اشرف چراغ گزریالی
منقسم خاندانو ں کا درد و کرب تقسیم ہند سے المناک انسانی پہلو ہے ۔سرحدیں دلوں اور رشتوں کو چیر کر رکھ دیتی ہیں ۔عزیزوں و اقارب کا برسو ں تک ایک دوسرے سے بچھڑے رہنا ،جنازوں اور شادیو ں میں شرکت نہ کرپانا اور صرف فون یا خطوط پر تکیہ کرنا اذیت کی عکاسی کرتا ہے ۔جمو ں و کشمیر جیسے علاقوں میں سرحد پار خاندان36سال تک ملنے سے قاصر رہے ،جہا ں خوشی اور غم کے آنسوںایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ۔جب سر حدیں رشتوں پر حاوی ہو جائیں تو ایک طرف جنازہ پڑھا جاتا ہے اور دوسری طرف تعزیت کی جاتی ہے ،یہ درد کی انتہا ہے ۔یہ درد نسل در نسل منتقل ہوتارہا ہے اور اس درد و کرب کے اثرات کبھی ختم نہ ہونے والے زخم بن چکے ہیں ۔یہ صورتحال صرف جغرافیائی تقسیم نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی طور پر پوری نسل کو مفلوج کر دینے والی المیہ داستان ہے ۔صورتحال کا تازہ اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جب شمالی ضلع کپوارہ کے حد متارکہ پر واقع کیرن علاقے میں ایک دلخراش اور رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور اس منظر نے برسوں پہلے زخمو ں کو تازہ کر دیا ۔کیرن علاقہ سے تعلق رکھنے والے نائب تحصیلدار لیاقت علی خان چھوٹی جوانی میں انتقال کر گئے ۔لیاقت علی خان کے رشتے دار جن میں ان کے بھائی بہن شامل ہیں، 90کی دہائی میں کیرن سے سر حد کے اس پار پاکستان چلے گئے۔ جب انہو ں نے لیا قت کے مرنے کی خبر سنی تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی اور وہ فوری طور وادی نیلم پہنچ گئے اور دریا کشن گنگا کے اُس پار جمع ہو گئے ۔اُدھر لیاقت علی کا نماز جنازہ پڑھایا جارہا تھا تو اِس پار ان کے عزیز و اقارب خون کے آنسو رو رہے تھے ۔لیاقت علی خان ایک سرکاری عہدے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی تھے ۔ان کا جنازہ دریا ئے کشن گنگا کے کنارے رکھا گیا تو دوسرے کنارے پر بچھڑے ہوئے خاندان جمع ہوگئے درمیان صرف سرحد تھی ،جس نے سب کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا ۔ایک طرف جنازہ پڑھا جارہا تھا تو دورسی طرف آہ وبکا کے علاوہ دعائے مغفرت کی جا رہی تھی ۔یہ کڑوا سچ ہے کہ سرحد پار رشتہ دار اپنے بھائی کو سپر د لحد کے درد ناک منظر دیکھ رہے تھے لیکن آخری رسومات میں شریک نہ ہو سکے ۔یہ لمحہ اس قدر درد ناک تھا کہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔یہ دردصرف لمحہ کا نہیں بلکہ دہائیو ں سے جاری ایک تلخ داستان کا حصہ ہے ۔90کی دہائی میں جب جمو ں و کشمیر میں نا مساحد حالات نے جنم لیا تو کیرن کے کئی گائو ں جن میں کیرن بالا ،کیرن پائین ،بوگن ،کھوڑیا ں اور بور شامل ہیں، کی نصف آبادی ہجرت کر کے سر حد کے اس پار چلی گئی ۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق بوگنہ ،کھو ڑیا ں ،بور اور بچھوال مکمل طور خالی ہوگئے، ان میں لیا قت علی خان کا کنبہ جن میں ان کے والد ،والدہ اور بھائی بہن بھی شامل ہیں جبکہ ا ن کے باقی رشتہ دار بھی اُسی دن سر حد کے اس پار چلے گئے ۔یہ وہ وقت تھا جب ان رشتہ داروں کی عمر بالکل کم تھی لیکن تب کے جوان اب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں ۔جب لیاقت کی میت کو دریا کشن گنگا کے کنارے رکھا گیا تو منقسم خاندان کا ناقابل بیان دکھ ان کے چہروں پر عیا ں تھا اور وہ اپنے رشتہ دار کا آخری دیدار نہ کر سکے ۔جنازے کو کندھا دے سکے نہ اپنے بھائی کو لحد میں اُتار سکے ۔دریائے کشن گنگا کے آر پار کیرن علاقہ میں آج امن ہے ۔توپوں اور گولیو ں کی گن گرج کی جگہ سیاحت کو فرو غ مل گیا ،جس سے اس علاقہ میں نئی رونق پیدا ہوئی ہے ۔کھیتو ں میں ہریالی لو ٹ آئی ۔سکول آباد ہوئے ہیں اور یہ علاقہ ایک خاموش علاقہ بن چکا ہے لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا دکھ چھپا ہے جو کبھی کم نہیں ہوا ہے ۔90کی دہائی میں ہجرت نے نہ صرف خاندانو ں کو تقسیم کیا بلکہ کئی بستیوںکو بھی ویران کر دیا ۔علاقہ میں بظاہر حالات بہتر ہو چکے ہیں مگر لوگو ں کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملیں،کیونکہ خونی لکیر اُن سے بہت کچھ چھین گئی ہے ۔یہا ں کے لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ دونو ں اطراف کی بندوقین خاموش ہیں، لیکن انہیں اپنے رشے داروں سے ملنے کی اجازت ہو نی چائیں تاکہ اُن کے دکھو ں کا مداوا ہو سکے ۔
[email protected]>
���������������