عید الفطر
آصف حسین کشمیری
رمضان المبارک کی پُرنور ساعتیں جب اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں اور شوال کا چاند افق پر نمودار ہوتا ہے تو مسلمانانِ عالم کے دل خوشی، شکر اور مسرت کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔ یہ خوشی محض ایک رسمی مسرت نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی تربیت کے بعد ملنے والی کامیابی کی علامت ہے۔ یہی وہ مبارک دن ہے جسے ہم عید الفطر کے نام سے جانتے ہیں۔ عید الفطر دراصل رمضان المبارک کی ایک ماہ طویل عبادت، ریاضت، صبر اور تقویٰ کے بعد ملنے والا انعام ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کو اپنی زندگی کا محور بناتا ہے تو وہ حقیقی کامیابی کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔عید الفطر کا پیغام صرف ظاہری خوشیوں، نئے لباس اور روایتی تقریبات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اندر ایک گہرا روحانی اور سماجی فلسفہ پوشیدہ ہے۔ یہ دن دراصل خود احتسابی، اخوت اور اجتماعی بیداری کی ایک طاقتور دعوت ہے۔ رمضان المبارک نے ہمیں جو تربیت دی ہے، عید الفطر ہمیں اس تربیت کو عملی زندگی میں جاری رکھنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے اور فرماتا ہے:’’اے میرے فرشتو! اس مزدور کی مزدوری کیا ہونی چاہیے جس نے اپنا کام مکمل کر لیا ہو؟‘‘فرشتے عرض کرتے ہیں: ’’اے ہمارے رب! اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر دیا جائے۔‘‘تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے میرے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے ان روزہ دار بندوں کو بخش دیا اور ان کے تمام گناہ معاف کر دیے۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح)
عید الفطر کا پہلا اور بنیادی پیغام خود احتسابی ہے۔ رمضان کے دوران ایک مومن اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی زندگی کہاں غلط سمت میں جا رہی ہے اور اسے کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔ روزہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی نفس کی غلامی سے آزادی میں ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ رمضان کے بعد ہم میں سے بہت سے لوگ اس تربیت کو بھلا دیتے ہیں۔ عید الفطر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان کی روح کو صرف ایک مہینے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے پورے سال کی زندگی میں جاری رکھا جائے۔ اگر ایک فرد مسلسل خود احتسابی کی روش اختیار کرے تو اس کی شخصیت سنورتی ہے اور اگر ایک معاشرہ اجتماعی طور پر خود احتسابی کو اپنائے تو اس کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
عید الفطر کا دوسرا اہم پیغام اخوت اور بھائی چارے کا ہے۔ اسلام نے ہمیشہ انسانوں کے درمیان محبت، مساوات اور ہمدردی کو فروغ دیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران جب ایک امیر اور ایک غریب دونوں بھوک اور پیاس کا تجربہ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ یہی ہمدردی عید کے دن اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔اسی لیے عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ معاشرے کے غریب اور نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ معاشرے میں کچھ لوگ عیش و آرام میں زندگی گزاریں اور کچھ لوگ بنیادی ضروریات سے محروم رہیں۔ عید الفطر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ سب کے ساتھ بانٹی جائے۔لیکن آج ہمارے معاشرے میں ایک افسوسناک رجحان بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ عید کی اصل روح کو نظر انداز کر کے اسے محض نمود و نمائش اور فضول خرچی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ خاص طور پر دیہات اور بعض علاقوں میں عید کے موقع پر پٹاخے چھوڑنے اور آتش بازی کرنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں روپے صرف چند لمحوں کی چمک دمک کے لیے آگ کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔یہ طرزِ عمل نہ صرف فضول خرچی ہے بلکہ عید کے اصل پیغام کے بھی منافی ہے۔ اسلام ہمیں سادگی، اعتدال اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے۔ جب ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں تو ایسے میں دولت کو آگ میں جھونک دینا ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طرزِ عمل اسلامی تہذیب کا حصہ نہیں بلکہ دوسری اقوام کی نقالی ہے۔عید کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا، دلوں کو جوڑنا اور معاشرے میں محبت اور امن کو فروغ دینا ہے۔ اگر عید کے دن ہی ہم ایسے اعمال میں مشغول ہو جائیں جو اخلاقی اور دینی اقدار کے خلاف ہوں تو پھر اس دن کی برکتوں اور فیوض سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ غیر سنجیدہ سرگرمیوں کے ذریعے عید کے حقیقی پیغام کو مجروح کیا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الفطر کو سادگی، وقار اور روحانیت کے ساتھ منائیں۔ عید کی حقیقی خوشی یہ ہے کہ ہم اپنے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ محبت اور خلوص کے ساتھ ملیں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں بھائی چارے اور ہمدردی کو فروغ دیں۔
عید الفطر کا تیسرا اہم پیغام اجتماعی بیداری کا ہے۔ اسلام صرف فرد کی اصلاح تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا داعی ہے۔ رمضان المبارک نے ہمیں صبر، نظم و ضبط، قربانی اور خدمتِ خلق کا درس دیا ہے۔ اگر مسلمان اس تربیت کو اجتماعی زندگی میں نافذ کریں تو وہ ایک عظیم طاقت بن سکتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان اپنے دینی اصولوں پر قائم رہے تو انہوں نے علم، تہذیب اور اخلاق کے میدان میں بے مثال کارنامے انجام دیے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے اصل پیغام کو بھلا دیا اور آپس میں تقسیم ہو گئے تو ان کی قوت بھی کمزور پڑ گئی۔ عید الفطر ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم نے رمضان کے پیغام کو اپنی اجتماعی زندگی میں زندہ کر لیا تو ہم دوبارہ عزت و وقار حاصل کر سکتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الفطر کو محض ایک رسمی خوشی کے طور پر نہ منائیں بلکہ اسے ایک روحانی اور سماجی انقلاب کا آغاز بنائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے، فضول خرچی اور بے مقصد سرگرمیوں سے دور رہیں گے اور معاشرے میں عدل، محبت اور اخوت کو فروغ دیں گے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عید الفطر دراصل ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ رمضان کی عبادات کا مقصد صرف ایک مہینے کی نیکی نہیں بلکہ پوری زندگی کی اصلاح ہے۔ اگر ہم نے اس دن کو سادگی، تقویٰ اور اخوت کے ساتھ منایا اور اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کیا تو یقیناً ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔پس آئیے اس عید کو ایک نئے عزم کے ساتھ منائیں۔ فضول خرچی، شور و ہنگامہ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے دور رہیں اور عید کو محبت، سادگی اور روحانیت کا حقیقی جشن بنائیں۔ یہی عید الفطر کا اصل پیغام ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک بہتر اور باوقار معاشرے کی تعمیر کی طرف لے جاتا ہے۔
مزید یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ عید الفطر دراصل ایک نئی فکری اور روحانی زندگی کا آغاز ہے۔ رمضان المبارک نے ہمیں جو صبر، تقویٰ، نظم و ضبط اور ایثار کا سبق دیا ہے، اس کی اصل آزمائش عید کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہماری نمازوں میں خشوع باقی رہے، ہمارے دلوں میں غریبوں کے لیے درد زندہ رہے، ہمارے کردار میں دیانت اور سچائی قائم رہے اور ہمارے معاشرے میں محبت و اخوت کی فضا برقرار رہے تو یہی اس بات کی دلیل ہوگی کہ ہم نے رمضان کی حقیقی روح کو سمجھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام انسان کو صرف عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار فرد بنانا چاہتا ہے۔ عید الفطر ہمیں اسی پیغام کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ایک صالح فرد ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لہٰذا عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم رمضان کی روحانی روشنی کو اپنی زندگیوں میں برقرار رکھیں اور اسے اپنے گھروں، محلوں اور پورے معاشرے تک پھیلانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حقیقی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتا ہے۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]