محمد اشرف بن سلام
سید السادات حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی ؒ چودھویں صدی عیسوی کے مشہور معروف ولی کامل اور عظیم داعی ومبلغ تھے۔آپ ؒؒ کی خدمات اور کردار کاتاریخ کشمیر میں ایک ایسا روشن باب ہے،جس سے انکار ممکن نہیں ۔آپؒ کی شخصیت صرف ایک روحانی پیشو ا اور ولی کامل تک محدود نہیںبلکہ وادی کشمیر میں آپؒ نے اسلام کی شمع روشن کی اور لاکھوں لوگوں کو توحید کا راستہ دکھایا۔ ملت اسلامیہ کشمیر کے اس محسن کی منفرد اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ ہمیشہ جڑی رہی اور جڑی رہے گی۔یہ مردِ خدا
ؒ عارفوں کےلئے باعث فخر ہے ۔آپ ،حضرت سیدیحیٰ مینریؒ کے ساتھ ہندوستان آئے تھے،جنہوں نے فیض آباد کو رونق بخشی اور حضرت امیر کبیرؒنے سرزمین کشمیر میں رشد وہدایت کے چراغ روشن کئے۔آپؒ نے وادیٔ کشمیر میں جو ذہنی ، دینی ،تمدنی ،معاشی انقلاب برپا کیا، اس کے اثرات آج بھی قائم ہیں۔ اس معاشی انقلاب میں آپؒ کے سات سوکے قریب افراد جن میں ہنرمند، عالم وغیرہ شامل تھے،کا ایک اہم رول رہا ہے۔ ا نہوں نے یہاں وہ سب ہنر متعارف کئے، جن سے وادی کشمیر کی معیشت کو بدل کر رکھ دیا۔ حضرت میرسید علی ہمدانی ؒنےتعلیم و تربیت کےلئے خانقاہیں اور مدارس قائم کئے۔اس ولی کامل کی تعمیر کردہ خانقا ہ آٹھویں صدی ہجری کی فن تعمیر کی شاہکار ہیں۔
آپؒ کی شان میں شاعر مشرق اقبالؒ نے لکھا،’’ سیدالسادات سالار عجم ۔ دست او معمارتقدیر امم‘‘
حضرت میرسید علی ہمدانی ؒ کی جائے پیدائش ہمدان ہے جو ایران کا ایک مشہور ومعروف شہر ہے ۔12 رجب714ھ میں سید شہاب الدین ؒ اور سیدہ فاطمہ کے چمن سے یہ عطرگلاب کھلا، جس نے اپنے خوشبو ئے سے عالم کو مہکادیا ہے ۔ انہوں نے بارہ برس تک سید علاؤ الدین سمنانیؒ سے تعلیم تربیت حاصل کی جو آپ ؒ کے ماموں تھے۔پھر حضرت ابو البرکات تقی علی دوستی کی تربیت میں دیا۔پھر آپ ؒ حضرت شیخ شرف الدین مزد قانی ؒ کی تربیت میں چھ برس تک رہے اور اس طرح بارہ برسوں میں آپ ؒ نے قرآن پاک کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم بھی حاصل کئے۔ حضرت سید علی ہمدانی ؒ نے اپنی سیاحت کا آغاز 730ھ میں کیا اور21 سال کے بعد 752 ھ میں سیاحت سے فارغ ہوئے ۔ اس عرصہ میں چودہ سو اولیا ءاللہ سے ملاقات ہوئے۔ کتابوں میں یہی روایت درج ہے کہ حضرت شاہ ہمدانؒ نے تین بار تمام دنیا کی سیاحت کی۔آپ ؒ تین بار کشمیر بھی تشریف لائے پہلی بار سطان شہاب الدین کے عہد حکومت یعنی 774ھ میں اور صرف چارماہ کے قیام کےبعد واپس تشریف لےگئے۔
حضرت میرسید علی ہمدانی ؒ کے ہمراہ تقریباً سات سو کے قریب رفقا، سادات اور خادم تھے۔جنہوں نے ملک ِ کشمیر کے خاص و عام کی رشد و ہدایت سے رہنمائی کی۔ اُس وقت کے سلطان ، پورے اخلاص و عقیدت کے ساتھ عالی مقام خدام کی خدمت میں حاضر ہوتے، ارادت و محبت کے آداب بجا لاتے اور آپؒ سے پند و نصائح سن کر اُن پر عمل پیرا ہوتے،
تاریخ اسلام میں صوفیائے کرام کا جو پہلاطبقہ جن کے سرخیل حضرت حسن بصریؒ ہیں اور حضرت ابراہیم بن ادھمؒاورحضرت فضیل بن عیاضؒ خاص طور پر قابل ذکرہیں۔یہ بزرگ عقلیت کے سیل بن کرسامنے آئے اور اس وقت اگرچہ عقلیت پسندی کی ہوائیں تندوتیز تھیں، مگر یہ ستودہ صفات نفوس قدسیہ نے عشق الٰہی کے چراغوں کو روشن رکھنے کے ساتھ ساتھ بہترین معاشرے کی تشکیل کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ انہی عظیم المرتب ہستیوں میں حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی ؒبھی تھے،جنہوںنے اندھیرں میں روشنی پھیلائی اور کلمتہ الحق کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کررکھی تھی اور وادی کشمیر کے لوگوں کو کفر کی ذلالت سے نکال کرایمان کی نعمت سے مالا مال کیا ۔ حضرت ا میر کبیرؒ کی اوراد فتحیہ نہ صرف کشمیر بلکہ وسط ایشیا کے مسلمانوں میں بہت مقبول ہے۔ توحید الہٰی اور قرآنی پیغام پرمبنی یہ وظیفہ بے شمار فضائل اور خیر وبرکات کا موجب ہے۔آپ ؒ کے علاوہ جن شخصیات نے یہاں اسلامی تعلیمات شروع کروائیں، اُن میں حضرت بلبل شاہ ؒ اور حضرت سید علاؤ الدین سمنانی ؒکےنام سرفہرست ہیں۔
حضرت سید علی ہمدانیؒکے مزار کے بارے میں ایک روسی عالم پاولوسکی نے11؍اگست1947 ایک مقالہ لکھا ہے۔جس کے مطابق جو مزار شہر کولاب کے مشرق میں واقع ہے ،وہ ’’مزار سّید علی ہمدانیؒ ‘‘کے نام سے معروف ہے۔ یہ 596برس قبل بنایا گیا اور چودھویں صدی کے تاجیک فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔مزار میں داخل ہونے کے چار راستے ہیں ۔مقبرہ کے چاروں طرف محرابیں بنی ہوئی ہیں اور عظیم الشان عمارت گیارہ کمروں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے دو کمرے بڑے ہیں اور نو چھوٹے ۔ہر کمرے کے اوپر ایک گنبد بنا ہوا ہے ۔
حضرت امیر کبیر میرسید علی ہمدانی ؒجب تیسری مرتبہ 785ہجری میں کشمیر تشریف لائے،اُس وقت آپؒ کی صحت ناسازگار تھی،جس کے باعث آپ پھر یہاں سے چل دیئے۔ راستے میں دس دن تک پچھلی (ضلع ہزارہ) کے حاکم سلطان محمد کی درخواست پر وہاں ٹھہر گئے۔ کو نارہ (کافرستان) میں پہنچے کہ 6 ذی الحجہ786ہجری میں اپنا چہرہ اہل دنیا سے چھپا لیا۔ اناللہ وانااللہ راجعون۔ عین وفات کے وقت آپ کی زبان مبارک پر بسم اللہ الرحمن الرحیم ،یہی آپ کی تاریخ وفات ہے۔آپؒ کا تابوت25 جمادی الاول کو ختلان میں پہنچا اور وہیں مدفون ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ ختلان کا زیارت گاہ فن تا جیک فن کا شاندار نمونہ ہے ۔بہر حال ختلان کے علاوہ کشمیر کے علاقہ زینہ کدل میں موجود خانقاہ آج تک اپنے زندہ جاوید کردار سے لوگوںکو راہ حق کی سمت رہبری کرتا چلا آرہا ہے اور ہم کشمیری ہر برس چھ ذالحجہ کو یومِ شاہ ہمدان مناتے ہیں ۔ خداوند کریم پوری کشمیری قوم کو توحید و سنت رسولؐ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اتباع کی توفیق عنایت فرمائےاوراس وادی گلشن کشمیر کو ہر بلا سے نجات دے ۔ آمین
[email protected]