اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں کشمیر کے ندی نالوں میں سیلاب کا خوف ناک خطرہ ٹل گیا۔ اس وقت کشمیر سب لوگ نہایت ہی مضطرب و پر یشاںتھے کیوں لگ رہا تھا کہ سیلاب کی بلا ان کے دروازوں تک پہنچ چکی تھی ، مگر قدرت نے اس باررحم کھایا اور بڑھتے سیلاب کا کھاتہ بند کیا۔ اس پر سب نےراحت واطمینان کی سانس لی کہ ابھی ستمبر2014ء کے اندوہناک اور تباہ کن سیلابی زخم ابھی مندمل بھی نہیں ہوئے کہ ایک اور سیلاب کے بادل سر پرمنڈلانے لگے ۔ ربِ کائنات نے ہم سب پر اب کی بار احسان کردیا کہ امکانی سیلاب اپنا غصہ پی گیا۔ شاید ابھی ہم نہ بھولے ہوں کہ ۲۰۱۴ء کے قہر افشاں سیلاب نے غم والم کی لاتعداد درد انگیز داستانیں تاریخ کشمیر کے سپر د کرکے المیوں کی اس سرزمین میں تباہیوں کے ایک اور سیاہ با ب کا اضافہ ہوا ۔ اس ساری ہوشربااور رنج دہ کہانی میں اگر قمرو بیروہ کشمیر کے اس کم نصیب خاندان کو شامل نہ کیا جائے جس کے تین افراد سیل رواں کے نذر ہو کر لقمہ ٔ اجل بن گئے تو یہ تاریخ نامکمل تصور کی جائے گی ۔اُس وقت سیلاب نے جہاں وادی کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہولناک تباہیاں مچائیں ،وہیں مذکورہ گھرانے کی خدیجہ آپا کے ارمانوں کو بھی پلک جھپکتے ہی زمین بوس کردیا کہ ان کا گھر مردوں سے خالی ہوگیا ۔ واقعہ یہ ہے کہ۵؍ستمبر ۴ ۰۱ ۲ء کو جب یہ منحوس خبر چاروں طرف گردش کرگئی کہ بیرو ہ علاقے میں ایک باپ اور اس کے دو جوان سال بیٹے تیز رفتار سیلابی ریلوںکے شکار ہوئے ہیں تو راقم کا دل بھی اس صدمہ خیز المیے میں بہہ گیا۔ ایک ہی گھر سے بیک وقت تین جنازے اٹھنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ پچھلے دنوں سیلاب کی دستک سن کر وہ دن یاد کر کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور اب اس الم ناک واردات کو قلم بند کرکے اپنا غم ہلکا کررہاہوں ۔گزشتہ سال ۱۱؍ اکتوبرکو میںاپنے ایک دوست سعید مشتاق کے ہمراہ خدیجہ آپاکے گھر گیا ۔ ایک سرسبز بغیچہ اور عالی شان مکان دیکھ کر دل یہ قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا کہ کم نصیب خدیجہ آپا ا س گھر کی مالکن ہیں ۔ وہ اپنی بہو ا ور اس کے دو بچوں کے ساتھ وہاں بیٹھی تھیں ، رسمی طور خیریت و عافیت پوچھنے کے بعد ابھی سیلاب کا ذکر چھڑا ہی تھا کہ خدیجہ کی آنکھوں سے آنسوبہہ نکلے ۔ ان کی بہو محمودہ جی نے اپنی ساس کے آنسو پونچھتے ہوئے انہیں ڈھارس بندھائی ۔ ذرا سا سنبھل کر خدیجہ آپانے سیلاب ِستمبر کے المیے سے لے کر اس کے ما بعد اب تک اپنی مشکلات اور تکلیفوں کا سرد آہوں کی زبانی ذکر کیا۔ یہ ا یک ناقابل یقین حقیقت ہے کہ ۵؍ستمبر۲۰۱۴ء کی صبح نالہ سوکھ ناگ میں پانی کا بہاؤ اس قدر کم تھا کہ آدمی اسے بآسانی پار کر سکتا ۔ دور دور تک اس بات کے کوئی آثار نظر نہ آتے تھے کہ چند ہی ثانیوں میں یہ نالہ موت کی گھاٹی بننے والاہے ۔ بے فکری کے عالم میںخدیجہ آپا کا شوہر غلام حسن نے نالہ کی طرف گیا تھا تاکہ حسب معمول نالے کے متصل اپنے کھیت کھلیان کا معائنہ کر سکے۔ اس وقت نالہ میں ایک ٹریکٹر والا اپنالوڈبھررہا تھا کہ دفعتاً وہاں پانی کے ریلے کا ہیبت ناک شور سنا گیا ، غلام حسن کو بھی وہاں سے فوراً نکل جانے کے لئے کہا گیامگر اس نے ایک نہ سنی ۔ شاید اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں ایک سیکنڈ ٹھہرنا بھی موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ممکن ہے محکمہ اری گیشن میں ملازمت کرنے کا تجربہ اس کو خام خیالی میں مبتلا کر چکا تھا کہ اس کے لئے پانی کا ریلا کیونکر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیلابی آفت نے چاروں اطراف سے اُ سے گھیر لیا کہ انہی زوردارلہروں میں وہ گھِرکر رہ گیا۔ برق رفتاری کے ساتھ گاؤں میں یہ منحوس خبر جنگل میں آگ کی پھیل گئی ، لوگ دیوانہ و ار نالہ سوکھ ناگ کی جانب جائے وقوعہ پر بچاؤ کارروائی کے لئے دوڑ پڑے ۔ اسی دوران غلام حسن کے دونوں بیٹے ریاض اور شفاعت بھی وہا ں آگئے ، انہوں نے ایک لمبی رسی اپنے باپ کی طرف پھینک دی جس نے بڑی پھر تی سے رسی پکڑ کر اپنی پیٹھ کے ساتھ باندھ لی۔ یہ دیکھ کر دونوں بیٹوں میں ہمت آگئی ، حوصلہ بلندہوامگر اچانک ایک درخت رسی پر آ گر ا جس سے ان کے ہاتھوں سے رسی چھوٹ گئی اور پانی تیز طرارریلے نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر ی نہ کرکے غلام حسن کو اپنے نرغے میں لیا ۔ باپ کی کشمکش دیکھ کر ر یاض اور شفاعت اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے ، انہوں نے سیلابی نالے میں چھلانگ لگاکر باپ کو بچانے کی بڑی جدوجہد کی مگر ماسوائے اس کے کچھ ہاتھ نہ آیا کہ دونوں بھائیوں کو بھی سیلابی ریلے نے پاپ کے ساتھ لے ڈبویا ۔
دیکھتے ہی دیکھتے خدیجہ آپا کا سب کچھ لٹ گیا ۔اوپر سے ان پر یہ کڑی آزمائش اور اذیت بھی گلے پڑگئی کہ سیلاب کی بھینٹ چڑھے ریاض کے دو معصوم وکم فہم بچے بار بار اپنی دادی کو تنگ کرتے ہیں کہ ہمارا ابو کہا ں ہے؟ خدیجہ آپا کے پاس ا پنے پوتوں کی تسلی کے لئے ایک ہی جواب ہوتاہے کہ وہ کربلا گیا ہوا ہے۔ دوسری طرف ریاض کی بیوہ محمودہ جی کو اپنے شوہر کی جدائی کاغم اندر سے ہی کھا ئے جارہا ہے ۔ غم سے نڈھال ساس بہو کاتب ِتقدیر سے ایک ہی بات پوچھتی ہیں کہ ان تینوں میں سے کم سے کم ایک کو ہی کیوں نہ زندہ چھوڑا کہ گھر کا نگہبانی کرتا۔ریاض محکمہ پولیس میں کانسٹیبل اور شفاعت رہبرتعلیم استاد کے طور پر کام کرتا تھا۔شفاعت ایک دین دار نوجوان تھا ۔ بتایا جاتاہے کہ اس نے کئی مرثیاں لکھیں جو وہ اکثر امام باڑہ میں پڑھا کرتا ۔ اس کے گھر والے ان ایام میں اس کے رشتے کی تلاش میں تھے ۔خدیجہ آپا سے جب یہ پوچھا کہ اپنوں کی ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں ؟ سوال سن کروہ نم دیدہ ہوگئیں ،ایک سرد آہ بھر کر بولیں کہ شروع شروع میں سب لوگوں کے ہمدردانہ جذبات اور دلاسے دیکھ کر ہمیں احساس ہونے لگا تھاکہ سب لوگ عمر بھر ہمارے غم خوار و مہربان ثابت ہوں گے مگر نہ جانے کیوں ان کے انسانی جذبات بھی زندگی کے سیلابوں کی نذر ہوگئے ، لوگ کچھ دن آتے رہے اور پھر نظروں سے اوجھل ہوگئے ہمیشہ کے لئے ۔اس کو سب سے زیاد ہ شکایت ان مذہبی پیشواں سے ہیں جو ہمدردی کا لبادہ اوڑھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے مگر عملی طور کچھ نہیں کرتے ۔
یہ درد بھری کہانی سیلاب ۲۰۱۴ء سے متا ثرہ ایک خاندان کی ہے ، نہ جانے اور کتنے گھرانے ہوں گے جن کا دوسال قبل کے خوف ناک سیلاب نے آناًفاناً سب کچھ چھین کر زندگی کے سفر میں انہیں بھی خدیجہ آپا جیساغم زدہ بنادیا ہو ۔اس حقیقت سے کس کو انکار ہوسکتاہے کہ قدرت کی آفات وبلیات ہی وہ کسوٹی ہے جس پر کسی سماج میںانسانیت کی پرکھ ہوتی ہے کہ آیا وہ دکھ سکھ میں متاثرین کے کام آتا ہے یا نہیں ۔ بے شک سیلاب ستمبر کے دوران کشمیری عوام نے ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹا اور ہر ممکن طریقے سے سیلاب زدہ گان کو سہارا دیا مگر افسوس یہ ہے کہ ہم پر مسلط ارباب ِ اقتدار نے گزشتہ تباہ کن سیلاب کی تباہ کاریوںسے تادم تحریر کچھ بھی نہ سیکھا ۔ یہی و جہ ہے کہ گزشتہ دنوں چند روزہ بارشوں نے ایک پھر اُسی سرگزشت کی صدائے بازگشت اہل کشمیر کو سنا دی جس نے کشمیر میں قہر بپا کیا ۔ افسوس کہ جس طرح اس وقت حکومت نا تیار دکھائی دی، اسی طرح اب کی بار بھی تاثر یہی ملتا رہا کہ اس نے کو ئی ایسی مدافعتی حکمت عملی ابھی تک وضع ہی نہیں کی ہوئی ہے جس سے قدرت کی پیدا کردہ آفات کا مردانہ وار مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ہماری غم بھری اجتماعی داستانوں میں خدیجہ آپا جیسے کردار وں کا مزید اضافہ روکا جاسکتا ہے۔ آج یہ حزنیہ کردار خدیجہ آپا کی شکل میں گھر کے کونے کھدرے میں اپنی بیوہ بہو اوردو معصوم پوتوں کے ساتھ ایک بے کیف زندگی گزار رہا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ یہ کردارلمحہ لمحہ درد وکرب کے سمند ر میں جیتے جی ڈوب مررہا ہے ۔ خدیجہ اپنا غم یہ سوچ ہلکا کر نے کی ناکام کوشش کر تی رہتی ہیں کہ ان کے شوہر غلام حسن ، اور دو جواں سال بیٹے ریاض اور شفاعت نے گویا ایک دوسرے کو وعدہ دیا تھا کہ ہم عمر بھر ساتھ ساتھ رہیں گے کہ تینوں نے ایک ساتھ دنیا چھوڑکر یہ وعدہ نبھا یا۔ اللہ اتعا لیٰ خدیجہ کو صبر، محمود جی کوبرداشت ، دو معصوم یتیم بچوں کو آسرا دیتے ہوئے کشمیر کی قوم کو طوفانوں اور سیلابوں سے محفوظ رکھے تاکہ ہمارے درمیان کوئی اور خدیجہ آپا اور محمودہ جی پیدانہ ہو۔
رابطہ 9622820448