سرینگر//حقانی میموریل ٹرسٹ نے حضرت بابا داودخاکیؒ کے عرس پر انہیںخراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میںایک آن لائین کانفرنس کاانعقادکیاجس میں کئی علماء اوردانشوروںبشمول مولاناخورشیداحمدقانونگو، مولانا مبارک حسین نعمانی ، سیدبلال کرمانی اورانجینئرنذیراحمدپانپوری نے شرکت کی۔کانفرنس کی صدارت مولانا شوکت حسین کینگ نے کی۔ ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سیدعبدالحمیدحقانی نے کہا کہ علمی تبحر کی وجہ سے حضرت بابا داودخاکیؒ امام اعظمِ ثانی کے خطاب سے یاد کیے جاتے ہیں۔انجمن مصباح الاسلام کے سربراہ مولانا مبارک حسین نعمانی نے حضرت بابادادخاکی کی علمی وسعت اورگہرائی کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ آپ علوم کے بحرذخائرتھے ان کی تصانیف خصوصاًوردالمریدین میںانہوںنے عقائداورتصوف کے جملہ مسائل بیان کئے ہیں۔مرکزاسلامی کے روح رواں سیدبلال کرمانی نے حضرت بابادادخاکیؒ کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدومؒ کی قیادت میں اصلاحی تحریک میںاہم کردار ادا کیا۔جس نے کشمیر کے طول و عرض میںتوہمات و بدعات کاقلع قمع کرنے میں معاونت کی۔انجینئرنذیراحمدپانپوری نے کہا کہ حضرت بابا دائود خاکیؒ عظیم المرتبت عالم دین ہونے کے علاوہ کشمیرکے قاضی القضا تھے ایسے منصبوںاورظاہری شان وشوکت اوردولت و مرتبت کو خیربادکرکے حضرت سلطان العارفینؒ کی صحبت اختیارکرنااس بات کی دلالت کرتا ہے کہ عہدوسطی کے مسلمانوںخصوصاً عالموںمیںراہ حق کی جستجواورتڑپ بدرجہ اتم ہوتی تھی۔ مولاناخورشیداحمدقانونگونے حضرت خاکیؒ کی تصانیف کی علمی اہمیت و فضیلت واضح کی۔مولاناشوکت حسین کینگ نے حضرت سلطان العارفین کے ساتھ اُن کے لگاو اور محبت کا تذکرہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ حضرت خاکی نے مرشد کامل کے ارشاد کے مطابق ایسی ریاضت اور ذکرو اذکار میں اپنے آپ کو اس طرح خاک کی طرح یوں مٹا ڈلا کہ خاکی کے لقب سے نوازے گئے۔