سہیل سالم
کائنات میں جتنے بھی ادیان ہیں ان کے یہاں کئی ایسے مخصوص ایام ہوتے ہیں جن میں وہ مختلف طریقوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور ان کے لئے یہ ایام مبارک ،سعادت اور سلامتی کے ایام ہوتے ہیں ۔ہمارے دین مبین میں بھی کئی ایسے ایام ہوتے ہیں جن میں ہم اللہ کا شکر اور اس کی رضا مندی کا جشن منا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔یہ ایام عید الفطر اور عید الاضحی کہلاتے ہیں ۔ یہ عید 10ذالحجہ کو منائی جاتی ہے ۔یہ ایام مسلمانوں کے لئے مسرت اور شاد مانی کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن کہا گیا ہے کہ اس دن حاجی صاحبان کے لئے ہر طرف اظہار و تشکر کا سماں ہوتا ہے۔شکر کس بات کا ؟اس بات کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ماہ ذی الحجہ کی صورت میں نیکیوں کا موسم بہار عطا فرمایا کہ اس مبارک مہینے میں ہم اللہ کی رحمت ،مغفرت اور اجرو ثواب سے اپنے دامن کو بھر کرآخرت کی کامیابی کا سامان فراہم کریں۔ یہ ایام مسلمانوں کے لئے مسرت اور شاد مانی کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن کہا گیا ہے کہ اس دن حاجی صاحبان کے لئے ہر طرف اظہار و تشکر کا سماں ہوتا ہے۔شکر کس بات کا ؟اس بات کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں ماہ ذی الحجہ کی صورت میں نیکیوں کا موسم بہار عطا فرمایا کہ اس مبارک مہینے میں ہم اللہ کی رحمت ،مغفرت اور اجرو ثواب سے اپنے دامن کو بھر کر آخرت کی کامیابی کا سامان فراہم کریں ۔۱۰ ذی الحجہ وہ تاریخ دن ہے، جس میں عظیم شان قربانی کو یاد کیا جاتا ہے ۔حضرت ابراہیم ؐ نے بڑھاپے میں عطا ہوئے لخت جگر سیدنا اسماعیلؐ کو حکم الٰہی کی خاطر قربان کرنے کا ایسا قدم اٹھایا کہ آج بھی اس فیصلے کی تعمیل پر چشم فلک حیران ہے جبکہ دوسری طرف فرمانبرداری و جانثاری کے پیکر سیدنا ابراہیمؐ کے فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؐ نے رضامندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی گردن اللہ کے حضور پیش کرکے قربانی کے تصور کو تاقیامت امر کرنے کا مظاہرہ کیاکہ خود رضامندی بھی حیرت میں ڈوب گئی۔بقول اقبال
یہ فیضان ِنظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
ان دونوں کی فرمانبرداری اور قربانی کو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور آپ ؑکے فرزند اسماعیل ؑکو سلامتی کا پروانہ عطا کرلیا۔آپ ؑ کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا ،جس کو اللہ تعالیٰ نے ذبح عظیم قرار دیا۔اسلام کا تصور قربانی نہایت ہی پاکیزہ،اعلی اور افضل ہے۔اللہ تعالی نے سنت ابراہیم ؑیعنی قربانی کا جو تصور دیا ،وہ اخلاص اور تقویٰ پر زور دیتا ہے۔عید کے روز ہر مسلمان اس عظیم شان قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے جو روئے زمین پر حکم الٰہی سمجھتے ہوئے سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا اسماعیلؑ نے پیش کی تھی ۔خلوص اور پاکیزہ نیت سے اللہ کی راہ میں دی گئی قربانی انسان کے دل میں غمگساری ،ہمدردی، مخلوق پروری اور دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کے قانون کا حصول اور شیطانی قوتوں کو خاک میں ملانا ہے۔ قربانی کی اصل روح انسان میں تقویٰ کو پروان چڑھانا ہے نہ کہ محض جانور قربان کر کے گوشت اور خون اس کی نذر کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بھی ذبیح جانور کا گوشت اور خون نہیں بلکہ دلوں کا تقویٰ اور اخلاص پہنچتا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ہر گز نہ تو اللہ تعالی کو ان کا گوشت پہنچاتا ہے اور نہ خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچاتا ہے۔‘‘( سورہ الحج۔۳۷)اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر لکھتے ہیں:’’ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑھائی سے لیا جائے ۔اسی لئے قر بانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رزاق اسے مانا جائے نہ کر قربانیوں کا گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بند وں سے بے نیاز ہے۔جاہلیت کی بے وقوفیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے۔ یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے،مسلمان ہو کر صحابہؓ نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا ،جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی ٰکو دیکھتا ہے۔‘‘(تفسیر ابن کثیر ۔ص۔۳۰۱)
معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا بظاہر مقصد جانور ذبح کرنا ہے مگر اس کی اصل روح تقویٰ اور اخلاص کی آبیاری ہوتی ہے۔خلیل اللہ کی پیروی کا اصل مقصد جانور ذبح کرنا،نفسانی خواہشات کی تکمیل اور دکھلا وا نہیں بلکہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنا ہے۔قربانی کے ذریعے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ،انبیا ئے کرام ؑ سے محبت اور خلوص وایثار کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔قربانی میں اگر ریاکاری سے کام لے کر نمودونمائش اور اپنی دولت کا رعب ڈالنے کی کوشش کی جائے تو ایسی قربانی قیامت کے روز ثواب سے محروم رکھی جائے گی کیونکہ اللہ تعالی کو قربانی کے جانور کا خون یا گوشت نہیں بلکہ قربانی دینے والی انسان کی نیت مطلوب ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کیا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ قربانی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے لیکن غلو اور ریاکاری نے اس کو تاش تاش کر کے رکھ دیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جس اخلاص سے سیدنا ابر اہیم ؑ اپنے بیٹے کی قر بانی کرنے پر تیار ہوئے ،اُسی اخلاص اور نیت سے ہم بھی قربانی جیسے عظیم فریضے کو انجام دیتے مگر صد افسوس کہ آج کے ماحول میں قربانی سنت ابراہیم ؑکے بجائے دکھلاوے کی قربانی بن چکی ہے۔لوگ ذاتی نمود ونمائش کے لئے قربانی میں غلو کرنے لگے،اپنی دولت کا رعب جمانے لگے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے لگے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڈ میں اخلاص اور تقویٰ سے اپنا دامن خالی کر کے ریاکاری کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔شاید لوگ بھول چکے ہیں کہ قر بانی کی قبولیت کا انحصار ریاکاری پر نہیں بلکہ خالصیت پر ہوتا ہے اور جہاں اخلاص نہ ہو وہاں قبولیت بھی نہیں ہوتی ہے۔
دوسری اہم بات ہمارے آس پاس بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کی معاشی حالت بہت ہی کمزور ہے ،نیز جنہیں کئی مشکلات کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔ان مبارک ایام میں ان کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔ انسانیت کی خدمت کرنے کا ایک طریقہ ،حضرت محمدؐ کے بتائے ہوئے راستہ پر عمل پیرا ہونا ہے ۔دنیا میں سب سے قیمتی شئے انسانیت ہے ۔ انسانیت کی خدمت کرنا دراصل پوری کائنات کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔ عیدالاضحی کا پیغام یہی ہوگا کہ ہمیں غریبوں،بے کسوں ،یتیموں اور لاچاروں کے ارمانوں ،خواہشات اور ان کی ضرورتوں کا احترام کرنا ہوگا تاکہ یہ لوگ بھی اپنے اہل اعیال کے ساتھ یہ سعادت بھرے لمحے خوش اسلوبی کے ساتھ گزاریں جس کے سبب ہم اللہ کی خوشنودی اور رضا مندی حاصل کر سکتے ہیں۔بقول رازدان راز
خدمت خلق سے ہستی کو فروزاں کر لے
کیا پتہ کون سی ظلمت میں قضا لے جائے
رابطہ۔9103930114
[email protected]