہیں ہے۔ سچر کمیٹی نے اس تلخ حقیقت کو اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس پر غور بھی نہیں کیا۔ حکومت کی فلاحی اسکیموں میں مسلم خواتین کی حصہ داری کتنی ہے ،اس کے کوئی حقیقی اعداد و شمار حکومت پیش نہیںکر سکتی۔ البتہ یکساں سول کوڈ کا نعرہ بھی ہر تھوڑے دن بعد ملک کی فضاؤں میں گونجتا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے عام انتخابات سے پہلے یہ شوشہ بھی سنگھ پریوار کی جانب سے چھوڑا جا ئے کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر 21سال سے 18سال اسی لئے کر دی گئی کہ کسی نجومی نے اُن کے کانوںمیں یہ بات ڈالی ہے کہ حکومت کو جلد سے جلد یہ قانون ملک میں لاگو کردینا چاہئے، ورنہ مسلمانوں کی آ بادی ہندوؤں سے بڑھ جائے گی اورہمارا ہندوتوا کا خواب دھرا کا دھرا رہ جا ئے گا۔ شائداسی لئے جلدی بازی میں یہ بِل لوک سبھا میں پیش کر دیا گیا۔ اپوزیشن کے زبردست ہنگاموں کے بعد اسے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا گیا،اور یہ لٹکتی ہوئی تلوار مسلمانوں پر کبھی بھی ِگرسکتی ہے ۔مسلم خواتین سے ہمدردی جتانے والے ملک کے وزیراعظم نریندرمودی جی کیوں ان بدقماش افراد کے خلاف کڑی کاروائی کرنے سے گھبرا رہے ہیں، جنہوں نے عزت دار مسلم خواتین کی بازارِ جنس میں بولی لگانے کی انتہائی ذلیل حرکت کرکے سارے مسلمانوں کی تضحیک کی ہے۔ وہ اگر مسلم خواتین کا احترام کرتے ہیں تو فوری طور اُن تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ ملک میں امن و یکجہتی کے ساتھ فرقہ ہم آہنگی کا ماحول بھی برقرار رہ سکے۔
(رابطہ۔ 91+9885210770)