اِکز اِقبال
انسان جب خواب دیکھتا ہے تو وہ صرف مستقبل کا نقشہ نہیں بناتا، بلکہ وہ اپنی ذات کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ بھی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ امید کا ہوتا ہے، یقین کا ہوتا ہے اور اس خوش فہمی کا بھی کہ زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو، محنت پوری ہو اور دعا زبان پر ہو تو انجام بھی وہی نکلے گا، جس کا خاکہ ہم نے اپنی آنکھوں میں سجا رکھا ہے۔ مگر زندگی یا یوں کہیے کہ مقدر،اس خوش فہمی کو زیادہ دیر قائم نہیں رہنے دیتا۔
یہ حقیقت ماننے میں عمر لگ جاتی ہے کہ زندگی ہمارے خوابوں کی توثیق کے لیے نہیں، بلکہ ہماری غلط فہمیوں کی تصحیح کے لیے ہوتی ہے۔ ہم جن خوابوں کو حق سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتے ہیں، اکثر وہی خواب وقت کی عدالت میں سب سے پہلے مسترد ہوتے ہیں اور جب یہ مستردگی آتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی وضاحت نہیں دی جاتی ،بس ایک خاموش فیصلہ ہوتا ہے، جس کے بعد انسان کو خود ہی اپنے زخموں کی تشریح کرنی پڑتی ہے۔
ٹوٹنے کے بعد ہمیں پہلی بار یہ احساس ہوتا ہے کہ مقدر کی ایک الگ رائے ہے، جو ہمارے خوابوں سے مشابہت نہیں رکھتی۔ یہ جملہ محض ایک ادبی فقرہ نہیں، بلکہ انسانی تجربے کا نچوڑ ہے۔ یہ وہ سچ ہے جو صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں، بکھرے ہوئے منصوبوں اور خاموش آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے۔ انسان جب تک خواب کی حالت میں رہتا ہے، وہ تقدیر کو ایک ہاں میں ہاں ملانے والا کردار سمجھتا ہے۔ مگر جیسے ہی خواب کرچی کرچی ہوتے ہیں، تقدیر اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے،خاموش، بے رحم، مگر کسی حد تک دانا۔
ہماری زندگیوں کا بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمیں ناکامی ملتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم ناکامی کے امکان پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کامیابی کو حق سمجھ لیا ہے اور شکست کو ذلت۔ یہی وجہ ہے کہ جب کچھ ہاتھ سے نکلتا ہے تو دکھ سے زیادہ حیرت ہوتی ہے۔یہ میرے ساتھ کیسے ہو گیا؟شاید اس لیے کہ ہم نے کبھی خود سے یہ سوال پوچھا ہی نہیں تھا کہ ، اگر ایسا نہ ہوا تو؟
ٹوٹنے کا عمل ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ یہ آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ پہلے خواب میں دراڑ پڑتی ہے، پھر یقین ہلتا ہے، پھر حوصلہ لڑکھڑاتا ہے اور آخر میں انسان خود اپنے سامنے ٹوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر جو سب سے خطرناک چیز ہے، وہ شکوہ ہےخدا سے، حالات سے، لوگوں سےاور کبھی خود سے بھی۔مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں شعور جنم لیتا ہے۔
ٹوٹنے کے بعد انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ خواب ہمیشہ سچ نہیں ہوتے اور جو سچ ہوتا ہے وہ ہمیشہ خواب جیسا خوبصورت نہیں ہوتا۔ مگر شاید وہ زیادہ حقیقی ہوتا ہے۔ تقدیر ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم مانگتے ہیں، بلکہ وہ دیتی ہے جس کے لیے ہم تیار ہوتے ہیں،چاہے ہمیں اس تیاری کا شعور ہو یا نہ ہو۔مقدر اسی مرحلے پر اپنی الگ رائے سامنے رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے: تم نے جو چاہا، وہ تمہاری خواہش تھی اور جو ملا، وہ تمہاری حقیقت تھی۔یہ ماننا آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں ناکامی کو جرم سمجھا جاتا ہے اور ٹوٹنے والے کو کمتر۔ ہم یہاں صرف کامیاب لوگوں کی کہانیاں سنتے ہیں، شکست خوردہ انسانوں کے تجربے نہیں۔ حالانکہ زندگی کا اصل علم وہیں سے آتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے خواہش کی بنیاد پر کرتے ہیں، بصیرت کی بنیاد پر نہیں۔ ہم جس راستے کو چمکتا دیکھتے ہیں، اسی پر چل پڑتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ چمک مستقل ہے یا عارضی۔ مقدر اسی عارضی چمک کو بے نقاب کرنے کا نام ہے۔ وہ ہمیں روک کر کہتاہے،یہ راستہ تمہارے لیے نہیں۔مگر ہم اسے دشمن سمجھ لیتے ہیں۔اصل میں مقدر ہمارا مخالف نہیں، ہمارا آئینہ ہوتا ہے۔یہ ہمیں وہ شکل دکھاتا ہے جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ کمزوریاں جو ہم ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ سچائیاں جو ہمارے بیانیے کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔ اس لیے ٹوٹنا تکلیف دہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ صرف خواب نہیں توڑتا، یہ ہماری خودساختہ شناخت بھی چھین لیتا ہے۔ ٹوٹنے کے بعد اگر کوئی چیز بچتی ہے تو وہ ہے عاجزی۔ یہ مان لینے کی صلاحیت کہ ہم سب کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ کہ کچھ فیصلے ہماری مرضی کے بغیر بھی ہوتے ہیں اور شاید بہتر ہوتے ہیں۔
ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کامیابی کی تعریف شور سے کی جاتی ہے اور ناکامی کو خاموشی میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ ہم بچوں کو جیتنے کا سبق دیتے ہیں، سنبھل کر ہارنے کا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ زندگی میں کسی موڑ پر ٹھوکر کھاتے ہیں تو صرف گر نہیں جاتے، بکھر جاتے ہیں۔
ٹوٹنے کے بعد اگر کوئی چیز ہمیں بچا سکتی ہے تو وہ ہے قبولیت۔ یہ مان لینا کہ ہر خواب مقدر نہیں بنتا اور ہر مقدر خوابوں جیسا نہیں ہوتا۔ یہ سمجھ لینا کہ کچھ دروازے اس لیے بند ہوتے ہیں تاکہ ہم کسی اور سمت دیکھ سکیں۔ مگر یہ سمجھ وقت کے ساتھ آتی ہے،اکثر بہت دیر سے۔کچھ لوگ ٹوٹنے کے بعد سخت ہو جاتے ہیں اور کچھ گہرے۔ سخت لوگ زندگی سے بدلہ لیتے ہیں، گہرے لوگ زندگی کو سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی فرق انسان کو عام سے خاص بناتا ہے۔
ٹوٹنے کے بعد انسان اگر خود سے ایک سوال پوچھ لے،میں نے اس شکست سے کیا سیکھا؟تو شاید وہ دوبارہ وہی غلطی نہ دہرائے۔ مگر اگر وہ صرف یہ پوچھتا رہے کہ میرے ساتھ ہی کیوں؟ تو پھر مقدر اگلا سبق بھی اسی زبان میں پڑھاتا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ٹوٹنا دراصل انسان کا دوسرا تعارف ہے۔ پہلا تعارف خوابوں کے ذریعے ہوتا ہے، دوسرا حقیقت کے ذریعے، اور اکثر دوسرا تعارف زیادہ سچا، زیادہ پائیدار اور زیادہ باوقار ہوتا ہے۔
زندگی ہمیں بار بار یہ موقع دیتی ہے کہ ہم خود کو نئے سرے سے سمجھیں۔ مگر ہم ضد کرتے ہیں کہ وہی پرانی تصویر برقرار رہے۔ مقدر اس ضد کو توڑنے آتا ہے۔
آخر میں، شاید یہی کہا جا سکتا ہے کہ خواب دیکھنا جرم نہیں،مگر خوابوں کو مقدر سمجھ لینا فریب ہے۔ٹوٹنے کے بعد جو انسان سنبھل جاتا ہے، وہی دراصل جیتا ہے۔ باقی تو صرف خواہشوں کے ملبے میں اپنی ہی آوازیں تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔
(مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں)
رابطہ۔7006857283
[email protected]