بلاشبہ دنیا بہتر اور تابناک بن سکتی ہے ،اگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجائے یا اُنہیں سکھادیا جائے کہ خوش رہنا اُن کے لئے ضروری ہے ،کیونکہ خوشی کسی کی جاگیر نہیںہے اور نہ ہی کوئی اسے اپنی کنیز بناکر رکھ سکتا ہے،البتہ خوشی کو حاصل کرنے کے لئے جستجو بھی کرنا پڑتی ہے،کیونکہ خوشی کے بغیر امن حاصل نہیں ہوتا اور امن کے بغیر خوشی حاصل نہیں ہوتی۔جبکہ حقیقی خوشی ایک ایسا پودا ہے جو ہر جگہ اُگ سکتا ہےاوراس کے پھولوں کی خوشبو دوسروں کے باغوں اور تفریح گاہوں میں ہی نہیں ملتی بلکہ ہمارے اپنےگھروں میںہی رہتی ہے۔بے شک خوش رہنے سے دوسروں کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہےاور اُس وقت انسان کا دِل خوشی سے زیادہ معمور ہوجاتا ہے جب وہ کوئی نیک کام کرتاہے،گویاخوشی ایک ایسا عطر ہے کہ جسے جتنا چھڑکا جائے، اُتنی ہی خوشبو پھیلتی جائےگی۔یاد رہے کہ خوش رہنے کے لئےہمیں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، ہمیں بس اپنے اندر سے تلخ جذبات کو نکال پھینکنا ہوتاہے۔ جب دل کدورتوں سے پاک ہو جاتا ہے تو خود بخود زندگی میں خوشی کا چراغ جلنے لگتے ہیں اور جب ہم خود خوش ہوجاتے ہیں تو یہی خوشی دوسروں تک بھی پہنچ جاتی ہے، ہماری مسکراہٹیں دوسرے چہروں پر بھی رنگ بکھیر دیتی ہیں اور ہماری موجودگی دوسروں کے لئے سکون کا باعث بنتی ہیں۔چنانچہ اسلام ہمیں محبت، درگزر، رواداری اور نرمی کی تعلیم دیتا ہےاور ہمیں اِسی صفت کو اپنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ زندگی میں ہمیں بہت سے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن سچی خوشی اُنہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو دل میں بغض نہیں رکھتے، جو دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرتے ہیں اور جو محبت بانٹنے کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں۔محبت، درگزر اور صبر وہ اوصاف ہیں جو نہ صرف ہماری دنیا کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق گزاریں، دوسروں سے حسنِ سلوک کریں اور اپنے دلوں کو کینے، نفرت اور حسد سے پاک رکھیں تو یہی ہمارے لیے بہترین یادگار ہوگی اور اگر ہم اپنے دل و دماغ کو خوشیوں کی آماجگاہ بنائیں گے تو کئی طرح کےنقصانات سے بچ جائیں گے ۔ پس، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اسلام کی روشنی میں گزاریں، معاف کرنا، صبر کرنا اور محبت بانٹنا سیکھیں تاکہ ہماری یادیں بھی صدقۂ جاریہ بن جائیں اور ہمارے بعد بھی ہماری محبت، نرمی اور حسنِ سلوک دوسروں کے دلوں میں زندہ رہے۔بے شک زندگی ایک لمحاتی سفر ہے، جو پل بھر میں خوشی سے مسکرا اُٹھتا ہے اور پل بھر میں اُداسی کے سائے میں ڈوب جاتا ہے۔ ہم سب کے پاس وقت محدود ہے، مگر ہم اسے کس طرح گزارتے ہیں، ہمیںاس پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ہاں!کسی کا دِل خوش کرنے والا بندہ اللہ کے نزدیک زیادہ عبادت گذار ہے،البتہ جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ لوگ اس کی تعظیم کرنے کے لئے کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں ہی بنا لیتا ہے۔ زندگی کا حسن اس میں نہیں کہ ہم دوسروں سے جیتیں، بلکہ اس میں ہے کہ ہم اپنے دل کو اتنا وسیع کر لیں کہ کسی کی تلخ باتیں ہمیں نہ توڑ سکیں اور کسی کی غلطیاں ہمیں زہر آلود نہ کر سکیں،کیونکہ رواداری وہ روشنی ہے جو ہمیں اندھیروں میں اُلجھنے سے بچاتی ہے۔ جب ہم اپنے دل کو وسعت دیتے ہیں، اختلافات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور دوسروں کی کوتاہیوں کو درگزر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو زندگی کے جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں اور خوشیاں خود بخود ہمارے دامن میں آجاتی ہیں۔ اس لئے اگر ہمارے کسی کام کو کرنے سے دوسروں کو خوشی محسوس ہو ئی ہو، تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم نے اپنا اخلاقی فرض ادا کیا ہے۔اسی طرح اگر ہماری کسی بات کے کہنے، ہمارے کسی کام کے کرنے یا ہمارے کسی موضوع پر لکھنے سے کسی کا دل خوش ہوگیا تو جان لینا چاہئے کہ ہمیں اپنی محنت کا اجر مل گیا ،اور اگر ہم نے کسی کی روح کو خوشی بخشی ہے تو مان لینا چاہئےہماراخوشی کا جام لبالب بھر گیا ہے۔پس!اگر حقیقی خوشی کے متلاشی ہو تو اپنے دل کو نیک خیالات کا نشیمن بنائواور عارضی زندگی کے محدودوقت کو جھوٹی خوشیوں میں ضائع نہ کرو۔