میم دانش
کشمیر میں منشیات کا بحران بے روزگاری اور جمود کے احساس سے پروان چڑ رہا ہے۔ جب اظہار اور کامیابی کے راستے بند دکھائی دیں تو منشیات جذباتی خلا کو پُر کرنے لگتی ہیں۔ ایسے ماحول میںعاقب نبی کی کہانی ایک نایاب مثال پیش کرتی ہے۔ ایک مقامی اور قابلِ فہم رول ماڈل جو نظام سے فرار اختیار کئے بغیرانہی پابندیوں کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ کسی شہری آسائش یا بڑی اکیڈمیوں سے نہیں آیا بلکہ انہی گلیوں، میدانوں اور محدود حالات سے ابھرا، جن سے آج بھی کشمیر کے کئی طبقوں سے وابستہ نوجوان زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی کامیابی نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ کشمیریوں کی صلاحیت ہمیشہ نظرانداز ہوتی رہی ہے۔آئی پی ایل میں عاقب نبی ڈار کی 8.40 کروڑ کی نیلامی محض ایک کھیل کی خبر نہیںبلکہ کشمیر میں یہ ایک سماجی لمحہ بن کر ابھررہی ہے۔ ایسے خطے میں جہاں نوجوان تیزی سے منشیات کی لت، مایوسی اور مواقع کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیںوہیں بارہمولہ کے محدودوسائل سے دنیا کی سب سے چمک دار کرکٹ لیگ تک عاقب کا سفر ایک طاقتور اور امید افزا کہانی بن گیاہے۔ بہت سے کشمیری نوجوانوں کے لئے اس کے نام کے ساتھ جڑی رقم صرف دولت کی علامت نہیں ہے بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نظم و ضبط، صبر اور مستقل مزاجی آج بھی روشن منزل تک لے جا سکتے ہیں۔ اس بات کااعتراف عاقب کے آبائی گائوں میں نوجواں کی طرف سے جشن اور پٹاخوں سے صاف دکھائی دے رہا ہے۔
شیری بارہمولہ میں4؍نومبر1996میں پیدا ہوئے عاقب نبی ڈار نے تیز رفتار گیند بازی کا سب سے مشکل سبق سیکھا، نہ کوئی ایسی اکیڈیمی تھی جہاں بولنگ مشینیں ہوں، نہ کوئی ذاتی کوچ جو رفتار اور زائویوں کی پیمائش کرے۔ عاقب کے پاس تنگ گلیاں، ناہموار نیٹس، ایک پرانی گیند اور یہ غیر متزلزل یقین تھا کہ نظم و ضبط، سہولتوں کی کمی کو پورا کر سکتا ہے۔ شمالی کشمیر کے بہت سے لڑکوں کی طرح اس نے بھی ٹینس بال کرکٹ سے آغاز کیا، جہاں اس نے خام رفتار کی بجائے کنٹرول پر کام کیا اور یہ سیکھا کہ ناموافق حالات میں بھی گیند کو کیسے بولنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔یہ سفر کبھی ہموار نہیں رہا، کشمیر کی طویل سردیاں، محدود نمائش اور گھریلو مواقع کی بے قاعدگی نے ہر موقع کو بے حد قیمتی بنا دیا۔عاقب کی ابتدائی شناخت کسی نمائش یا چمک دمک پر نہیں بلکہ درستگی پر قائم ہوئی۔جب وہ جموں و کشمیر کے ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے میں شامل ہوا تو فوراً اسے ستارہ قرار نہیں دیا گیابلکہ خود کو ثابت کر کے ایسا بولر بن کر دکھایا جس پر کپتان طویل سپل کرانے، کم مجموعے کا دفاع کرنے اور سیم کی ہلکی سی حرکت سے فائدہ اٹھانے کے لئے اعتماد کرتے تھے۔ 2018 میں لسٹ اے میں اس کی شمولیت اور پھر آہستہ آہستہ ٹی ٹونٹی اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھنے کا سفر خاموشی سے طے ہوا۔رانجی ٹرافی میںعاقب نے واقعی اپنی شناخت منوائی۔ ہموار پچوں پر مضبوط اور نامور ٹیموں کے خلاف بولنگ کرتے ہوئے اس نے اپنی سب سے بڑی طاقت دریافت کی۔ وکٹیں صرف جادوئی گیندوں سے نہیں ملتیں بلکہ دباؤ سے حاصل ہوتی ہیں۔ ہر سیزن کے ساتھ اس کا اعتماد بڑھتا گیا، یہاں تک کہ وہ ایک شاندار رانجی مہم میں ٹورنامنٹ کے نمایاں وکٹ لینے والوں میں شامل ہو گیا۔ پہلی بار جموں و کشمیر سے باہر سلیکٹرز نے اس کا نام سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔
عاقب کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب اسے ایلیٹ ڈومیسٹک مقابلوں کے لئے نارتھ زون میں منتخب کیا گیا۔بھارت کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر،اس نے ایسے سپل کئے جنہوں نے یکایک تصورات بدل دئیے،جن میں وکٹوں کی ایک نایاب جھڑی بھی شامل تھی جو نہ صرف مہارت بلکہ دباؤ میں تحمل کو بھی ظاہر کرتی تھی۔ اچانک بارہمولہ کا یہ بولر محض علاقائی کامیابی کی کہانی نہ رہا بلکہ قومی سطح پر گفتگو کا موضوع بن گیا۔ آئی پی ایل کی فرنچائزز، جو ہمیشہ پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں قابلِ اعتماد سیمروں کی تلاش میں رہتی ہیں، اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔جب آئی پی ایلکی نیلامی کا وقت آیا تو سب کچھ غیر حقیقی سا لگنے لگا۔بارہمولہ کے نیٹس کی سرد صبحوں سے لے کر ٹیلی ویژن کیمروں اور بولیوں کی جنگ تک،عاقب کا سفر اپنے سب سے ڈرامائی موڑ پر پہنچ گیا۔ جس لمحے اس کے نام پر جارحانہ بولیوں کا آغاز ہوا، برسوں کی خاموش محنت پر مہرِ تصدیق لگ گئی۔ آئی پی ایل میں منتخب ہونا صرف ذاتی کامیابی نہیں تھا بلکہ اس خطے کے لئے ایک علامت تھا جہاں کرکٹ کے کھلاڑی شاذ و نادر ہی بڑے اسٹیجوںپر نظر آتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے لئے عاقب کی طرف سے کھیلے گئے میچوں پر اگر نظر ڈالیں تو انہوں نے لسٹ اے میں اپنا پہلا میچ وجے ہزارے ٹرافی، 23 ستمبر 2018، ٹی ٹونٹی کا پہلا میچ سید مشتاق علی ٹرافی، 11 نومبر 2019اورفرسٹ کلاس کا پہلا میچ رانجی ٹرافی، 3 جنوری 2020شامل ہیں۔ان ابتدائی میچوں نے اسے جموں و کشمیر کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں مستحکم مقام دلایا۔جنوری 2020 میں، اس نے رانجی ٹرافی میں اڈیسہ کے خلاف پانچ وکٹیں (5/39) حاصل کیں، جو ریڈ بال کرکٹ میں اس کی صلاحیت کا ابتدائی ثبوت تھا۔رانجی سیزن 2024۔25 میںاس نے 44 وکٹیں حاصل کر کے خود کو ٹورنامنٹ کے بہترین وکٹ لینے والوں میں شامل کیا اور ملک کے سب سے مؤثر سیم بولرز میں شمار ہوئے۔ انہی شاندار کارکردگیوں نے اسے قومی سلیکٹرز اور آئی پی ایل اسکاوٹس کی نظر میں نمایاں کر دیا۔نارتھ زون کی نمائندگی کرتے ہوئے (دلیپ ٹرافی 2025۔26) عاقب نے ایک شاندار سپل کیا، جس میں اس نے چار گیندوں پر چار وکٹیں حاصل کیں اور مجموعی طور پر پانچ وکٹیں لیں۔ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک نایاب کارنامہ تھا جس نے اس کی شہرت میں نمایاں اضافہ کیا۔ تجزیہ کاروں نے اس کی دونوں جانب سوئنگ کرانے کی صلاحیت اور درستگی کو خاص طور پر سراہا۔مختلف فارمیٹس میںعاقب نے جموں و کشمیر کے لئے ایک مضبوط ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اس کامیابی کا نفسیاتی اثر شاید اس کا سب سے اہم پہلو ہے جو بظاہر دیکھنے کو مل رہا ہے جیسے کہ اب ہمارے یہاں کے نوجواں کی تنہائی میں کمی، خود اعتمادی میں اضافہ اور ہم عمر افراد کے صحت مند حلقوں کی طرف رغبت جو منشیات سے محفوظ فاصلہ قائم رکھتے ہیں ۔ کھیل کے سماجیات کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نوجوانوں کو قابلِ تعلق کامیاب مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔عاقب کوئی مجرد شخصیت نہیں ،وہ ہم میں سے ہی ایک ہے۔ اس کی کامیابی نے خواہشات کے معنی ہی بدل دئیے اورفوری پیسے و خطرناک راستوں سے ہٹا کر طویل مدتی محنت اور خود پر قابو کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ ان معاشروں میں جہاں منشیات فوری نجات کا وعدہ کرتی ہیں،عاقب کا سفر ، روزمرہ نظم اور جسمانی ضبط کی قدر کو نمایاں کرتا ہے۔یہ وہ اوصاف ہے جو فطری طور پر کھیل کے ہی ذریعے پروان چڑھتے ہیں۔عاقب کی اس کامیابی نے مقامی کلبوں اور صحت مند طرزِ زندگی بسر کرنے کے لئے شمالی کشمیر کے نوجوانو میں نئی جان ڈال دی ہے۔اب والدین اپنے بچوں کو کھیلوں کی تربیت کے لئے زیادہ حوصلہ افزائی کرنے لگے ہیں اور نوجوان کھلاڑی منظم محنت میں ایک ٹھوس مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ نوجوان بھی جو پیشہ ور نہیں ، ان کے لئے کھیل میں شمولیت ایک حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔عاقب کے سفر سے ملنے والا سبق تبھی پائیدار ہوگا جب اسے مواقع، رہنمائی اور ایسے قابلِ رسائی میدانوں سے تقویت دی جائے جہاں نوجوان اپنی توانائی کو مثبت سمت دے سکیں۔مختصراً یہ کہ عاقب نبی ڈار کی آئی پی ایل میںنیلامی محض ایک کھیل کا سنگِ میل نہیں، یہ ایک سماجی پیغام ہے۔ یہ پیغام کشمیری نوجوانوں کو بتاتا ہے کہ برتری اور کامیابی تباہی کے بغیر بھی ممکن ہے اور شناخت کو فرار سے نہیں بلکہ محنت سے تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب منشیات نسلوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیںعاقب کی کہانی خاموش مزاحمت کی ایک شکل ہے،ایک یاد دہانی کہ امید بھی صلاحیت کی طرح پختگی کے لئے صبر مانگتی ہے۔