میر امتیاز آفریں
دور حاضر میں، جب مغربی دنیا مادیت اور بوریت کے دو پاٹوں کے درمیان پس کر ایک تہذیبی بحران کی طرف گامزن ہے، روحانیت اور تصوف کی طرف ان کے یہاں خاصی دلچسپی دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ اپنے داخلی کھوکھلے پن کو کسی ایسے فلسفے اور طرز زندگی سے دور کرنا چاہتے ہیں جو ان کو مادی اور ذہنی پریشانیوں سے نجات دلا سکے۔ اس سلسلے میں کبھی وہ بدھ مت کی طرف رخ کرتے ہیں اور کبھی یوگا اور تانترا کے ذریعے اپنے امراض کا مداوا کرنا چاہتے ہیں۔دوسری طرف مشرقی دنیا مغرب کی اندھا دھند پیروی اور تقلید میں اپنے روحانی اور مذہبی اقدار کو لے کر احساسِ کمتری کی شکار ہے اور اپنے مرکز سے دور بھاگ رہی ہے۔ اس لئے دور حاضر کے انسان کے لئے نہ اِدھر سکون ہے اور نہ ادھر۔انسان آسمان میں تو اڑنے لگا ہے، نئی ایجادات اور دریافتوں سے ایک مصنوعی جنت تیار کرنے میں تو کامیاب ہونے لگا ہے مگر آج تک اپنی ہستی کو سمجھنے سے قاصر نظر آرہا ہے۔
اس روحانی بحران میں تصوف کی طرف خاصی دلچسپی دیکھنے کو ملتی ہے اور لوگ ابن عربی ؒ، غزالی ؒ اور رومیؒ کی طرف رخ کر رہے ہیں اور یوں زندگی کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کی اور بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ مگر ہمارے یہاں جو تصوف عام طور پر پنپتا نظر آرہا ہے اس میں خود شناسی و خدا شناسی کے بجائے شخصیت پرستی اور رسم پرستی دیکھنے کو ملتی ہے۔ سلاسلِ طریقت میں پیری مریدی کا اصل تصور مسخ ہو کر رہ گیا ہے اور دنیا پرست جعلی صوفیوں کی ایک بڑی تعداد ہر طرف پھیل گئی ہے جو عوام الناس کا مذہبی، جذباتی اور معاشی اِستحصال کررہے ہیں۔
تصوف، جس کو سکونِ قلب پانے کی سب سے موثر اور پاکیزہ راہ تصور کیا جاتا تھا، اب کچھ جاہل صوفیوں کے ہاتھوں یرغمال ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں علمی حلقوں میں اس بات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ تصوف کو ایک بار پھر سے ایک ایسے طرزِ حیات way of life کے طور پر پیش کیا جائے جو دور جدید کے پریشانِ حال انسان کو سکون قلوب دے سکے اور اسے روحانی اور نفسیاتی طور پر اس قابل بنا سکے کہ وہ کٹھن مراحلِ زندگی میں امید کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ اس سلسلے میں روحانی دنیا کے ایک معروف استاد پروفیسر احمد رفیق اختر کے ایک شاگرد محمد ناصر افتخار نے’’ ‘خود سے خدا تک‘‘ لکھ کر ایک اچھا کارنامہ انجام دیا ہے۔ تقریباً ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل اس کتاب کو صوفی مقولے ’’من عرف نفسه قفد عرف ربه‘‘ کی ایک عملی تفسیر کہا جائے تو بجا ہوگا۔ اس کتاب میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خود شناسی کے ذریعے کیسے خدا شناسی کے مقام تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ کتاب اس سوال کا بھی جواب دینے کی کوشش کرتی ہے کہ دور جدید میں بے چینی، دباؤ اور پریشانی سے کس طرح اعلیٰ خیال (تصوف) کے ذریعے نجات پائی جاسکتی ہے۔ مصنف اس تصوف کی وکالت کرتا ہے جو رہبانیت، مادیت اور رسم پرستی سے بالاتر ہے اور انسانی فطرت اور خدائی شریعت کے انتہائی قریب ہے۔ ان کے نزدیک تصوف fool’s paradise میں رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی ہے، ایک mindset ہے، ایک psyche ہے جو انسان کو داخلی طور پر مثبت انداز میں جینا مرنا سکھاتی ہے۔اس کتاب میں تصوف کے اصولوں کے مطابق تربیتِ نفس اور معرفتِ رب کے تربیتی منہاج کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے اور تصوف میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نفس کے تزکیہ اور تصفیہ کے بعد ہی انسان معرفت حاصل کرنے کے لائق بنتا ہے اور اس پر علم و حکمت کے دروازے کھلتے ہیں۔
کتاب کا آغاز ‘ابتدائیہ سے ہوتا ہے جس میں مصنف نے نفسِ انسانی کی حقیقت کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور انسان کو دعوت فکر دی ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ کون ہے اور اس کا نفس کس ڈگر پر ہے۔ مصنف ‘ابتدائیہ ‘ میں اس کتاب کو لکھنے کا مقصد کچھ اس طرح بیان کرتا ہے:
’’آخر ڈپریشن، ٹینشن اور اینگزائٹی سے نجات کیسے ممکن ہے اور پھر سارے سوالوں کا ایک سوال یہ کہ اللہ کو کیسے پایا جاسکتا ہے؟ اللہ کی تلاش کیسے ممکن ہے؟ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ان سب سوالوں کے جوابات حاصل کریں۔‘‘
مصنف کے نزدیک جسم، حواس اور ذہن کے مجموعے کو نفس کہا جاتا ہے۔حواس جسم کے لئےsensors کا کام کرتے ہیں اور معلومات اکٹھا کرتے ہیں اور دماغ ڈیٹا سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ ذہن خیال کا نام ہے اور یہ خیال ہی ہے جو یہ متعین کرتا ہے کہ انسان زندگی سے مطمئین ہے یا ناخوش اور خیال کے ذریعے ہی معرفتِ ذات ہوسکتی ہے۔ابتدائیہ کے بعد کتاب کو تین حصوں میں بانٹا گیا ہے، جبلیاتِ نفس (Instincts)، تربیتِ نفس(Training of the Self) اور اعلیٰ شعور تک رسائی( Access towards higher consciousness)
پیاز کے چھلکوں کی طرح مصنف نے نفس کی تہوں کا جائزہ لیا ہے اور نفس امارہ، نفسِ لوامہ اور نفسِ مطمئنہ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے عرفانِ ذات میں ان کے رول پر روشنی ڈالی ہے۔ان کی نظر میں تربیت، تزکیہ اوراعلیٰ شعور کے ذریعے ہی صحیح مقصدِ حیات جانا جاسکتا ہے۔ تربیت نفس کے لئے توبہ، ذکر الٰہی، تلاوتِ قرآن اور محبتِ رسول ﷺ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔اللہ کی پہچان اور مشاہدہ حق کے لئے آیاتِ قرآن، احادیث نبویؐہ اور صوفیاء کرام کے اشعار سے جابجا استشہاد کیا گیا ہے۔ انسان کو اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ مقصدِ حیات کو اختیار کرے۔ کتاب اگرچہ اردو زبان میں ہے مگر تقریباً ہر دوسرے صفحے پر بیچ بیچ میں انگریزی الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں ، شاید اسکول کالج جانے والے طلباء اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو کتاب کی طرف راغب کرنے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔کتاب میں کہیں کہیں غیر ضروری تفصیلات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور تسلسل ٹوٹتا نظر آتا ہے مگر پھر بھی قاری موضوع کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ کتاب کی زبان کو انتہائی سادہ اور عام فہم رکھا گیا ہے۔کتاب کے آخر میں دو مختصر عنوانات قائم کئے گئے ہیں، منتخب آیاتِ قرآنی اور اکتشافات۔پہلے تو قرآن مجید کی کچھ منتخب آیات سے مثالی زندگی گزارنے کے حوالے سے رہنمائی لی گئی ہے۔اکتشافات میں مصنف نے اپنے کچھ ایسے مختصر اقوال کو درج کیا ہے جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ’’خود سے خدا تک‘‘ خود کو پہچاننے کی ایک نفسیاتی روداد ہے جو ہر اس شخص کے لئے انتہائی مفید ہے جو مذہب، روحانیت اور انسانی نفسیات میں دلچسپی رکھتا ہے اور عرفانِ ذاتِ باری کو مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔