شفیع نقیب
انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات میں خوراک کو ہمیشہ اولین مقام حاصل رہا ہے۔ یہی خوراک انسان کے جسم کو طاقت دیتی ہے، ذہن کو توانائی فراہم کرتی ہے اور زندگی کے سفر کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن جب یہی خوراک اپنی اصل شکل کھو کر ملاوٹ اور دھوکہ دہی کا شکار ہو جائے تو وہ صحت کا ذریعہ بننے کے بجائے بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے آج کی دنیا میں خوراک میں ملاوٹ ایک ایسی خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے جو نہ صرف صحت عامہ کے لئے خطرہ بن چکی ہے بلکہ انسانی اخلاقیات اور تجارتی دیانت پر بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
خوراک میں ملاوٹ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی چیز میں پانی ملا دیا جائے۔ درحقیقت یہ ایک وسیع اور خطرناک عمل ہے جس میں اصل غذائی اشیائ میں جان بوجھ کر غیر معیاری یا مضر مادے شامل کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی مقدار بڑھائی جا سکے، ظاہری شکل بہتر بنائی جا سکے یا اسے زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکے۔ اس عمل کے کئی طریقے ہیں۔ کبھی خالص چیز میں سستا مادہ ملا دیا جاتا ہے، کبھی مہنگی چیز کو کسی کم قیمت شے سے بدل دیا جاتا ہے، کبھی باسی یا خراب غذا کو خوبصورت پیکنگ میں چھپا کر فروخت کیا جاتا ہے اور کبھی جھوٹے لیبل لگا کر صارفین کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔اگر ہم اپنے اردگرد کے بازاروں کا جائزہ لیں تو یہ مسئلہ کسی تحقیق یا رپورٹ کا محتاج نہیں رہتا۔ دودھ، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے ایک بنیادی غذا ہے، اس میں پانی ملانا تو جیسے ایک معمولی بات سمجھ لی گئی ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ دودھ کو گاڑھا ظاہر کرنے کے لئے اس میں نشاستہ یا دودھ کا پاؤڈر شامل کیا جاتا ہے، چکنائی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے سستے تیل تک ملا دئے جاتے ہیں اور بعض اوقات اس کی مدتِ استعمال بڑھانے کے لئے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، بائیکاربونیٹ یا فارملین جیسے خطرناک کیمیکل استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کہیں کہیں دودھ میں یوریا تک ملایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لئے نہایت مضر ہے۔اسی طرح مصالحہ جات کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ لال مرچ کے پاؤڈر میں رنگ، اینٹ کا باریک سفوف یا دوسری سستی چیزیں ملا دی جاتی ہیں تاکہ مقدار بڑھائی جا سکے۔ ہلدی میں مصنوعی رنگ شامل کر کے اسے زیادہ چمکدار بنا دیا جاتا ہے۔ شہد میں چینی کا شربت شامل کر کے اسے خالص شہد کے نام پر فروخت کیا جاتا ہے۔ کافی میں مکئی یا گندم کا پاؤڈر ملا دیا جاتا ہے اور گھی میں سستا تیل شامل کر کے اسے دیسی گھی کا نام دے دیا جاتا ہے۔بازار کی چکاچوند اور خوبصورت پیکنگ اکثر صارفین کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ بڑے بڑے دعوے، دلکش اشتہارات اور دل لبھانے والے نعرے سن کر خریدار یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ ایک معیاری چیز خرید رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی چیزیں محض ظاہری چمک رکھتی ہیں جبکہ اندر سے ان کا معیار انتہائی ناقص ہوتا ہے۔
خوراک میں ملاوٹ کی سب سے بڑی وجہ معاشی مفادات ہیں۔ جب کسی چیز کی پیداوار پر خرچ زیادہ ہو اور خریدار کم قیمت ادا کرنے کو تیار ہو تو بعض تاجر اس فرق کو پورا کرنے کے لئے ملاوٹ کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ زیادہ منافع کمانے کی خواہش بھی اس عمل کو فروغ دیتی ہے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ چند روپے زیادہ کمانے کے لئے انسانوں کی صحت سے کھیلنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔یہ مسئلہ صرف ہمارے ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک بھی اس سے متاثر ہیں۔ چند سال پہلے یورپ میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں مہنگے بیف کے بجائے گھوڑے کا گوشت فروخت کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح چین میں دودھ میں میلامین نامی کیمیکل شامل کرنے کے ایک واقعے نے ہزاروں بچوں کو بیمار کر دیا تھا اور کئی معصوم جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ یہ واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خوراک میں ملاوٹ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔
غذائی ملاوٹ کے اثرات انسانی صحت پر نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ ملاوٹ زدہ خوراک کھانے سے ابتدا میں معمولی بیماریاں جیسے اسہال، متلی اور الرجی پیدا ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر یہی غذا طویل عرصے تک استعمال کی جائے تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دل کے امراض، جگر کی خرابیاں، گردوں کے مسائل، ذیابیطس اور حتیٰ کہ کینسر جیسے خطرناک امراض بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
بعض کیمیکل ایسے ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے اندرونی نظام کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن پر آکسائیڈ جسم کی قدرتی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے۔ دودھ میں شامل بعض کیمیائی مادے جسم کے تیزاب اور الکلی کے توازن کو بگاڑ دیتے ہیں جبکہ امونیا اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر ذہنی اور حسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس مسئلے کا سب سے زیادہ شکار غریب اور متوسط طبقہ ہوتا ہے۔ محدود آمدنی کی وجہ سے یہ لوگ سستی اشیاء خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اکثر یہی اشیاء ملاوٹ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس طرح خوراک میں ملاوٹ نہ صرف صحت بلکہ سماجی انصاف کا بھی مسئلہ بن جاتی ہے۔حکومتیں اس مسئلے کو روکنے کے لئے مختلف قوانین اور ضابطے بناتی رہی ہیں۔ خوراک کے معیار کو جانچنے کے لئے جدید سائنسی طریقے بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں کرومیٹوگرافی، اسپیکٹروسکوپی اور دیگر جدید لیبارٹری ٹیسٹ شامل ہیں۔ ان طریقوں کے ذریعے غذائی اشیائ میں شامل مضر اجزاء کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملاوٹ کرنے والے افراد بھی وقت کے ساتھ زیادہ پیچیدہ طریقے اختیار کر لیتے ہیں جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی لئے ضروری ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ باقاعدہ معائنہ، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور معیاری کنٹرول کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور عوامی آگاہی کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ جب تک صارفین خود محتاط نہیں ہوں گے اور اپنی صحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوں گے تب تک اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔
تجارت دراصل اعتماد کا نام ہے۔ اگر ایک تاجر اپنے منافع کے لئے لوگوں کی صحت سے کھیلتا ہے تو وہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا بلکہ انسانیت کے خلاف جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں بعض لوگ منافع کی دوڑ میں اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ انہیں اس بات کی پرواہ بھی نہیں رہی کہ ان کی ملاوٹ کسی کے جسم میں بیماریوں کا زہر گھول رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ غذائی تحفظ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر کسی قوم کی خوراک ہی غیر معیاری اور مضر ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ بیمار افراد نہ تو بہتر طریقے سے کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں سخت قوانین نافذ کریں، متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں دیانتداری سے انجام دیں، صنعت کار معیار کو ترجیح دیں اور صارفین بھی خریداری کے وقت احتیاط برتیں۔ جب تک حکومت، صنعت اور عوام تینوں مل کر اس مسئلے کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے تب تک غذائی ملاوٹ جیسے سنگین جرم پر قابو پانا ممکن نہیں۔
ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ خالص خوراک صرف ایک تجارتی چیز نہیں بلکہ انسانی صحت کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہم اس حق کا تحفظ نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ کیونکہ جب خوراک ہی زہر بن جائے تو زندگی کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں اور کسی بھی معاشرے کے لئے اس سے بڑا سانحہ شاید کوئی اور نہیں۔
رابطہ9622555263
[email protected]