گلفام بارجی
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن نہایت احترام اور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن محنت کش طبقے کی عظمت، ان کی قربانیوں، جدوجہد اور ان کے بنیادی حقوق کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص ہے۔ مزدور کسی بھی ملک، قوم اور معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر مزدور اپنی محنت، لگن اور دیانت داری سے کام نہ کریں تو ترقی کا پہیہ رک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مزدور کو کسی بھی قوم کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔دنیا بھر میں کارخانے، تعمیراتی منصوبے، سڑکیں، پل، اسکول، اسپتال، کھیت، باغات اور صنعتیں مزدوروں کی شب و روز محنت کا نتیجہ ہیں۔ ایک مزدور شدید گرمی، سردی، بارش اور سخت حالات میں کام کر کے معاشرے کی خدمت انجام دیتا ہے۔ اس کے بغیر انسانی زندگی کی ضروریات پوری ہونا ممکن نہیں۔ لہٰذا مزدور صرف ایک کارکن نہیں بلکہ ترقی اور خوشحالی کا معمار ہے۔مزدوروں کے عالمی دن کی تاریخ انیسویں صدی کی ایک عظیم جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ سنہ 1886ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں مزدوروں نے روزانہ 8 گھنٹے کام، بہتر اجرت اور انسانی حقوق کے حصول کے لئے تحریک چلائی۔ اس تحریک کے دوران بے شمار مزدوروں نے قربانیاں دیں اور ظلم و زیادتی برداشت کی مگر اپنے حق سے دستبردار نہ ہوئے۔ انہی قربانیوں کی یاد میں دنیا بھر میں یکم مئی کو یومِ مزدور منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقوق ہمیشہ جدوجہد اور قربانی سے حاصل ہوتے ہیں۔ہمارے ملک سمیت دنیا کے کئی حصوں میں مزدور طبقہ آج بھی مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ بہت سے مزدور کم اجرت پر سخت محنت کرتے ہیں جبکہ بعض جگہوں پر انہیں بروقت تنخواہ بھی نہیں ملتی۔ مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کی کمی، علاج معالجے کی ناقص سہولیات اور بچوں کی تعلیم جیسے مسائل مزدور طبقے کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیتے ہیں۔ بعض مزدور روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور اگر ایک دن کام نہ ملے تو ان کے گھروں میں فاقے کی نوبت آجاتی ہے۔تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے مزدور جان جوکھوں میں ڈال کر بلند عمارتیں تعمیر کرتے ہیں مگر اکثر ان کے پاس مناسب حفاظتی سامان موجود نہیں ہوتا۔ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور دھوپ میں پسینہ بہا کر اناج پیدا کرتے ہیں، مگر خود غربت کا شکار رہتے ہیں۔ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور مشینوں کے شور اور سخت ماحول میں گھنٹوں محنت کرتے ہیں، مگر ان کے حقوق اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
اسلام نے بھی مزدور کے حقوق پر خصوصی زور دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ اس فرمان میں مزدور کے حق، عزت اور انصاف کا واضح درس موجود ہے۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی بھی محنت کش کے ساتھ ظلم نہ کیا جائے اس کی محنت کا پورا معاوضہ دیا جائے اور اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے۔حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کے لئے بہتر قوانین نافذ کریں کم از کم اجرت مقرر کریں، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائیں، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کریں اور ان کے لئے محفوظ کام کا ماحول مہیا کریں۔ اسی طرح سماج کے ہر فرد پر بھی لازم ہے کہ وہ مزدور طبقے کی عزت کرے ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرے۔ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار، جلسے، ریلیاں اور تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، جن میں مزدوروں کے حقوق، ان کی خدمات اور مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ لیکن یہ دن صرف تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں عملی طور پر مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔آج کے جدید دور میں مزدوروں کی محنت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان کی پیداوار بڑھے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ ہنر مند مزدوروں کی تربیت، فنی تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے انہیں معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مزدور کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور خدمات کے بغیر ترقی، خوشحالی اور استحکام کا تصور ممکن نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یکم مئی کے دن محنت کش طبقے کو خراجِ تحسین پیش کریں اور یہ عہد کریں کہ ان کے حقوق کے تحفظ، عزت اور خوشحالی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے کیونکہ خوشحال مزدور ہی خوشحال قوم کی ضمانت ہے۔