کشتواڑ//پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ خون خرابے کو روکنے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں پی ڈی پی کے ایک اجتماع کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔محبوبہ مفتی نے حالیہ ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا’’اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی حالیہ ہلاکتوں کے بعد تقریباً 40 اساتذہ کو پکڑا گیا ہے اور 700 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس پکڑ دھکڑ کے بعد بھی لوگوں کو تحفظ کا احساس نہیں مل رہا ہیــ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’ہمارے پاس دوسرا راستہ وہی ہے جو واجپائی جی نے اپنایا تھا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے بات چیت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ اس سے جموں و کشمیر کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آئی تھی اور ہلاکتوں میں کمی آ گئی تھی‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ چین کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود بھی اس کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا’’ہمیں یہاں بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہیں۔ آج ہی پونچھ میں جے سی او سمیت پانچ جوان مارے گئے؟‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’یہ خون خرابہ کب تک چلے گا؟ کب تک بی جے پی خون پر سیاست کرتی رہے گی؟ واجپائی کا راستہ بالکل صحیح تھا۔ خون خرابے کو روکنے کا واحد راستہ بات چیت ہے‘‘۔ اس سے قبل محبوبہ مفتی نے ڈاک بنگلہ کشتواڑ میں پارٹی اجلاس سے خطاب کیا۔انکے ہمراہ پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران انیل سیٹھی،اعجاز میر ، فردوس ٹاک، شیخ ناصر حسین موجودتھے جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت ووٹ مانگنے نہیں بلکہ 370 و35A کو واپس لانے کیلئے مل کر لڑنے کیلئے عوام کا تعاون مانگنے آئی ہے۔انھوں نے کہا ’’بی جے پی جموں کشمیر میں دفعہ370 کو رکاوٹ بتاتی تھی، مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے وقت میں اسے اسلئے بنایا تھا تاکہ باہر کے لوگ ہماری زمین و نوکریاں نہ لے سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں صرف دوکاروباری و دوسیاست دانوں نے سب کچھ بیچ ڈالا۔ انھوں نے واجپائی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان نے بات چیت کی اور جموں کشمیر میں خون خرابہ بند ہوا۔ان کا کہناتھا’’ دفعہ 370نہ صرف ہماری شناخت بلکہ یہ ہماری زمین ،ہماری نوکریاں اور ہمارے وسائل کا محافظ تھا جبکہ اس وقت ریت و بجری کیلئے بھی ٹھیکیدار ہریانہ و پنجاب سے آتے ہیں‘‘۔انھوں نے کہا’’ ہم نے گاندھی، نہرو و امبیدکر کے ملک کے کیساتھ ریاست کو ملایا تھا نہ کہ گوڈسے کے ملک کے ساتھ ملایا تھا۔ ہمیں وہ ہندوستان منظور نہیں جہاں ہندو مسلم کو لڑایا جارہا ہو۔ نہرو نے ملک سے وعدہ کیا کہ جموں وکشمیر کی شناخت کو ہم برقرار رکھیں گے لیکن آج اسے آپ نے ختم کردیا‘‘۔
ٹھاٹھری میں بھی جلسے سے خطاب کیا،کہا حالات بدسے بدتر
مہنگائی، بے روزگاری و خون خرابے کیلئے بھاجپا کو بنایا تنقید کا نشانہ
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //چناب ویلی پورے ملک کو روشن کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کی عوام کو اندھیرے میں رکھا جارہا ہے،پن بجلی پروجیکٹوں کی بھر مار ہونے کے باوجود خطہ میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے،دفعہ 370 و 35اے کی منسوخی کے بعد عوام کا جینا محال بن گیا ہے۔ان باتوں کا سابق وزیر اعلیٰ و پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے خطہ چناب کے دورے کے دوران ٹھاٹھری میں عوامی جلسے و پارٹی کارکنوں کی میٹنگ سے مخاطب ہوتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امریک سنگھ جنرل سیکرٹری سابق ایم ایل اے اعجاز میر، پارٹی ترجمان انیل سیٹھی، سابق ایم ایل سی فردوس احمد ٹاک،سیکرٹری شیخ ناصر، ضلع صدر اشفاق وازاہ، ضلع صدر مہیلا ونگ پروین خان،انیتہ سنگھ، زونل صدر طالب حسین، اندروال پی ڈی پی لیڈر عبدالمجید بٹ، عبدالرحمن کشمیری بھی موجود تھے۔محبوبہ مفتی نے موجودہ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سرکار مہنگائی و بے روزگاری کی روک تھام کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی چناب سے ہزاروں میگاواٹ بجلی تیار ہو کر پورے ملک کو سپلائی ہوتی ہے لیکن مقامی لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوران وزیر اعلیٰ این ایچ پی سی دو پن بجلی پروجیکٹ جموں و کشمیر سرکار کو واپس دلانے کی میں نے پوری کوشش کی تھی تاکہ مقامی نوجوانوں کے روزگار و علاقہ کی ترقی ممکن ہو سکتی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔سابق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی سرکار کو موجودہ حالات کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بھاجپا قیادت یہ کہتی تھی کہ 370 ہٹانے کے بعد جموں و کشمیر کا نقشہ بدل جائے گا، خون خرابہ بند ہوگا، بے روزگاری دور ہوگی اور مسئلہ کشمیر بھی حل ہو گا لیکن دو برسوں میں عوام کو جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کچھ اس کے الٹ ہوگیا، ہماری شناخت ختم ہوگئی، نوکریاں چلی گئیں، زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارسٹ ایکٹ کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ اگر جنگلات ایکٹ عوام کے حق میں ہے تو پھر گجر بکروال کنبوں کے مکانوں کو کیوں توڑا جارہا ہے،ان سے زمینیں کیوں چھینی جارہی ہیں۔حالیہ دنوں کشمیر میں ہوئی لوگوں کی ہلاکت و پونچھ میں ہوئے انکائونٹر کو لے کر موجودہ حکومت پر سوالات اٹھاتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لاپرواہی سے حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں اور موجودہ سرکار متعلقہ حکام کو جوابدہ بنانے کے بجائے عام کشمیریوں کو ہراساں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 و 35اے مسلمانوں کی جاگیر نہیں تھی بلکہ مہاراجہ نے جموں و کشمیر کے ہر باشندے کے تحفظ کیلئے ایک تحفہ دیا تھا تاکہ باہر سے آکر کوئی یہاں کی زمینوں و نوکریوں پر قبضہ نہ کرے لیکن بدقسمتی سے بی جے پی نے اسے مذہبی رنگت دے کر ہر طبقہ کو مشکل میں ڈال دیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات سے کشمیری نہیں بلکہ جموں کے لوگ بھی پریشان ہیں، چاہیے وہ دربار مو بند کرنے کا فیصلہ ہو یا پھر ریلائنس کے شاپنگ کمپلیکس کھولنے سے ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کو پرانے حالات پر واپس لانے میں ان کا ساتھ دیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ 370 و 35اے کی واپسی کے لئے وہ کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریت و بجری تک کے ٹھیکیدار باہر سے آرہے ہیں اور آہستہ آہستہ ہر چیز پر قبضہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے ہندو، مسلم، سکھ اتحاد کا نعرہ دیتے ہوئے عوام سے متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطہ چناب کا دورے کا مقصد دفعہ 370 و 35اے کی منسوخی کے بعد پیدا عوامی مسائل کا جائزہ لینا و لوگوں سے متحد ہو کر ان کی آواز سے آواز ملانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔