مختار احمد قریشی
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے اور انسان کی شخصیت اس کی تربیت کا عکس ہوتی ہے۔ اگر کوئی مرد خواتین کی عزت کرتا ہے، ان کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور ان کے ساتھ شائستہ رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے یقیناً ایک مضبوط تربیت کارفرما ہوتی ہے۔ یہ تربیت اکثر ایک عورت ہی دیتی ہے، جو ماں، بہن یا استاد کی صورت میں اس کی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔بچپن انسان کی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی دور میں عادات، رویے اور سوچ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو نہ صرف بولنا اور چلنا سکھاتی ہے بلکہ اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے کو یہ سکھائے کہ عورت قابلِ احترام ہے اس کے جذبات اہم ہیں اور اس کے حقوق کی پاسداری ضروری ہے تو یہی سبق اس کی پوری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ایک باشعور ماں اپنے بیٹے کو صرف طاقتور بننے کی تعلیم نہیں دیتی بلکہ اسے نرم دل، حساس اور بااخلاق بھی بناتی ہے۔ وہ اسے یہ سمجھاتی ہے کہ طاقت کا اصل استعمال کمزور کی حفاظت میں ہے نہ کہ اس پر ظلم کرنے میں۔ یہی تربیت ایک مرد کو ایسا انسان بناتی ہے جو خواتین کے ساتھ عزت اور احترام کا برتاؤ کرتا ہے۔بہن بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بھائی اپنی بہن کے ساتھ جو تعلق رکھتا ہے وہ اس کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی بہن کی عزت کرتا ہے اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے اور اس کے حقوق کا خیال رکھتا ہے تو وہی رویہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ بھی اختیار کرتا ہے۔ یہ تعلق اسے یہ سکھاتا ہے کہ خواتین کمزور نہیں بلکہ قابلِ احترام اور باوقار ہوتی ہیں۔اساتذہ خصوصاً خواتین اساتذہ بھی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک استاد نہ صرف علم دیتی ہے بلکہ کردار بھی بناتی ہے۔ جب ایک طالب علم اپنی استاد کو عزت دیتا ہے اس سے سیکھتا ہے اور اس کے مقام کو سمجھتا ہے تو اس کے اندر خواتین کے لیے احترام خود بخود پیدا ہوتا ہے۔
آج کے دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا اثر بھی بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ ذرائع معلومات اور آگاہی فراہم کرتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ خواتین کی منفی تصویر بھی پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں گھر کی تربیت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اگر گھر میں مضبوط اخلاقی بنیاد رکھی گئی ہو تو باہر کے منفی اثرات زیادہ دیر تک اثر انداز نہیں ہو سکتے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر عورت بہترین تربیت نہیں دے سکتی، لیکن ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار عورت یقیناً معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ جب خواتین خود اپنی عزت کو پہچانتی ہیں اور اپنی قدر کرتی ہیں تو وہ آنے والی نسل کو بھی یہی سبق دیتی ہیں۔تعلیم بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ اخلاقی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔ اگر نصاب میں ایسے موضوعات شامل کیے جائیں جو خواتین کے احترام اور حقوق پر روشنی ڈالیں، تو طلبہ کی سوچ میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ خواتین کی عزت ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ یہ عزت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط تربیت ہوتی ہے اور یہ تربیت اکثر ایک عورت ہی دیتی ہے۔ اس لیے اگر ہم ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی خواتین کو مضبوط، باوقار اور تعلیم یافتہ بنانا ہوگا، تاکہ وہ آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت کر سکیں۔
اسی تناظر میں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ تربیت محض نصیحت سے نہیں بلکہ عمل سے منتقل ہوتی ہے۔ ایک بچہ اپنے اردگرد جو ماحول دیکھتا ہے وہی اس کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر گھر میں خواتین کے ساتھ عزت، مشاورت اور احترام کا رویہ اختیار کیا جائے تو بچہ اسے معمول سمجھتا ہے۔ اگر گھر میں خواتین کی رائے کو نظر انداز کیا جائے یا انہیں کمتر سمجھا جائے تو یہی رویہ اس کے اندر بھی جگہ بنا لیتا ہے۔ اس لیے والدین خاص طور پر مائیں اپنے کردار سے وہ مثال قائم کریں جو وہ اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتی ہیں۔
باپ کا کردار بھی اس تربیت میں اہم ہے۔ اگر ایک باپ اپنی بیوی کے ساتھ عزت اور احترام کا برتاؤ کرتا ہے تو بیٹا یہی سیکھتا ہے کہ عورت کے ساتھ کیسا رویہ ہونا چاہیے۔ وہ دیکھتا ہے کہ گھر کے فیصلوں میں ماں کی رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے، اس کی عزت کی جا رہی ہے اور اس کے جذبات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ یہ عملی تربیت کسی بھی نصیحت سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ اسی طرح بیٹی بھی اپنے باپ کے رویے سے یہ سیکھتی ہے کہ ایک مرد کا کردار کیا ہونا چاہیے۔
معاشرتی ادارے بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کر سکتے ہیں۔ مساجد، اسکول، کالجز اور دیگر ادارے اگر خواتین کے احترام پر مبنی پیغامات کو فروغ دیں تو اس سے اجتماعی سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ خطبات، تقاریر اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ خواتین کا احترام نہ صرف اخلاقی بلکہ دینی اور سماجی فریضہ بھی ہے۔آج کے دور میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خواتین مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ تعلیم، طب، صحافت، سائنس، سیاست اور کاروبار سمیت ہر میدان میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ ایسے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا اور ان کی محنت کی قدر کرنا بھی عزت کا ایک اہم حصہ ہے۔ جب معاشرہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہتا ہے تو اس سے ایک مثبت پیغام جاتا ہے کہ خواتین قابلِ احترام اور باصلاحیت ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم اپنی گفتگو میں خواتین کے لیے مناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے رویے میں ان کے لیے احترام ظاہر کرتے ہیں؟ چھوٹی چھوٹی باتیں، جیسے بات کرتے وقت لہجے کا انتخاب، کسی کی بات کو توجہ سے سننا، یا کسی کی رائے کو اہمیت دینا، یہ سب عزت کے دائرے میں آتی ہیں۔ اگر ہم ان باتوں پر توجہ دیں تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔قانونی سطح پر بھی خواتین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اگر قوانین موجود ہوں لیکن ان پر عمل نہ ہو تو ان کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف قوانین بنائے جائیں بلکہ ان پر سختی سے عمل بھی کیا جائے۔ جب ایک معاشرہ خواتین کے حقوق کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتا ہے تو وہاں عزت اور احترام کا ماحول خود بخود پیدا ہوتا ہے۔میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ اگر میڈیا خواتین کو مثبت انداز میں پیش کرے، ان کی کامیابیوں کو اجاگر کرے اور ان کے مسائل کو سنجیدگی سے اٹھائے تو اس سے عوامی سوچ میں بہتری آ سکتی ہے۔ ڈراموں، فلموں اور پروگراموں میں خواتین کو باوقار کرداروں میں دکھانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ناظرین کے ذہن میں ایک مثبت تصور قائم ہو۔
تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتی ہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے، انہیں اچھے اور برے میں فرق سکھا سکتی ہے اور انہیں ایک ذمہ دار شہری بنا سکتی ہے۔ اس لیے خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ خواتین کی عزت کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب ہر فرد اپنی سطح پر اس ذمہ داری کو محسوس کرے گا، تب ہی ایک ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں خواتین خود کو محفوظ، باوقار اور باعزت محسوس کریں گی۔اگر ہم واقعی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ، اپنے رویے اور اپنی تربیت کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بہترین عورت کی دی ہوئی تربیت ہی ایک بہترین مرد کو جنم دیتی ہے اور یہی مرد آگے چل کر ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
رابطہ۔8082403001