سید مصطفیٰ احمد
جب سے میں نے تھوڑا بہت ہوش سنبھالا ہے، تب سے میں نے ایک چیز کا بار بار مشاہدہ کیا ہے۔ یہ چیز حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہے۔ میں نے ہر کسی کو اللہ کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے سنا ہے۔ گھر سے لے کر بازار تک، ہر کوئی حقوق اللہ کو بجا لانے کا اعلان زور و شور سے کرتا دیکھا گیا ہے۔ لیکن جب سطحی باتوں سے اوپر اُٹھ کر میں نے اپنے اساتذہ اور کتابوں سے اس بابت مزید راہنمائی مانگی، تو تصویر کے کئی مخفی چہرے روزِ روشن کی طرح عیاں ہونے لگے۔
جہاں حقوق اللہ ادا کئے بغیر زندگی کی کوئی پہچان نہیں ہے، اسی طرح حقوق العباد بھی دین کے اہم ستونوں میں ایک ستون ہے۔ یہ ایسا انتہائی ضروری ستون ہے کہ جس سے سماج کا پورا ڈھانچہ دھڑام سے زمین بوس ہوسکتا ہے۔ حقوق العباد کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ ایک یا دو مضامین میں اس کا احاطہ کرنا لگ بھگ محال ہے، لیکن سرسری مطالعہ بھی کارآمد ہوسکتا ہے، اگر الفاظ کا انتخاب پورے غور و فکر کے ساتھ کیا جائے۔ میں کوئی بڑا قلم کار نہیں ہوں کہ کسی موضوع کے ہر پہلو کا احاطہ کرسکوں، لیکن اپنے ناقص علم کے بل بوتے پر اس حساس موضوع پر کچھ اہم نکات اپنی اصلاح کے لیے ضروری تحریر کرنا چاہتا ہوں۔
حقوق العباد کا بنیادی موضوع ہماری زندگیوں سے لگ بھگ نایاب ہی ہوگیا ہے۔ لوگ اللہ کے حقوق کے بارے میں جوش و جذبے کا واضح اظہار کرتے ہیں۔ وعظ و تبلیغ کی محفلوں میں جاکر حقوق اللہ کے بارے میں ہر قسم کی جانکاری حاصل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے، اس بارے میں لوگ گھر پر بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے بارے میں اہم معلومات کو جمع کرکے اپنی زندگی میں ایمان کی جوت جلاتے رہنا چاہتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے احکامات میں ایک حکم حقوق العباد کی شکل میں بھی پایا جاتا ہے۔ جس طرح ایمان کے بنیادی اراکین کو دل سے ماننا، سمجھنا اور ان کا عملی اظہار کرنا نہایت ضروری ہے، اسی طرح لوگوں کے حقوق کے معاملے میں انصاف کرنا بھی ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر، خدا کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جیسے لوگوں کے حقوق ادا کرنا بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
پس منظر اور وجوہات کا جائزہ :
جب میں نے اس مسئلے کی گہرائی میں جانے کی کوشش کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث حقوق العباد ہماری معاشرتی زندگی سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے اپنے گردو پیش کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور کچھ اہم حقائق سامنے آئے جن کا مختصر جائزہ مندرجہ ذیل سطروں میں کیا جارہا ہے۔پہلی وجہ معلومات کی شدید قلت ہے۔جب میں نے اپنے آپ سے لے کر عام لوگوں کا مشاہدہ کیا تو مجھے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑاکہ بیشتر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حقوق العباد کا تعلق صرف مالی معاملات سے ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک معمولی سی تکلیف دینا، کسی کے بارے میں بُرا کہنا یا یہاں تک کہ کسی کو نظر انداز کرنا بھی حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے۔ لوگ نماز و روزہ کی اہمیت تو خوب جانتے ہیں، لیکن حقوق العباد کی وسعت سے نابلد ہیں۔اس طرح اتنی اہم عبادت ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔
دوسری وجہ کردار میں تضاد ہے۔ایک اور اہم حقیقت جو میرے سامنے آئی وہ یہ کہ بہت سے لوگ حقوق اللہ کے معاملے میں انتہائی پابند نظر آتے ہیں، مگر جب معاملہ حقوق العباد پر آتا ہے تو وہی لوگ دوسروں کو تکلیف دینے، غیبت کرنے یا ان کا حق مارنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا کردار ہی اس مسئلے کو جنم دیتا ہے۔منافقانہ رول ادا کرنے سے اللہ کے حقوق بھی ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ ہی حقوق العباد ادا کرنے پر زور دے رہا ہے تو بندے کی کیا مجال کہ اس کارخیر میں تاخیر کرے!تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بندہ اپنی انا اور خود پسندی کے جھال میں اب بھی پھنسا ہوا ہے۔اس کو دوسرے جیسے لوگ اپنے سے کمتر دکھائی دیتے ہیں اور اس کے لیے یہی تباہی کا راستہ ہے۔تیسری وجہ نفسیاتی امراض ہیں۔ میں نے یہ بھی پایا کہ حسد، بغض، تکبر اور خود غرضی جیسی ذہنی کیفیات انسان کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے پر اکساتی ہیں۔ جب انسان دوسرے کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتا ہے تو پھر اس کا حق مارنا اس کے لیے معمولی بات بن جاتی ہے۔جب دوسروں کی ترقی ہمارے گلے سے نہیں اترتی ہیں تو اس کا نتیجہ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی شکل میں نکل کر آتا ہے۔اس وقت اللہ پر یقین اور آخرت کی فکر ہوا میں تحلیل ہوکر رہ جاتے ہیں۔
چوتھی وجہ آخرت کی حقیقت سے غفلت ہے۔ سب سے افسوسناک حقیقت جو مجھے نظر آئی وہ یہ کہ لوگ قیامت کے دن کے حساب و کتاب کو بھول چکے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اس دن سب سے پہلے حقوق العباد کے بارے میں پوچھا جائے گا، نہ کہ نماز اور روزے کے بارے میں۔ یہی غفلت انہیں دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی پر آمادہ کرتی ہے۔لوگوں کو لگتا ہے، اپنے جیسے انسانوں کا گلا کاٹ کر ایک دن توبہ کریں گے۔رو رو کر اپنی کیے ہوئے پر معافی مانگے گے،غرباء اور پسماندہ لوگوں کے لیے دکھاوے کے صدقات اور زکوٰۃ کی محفلیں آراستہ کرکے خدا کی سخت پکڑ سے چھوٹ جائے گے، لیکن یہ سارا سراب ہے۔جس نے کسی کا دامن بنا کسی وجہ کے بغیر داغدار کیا ہو، وہ خدا کے سامنے کونسا منہ لے کر حاضر ہوگا۔مظلوم کی آہ عرش کو لرزا دیتی ہے اور آج کا غافل انسان اپنی مستی میں ہر کمزور کو روندتا چلا جارہا ہے!
نقصانات اور برے نتائج:۔اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ جب حقوق العباد کی قدر ختم ہوجاتی ہے تو پہلے سماج میں ٹھہراؤ ختم ہوجاتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جہاں حقوق العباد کا فقدان ہوتا ہے، وہاں سماجی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اعتماد، محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ جیسی چیزیں ختم ہوجاتی ہیں اور ہر طرف جھوٹ، چغلی، بدگمانی، غیبت اور ظلم پھیل جاتا ہے۔ دوسرا نتیجہ یہ دیکھنے میں آیا کہ ایسے لوگوں کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔ان کے جھوٹے آنسوؤں ان کے منہ پر مار دیے جاتے ہیں اور ذلت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔دعا عبادت ہی ہے اور عبادت کے لئے روح اور جسم کا پاک ہونا نہایت ضروری ہیں۔تیسرا نتیجہ تو سب سے زیادہ خوفناک ہے اور وہ آخرت میں رسوائی ہے۔ قیامت کے دن انسان کی ساری نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کا حق اس نے مارا تھا اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس کے سر ڈال دیئے جائیں گے۔ اس سے زیادہ رسوائی کا سماں کیا ہوسکتا ہے۔روز محشر میں جب سارے مظلوم دنیا میں دکھنے والے پارسا اور پرہیزگار اشخاص کا گلا پکڑ کر اس سے ان جفاؤں کا حساب مانگیںگے، اس وقت رب العزت کی لاٹھی فیصلہ کرے گی۔ چوتھا اور آخری نتیجہ ہے آنے والی نسلوں کی تباہی۔ایک حقوق اللہ سے خالی سماج آنے والی نسلوں کے لیے زمین ہموار کرتا ہے اور اس طرح نسلوں کی نسلیں اس بھنور میں پھنستی چلی جاتی ہیں۔
علاج اور اصلاحی تدابیر:۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بگڑتے ہوئے سماجی ڈھانچے کا کوئی موثر علاج موجود ہے؟ اپنی تحقیق اور مشاہدے کی روشنی میں، میں نے پانچ بنیادی اصلاحی اقدامات مرتب کئے ہیں، جن پر عملدرآمد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پہلا اقدام:تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی: موجودہ تعلیمی نظام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کو لازمی مضمون کا درجہ دیا جائے۔ گھر، مکتب اور مسجد میں بچوں کو یہ بتایا جائے کہ ماں، باپ، استاد، پڑوسی اور غریب کا کیا حق ہے۔ جب تک یہ تصورات ابتدائی عمر میں ذہن نشین نہیں ہوں گے، معاشرہ درست سمت میں گامزن نہیں ہوسکتا۔
دوسرا اقدام:نفسیاتی اصلاح کے مراکز کا قیام: حسد، بغض اور تکبر جیسی نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے باقاعدہ اصلاحی مراکز بنائے جائیں۔ مساجد کے خطبہ جمعہ میں ان موضوعات کو اٹھایا جائے اور لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ کیفیات ان کی آخرت کو کیسے تباہ کرتی ہیں۔کیسے یہ غلیظ کیڑے سماج کے مضبوط دھاگوں کو ڈھیلا کرکے اس کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرتے ہیں۔
تیسرا اقدام:معافی و درگذر کی عادت ڈالنے کے لیے شعوری مہم: ہر شخص کو یہ عادت ڈالنی ہوگی کہ اگر اس نے کسی کا حق مارا ہے تو فوراً جا کر معافی مانگے اور حق واپس کرے۔ اس سے دل سے معافی مانگے اور اپنے کیے ہوئے پر پچھتاوے کا بھرپور اظہار بھی کرے۔اس کو سچا احساس دلائے کہ وہ اپنی کیے ہوئے شرمندہ ہے۔
چوتھا اقدام:زبان پر قابو: غیبت، چغلی اور جھوٹ سے بچنے کے لیے اپنے اندر کے روپ سے سوال کرنا ضروری ہے۔اس روپ سے مخاطب ہونا اہم ہے جو ان گندی خصلتوں سے ایک انسان کو دور رکھیں۔ زبان کو قابو میں رکھنا اور ہمیشہ بجا بات بولنا جس کے پیچھے اپنی ترقی کے علاوہ دوسروں کی ترقی بھی شامل ہوں ایک عظیم کام ہے۔
پانچواں اقدام:مظلوم کی آہ سے ڈرنے کا احساس دلانا: لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ مظلوم کی بددعا آگ کی طرح جلادیتی ہے۔ اس کے لیے وعظ و تبلیغ کی محفلوں میں اس موضوع پر خصوصی گفتگو کی جائے۔یہ ذہین نشین کرایا جائے کہ مظلوم کا مقدمہ خدا خود لڑتا ہے۔جب مقدمہ خود اللہ کے سپرد ہیں، تو ایک دانا انسان خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ حقوق العباد کے بارے میں حساس رہنا کتنا اہم ہوجاتا ہے۔
خلاصہ:جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ حقوق العباد کا فقدان دراصل ہماری روحانی اور سماجی موت کی علامت ہے۔ ہم نماز و روزہ کی پابندی تو کرتے ہیں، مگر دوسروں کا دل بے وجہ دکھانے، ان کا حق مارنے یا ان کے بارے میں برا کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ ان پر بہتان لگانے میں ہچکچاتے نہیں ہیں۔ان کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔تحقیقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہی وہ بنیادی عوامل ہیں جو ہماری نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں اور ہمیں اللہ کے ہاں سے دور لے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سنجیدہ موضوع ہے جس پر قلم اٹھانا بھی ایک ذمہ داری ہے لیکن خاموش رہنا ایک جرم ہے۔لوگوں کا دل بے وجہ دکھانے والا نماز کی پہلی صف میں کھڑے ہوکر کبھی بھی اصلی سکون کو حاصل نہیں کرسکتا ہے۔جس نے کسی کا سکھ اور چین چھین لیا ہو،وہ اپنے پروردگار کے سامنے کونسا منہ لے کر کھڑا ہوگا،یہ بالکل سمجھ سے بالاتر ہے۔
حتمی نتیجہ:آخر میں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دین کا اصل مقصد صرف اللہ سے رشتہ نہیں جوڑنا، بلکہ لوگوں سے بھی رشتہ جوڑنا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ جس نے دوسروں کے حقوق ادا کئے، اس نے گویا اللہ کے قریب ہونے کا سب سے بڑا راستہ ڈھونڈ لیا لیکن جس نے اس عظیم کام میں غفلت برتی، اس کی ساری عبادات بے برکت ہوگئیں۔ ضرورت ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، لوگوں کو معاف کریں، ان کا حق لوٹائیں اور تب جا کر ہماری نماز اور روزہ اللہ کے ہاں قبولیت کے قابل ہوں گے۔ ورنہ وہ دن بڑا کٹھن ہوگا جب سب کچھ چھوڑ کر صرف حقوق العباد کا حساب باقی رہ جائے گا۔ یہ صرف ایک تحریر نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کی طرف ایک کھلا چیلنج ہے۔
رابطہ۔7006031540
[email protected]