میں خودکشیوں کی بڑھتی وارداتیں خطرناک رُخ اختیار کرتی جارہی ہیں۔ میں نے ماہر نفسیات کو یہ کہتے سناتھا کہ مسلمانوں میں خودکشیوں کی شرح کم ہے کیونکہ اسلام میں خود کشی حرام ہے ۔ انہوں نے یہ بات تجرباتی نتائج کی بنیاد پر کہی تھی۔ لیکن اب خودکشی کے معاملات میں آئے روز کے اضافے کامطلب ہے کہ نئی نسل‘ لاعلمی اورغیرسنجیدگی کی وجوہات کی بناء پر خدائی احکام سے متاثر نہیں ہے۔ اب نوجوانوں کو اپنی پسند کی چیزوں کے لئے بڑے پیمانے پر میڈیا اور انٹرنیٹ کاانحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے والدین کی تربیتی کہانیاں اور اجتماعی خطبات ہی گویاراہنمائی اورسرور کا سامان ہوا کرتا تھااور بچوں پر والدین سے ذاتی رابطے کا اثر پڑتا تھا۔ دوسرے پہلوؤں میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے مسائل کو جدا گانہ کردیا ہے ، خواہ وہ نوکریاں ہوں، شادی، امتحانات میں ناکامی، صحت کے مسائل یا غربت۔ ہماری فلاحی تنظیموں کے پاس ، چند ایک کو چھوڑ کر،باز آبادکاری کی مستحکم حکمت عملی اور پروگراموں کی کمی ہے۔ انفرادی طور پر ہم ہر چیز کے لئے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر ہم کچھ خاطر خواہ انجام دینے اور ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ جب مالی طرز کی شراکت داری، تعاون اور چندہ دینے کی بات آتی ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک مسکراہٹ بھی صدقہ ہے! لیکن یہ بات بھول جاتے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو ساتھی (خلفاء) صدقے کے لئے بالترتیب 100٪ اور 50٪ اثاثےلیکر سامنے آئے تھے، اور ہمارے لئے مشعل روشن کرگئے تھے۔ مفلوک الحال طبقات کی باز آبادکاری کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پیسہ ہم لوگوں کے سوا کسی اور کے پاس سے نہیں آسکتا۔ سماج کو سدھارنے کے لئے فلاحی اداروں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔صرف ایک آدھ سماجی یا فلاحی ادارے کو ایک یا چند ایک سو روپے دینے سے سماج سدھار کی ضمانت ممکن نہیں اور ایسا کرکے اپنے آپکو صاحبِ خیرات کہلوانے والے لوگ ذمہ داری سے دامن نہیں چھڑا سکتے بلکہ اگر واقعی سماج میں بدلاو لائے جانے کی ذرا بھی خواہش ہے تو پھر جذبہ یارِ باصفا کو دِل میں یاد رکھکر ہر ایک با اعتماد فلاحی ادارے کو تعاون دینا ہوگا اور اپنا مطلوبہ صدقہ تمام متعلقین میں بانٹ کرعطیہ کرنا ہوگا۔ نہ کہ ایسا کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے من پسند افراد کو ادائیگی کرتے ہیں۔ چندہ صرف ایک کو نہیں، سب کو دینا ہے۔ کیونکہ فلاحی تنظیمیں مختلف شعبوں پر کام کرتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے جارہے ہیں جو نئے چیلنجوں کو جنم دیتی ہیں۔
لوگوں خاصکر نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کے لئے ذمہ داروجوہات کی جڑیں دائمی اورشدید نوعیت کی ہوتی ہیں ، جب ان کی طرف وقت پر دھیان نہیں دیا جاتا، بے توجہی یا نیم علاج کیا جاتا ہے تو یہ خطرناک نتائج کا باعث بنتے ہیں جسمیں بدقسمتی سے اقدامِ خود کشی بھی شامل ہے۔
نفسیات صحت کی نگہداشت کا ایک مکمل شعبہ ہے جس کے لئے ایک مخصوص مدت کے لئے متعلقہ ماہرین کی نگرانی میں روح کی رہنمائی سے لے کرجسم کے علاج تک دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو بعض اوقات سالوں تک طول پکڑتاہے۔ ہاں مذہبی رہنمائی اور خودکشیوں کی وعید ، مصائب اور ان کی تقدیر کے بارے میں احکامات پر یقین کا فیصلہ کن اثر لوگوں کی ذہنیت پر پڑتا ہے جو اقدامِ خودکشی سے باز رہنے میں اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے کورنجیدہ اور افسردہ لوگوں جو زندگی سے اُکتا گئے ہوں کی بازآبادکاری میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا خصوصا نوعمروں کا جب وہ امتحان سے لے کر ازدواجی زندگی تک کے معاملات میں دل افسردہ ہوجاتے ہیں۔ ہمارا مسلہ یہ ہے کہ کامیاب اُمیدواروں کو ہم قبول کر کرکے آسمان پر چڑھاتے ہیں اور ناکام امیدواروں کی تو خود بہ خود حوصلہ شکنی ہوجاتی ہے اور اسکا گہرا اثر وقت پر ایک برا انجام لاکر آموجود ہوتا ہے۔حتیٰ کہ افسردگی کی حالت اسقدر خراب ہوجاتی ہے کہ ایک وقت پہنچ جاتا ہے جب پیچیدگیاں اسقدر بڑھتی ہیں کہ خودکشیوں تک نوبت پہنچھ جاتی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر ان کی ناکامیوں کے لئے قابل اعتبار آبادکاری کے راستے تلاش کرنے ہوں گے تاکہ انہیں امید اور خوشی کی دنیا میں واپس لایا جاسکے، اس معاملے میں آئمہ ، والدین ، اساتذہ کرام اور ظاہر ہے کہ میڈیا کے ذریعے کلیدی کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔.
محققین کے لئے آخری لیکن کم از کم یہ ہے کہ ان خودکشیوں پر پوری طرح سے تحقیق کی جانی چاہئے اور متعلقین کوسدِ باب کے لئے حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔
������