جموں //ریاستی اعضاء اور ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن جے اینڈ کے نے شعبہ امراض چشم ، جی ایم سی جموں کے تعاون سے جمعہ کو ایک آگاہی کیمپ "انگدان سی زندگی" (مردہ اعضاء کا عطیہ پروگرام) منعقد کیا۔ اور شعبہ امراض چشم کی ٹیم نے مریضوں اور زائرین میں عضو عطیہ بشمول کارنیا ، گردے ، جگر وغیرہ کے بارے میں آگاہی پیدا کی قومی آنکھوں کا عطیہ 25 اگست سے 8 ستمبر تک منایا جاتا ہے۔ڈاکٹر ششی سودھن شرما ، پرنسپل جی ایم سی جموں نے اپنے اعضاء اور ٹشوز عطیہ کرنے کا وعدہ کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ آنکھیں اور اعضاء عطیہ کرنے کے لیے آگے آئیں (وفات کے بعد) کیونکہ ایک شخص اعضا عطیہ کرکے 8 افراد کی مدد کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مریضوں کے درمیان جن میں ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور جو اعضاء ہندوستان میں دستیاب ہیں ان کے درمیان ایک بڑا فرق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1.8 لاکھ سے زائد افراد ہر سال گردوں کی ناکامی کا شکار ہوتے ہیں اور گردوں کی پیوند کاری کی تعداد 7000 سے کم ہے۔ جگر کے آخری مرحلے میں ہر سال تقریبا ً 2 لاکھ لوگ مر جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ہندوستان میں سالانہ 25-30 ہزار جگر کی پیوند کاری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہر سال صرف 1500 کے قریب ٹرانسپلانٹ کیے جاتے ہیں۔ ہمیں زندہ رہتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور مرنے کے بعد بھی ہم اپنے اعضاء /ٹشوز عطیہ کرکے کسی کی مدد کر سکتے ہیں کیونکہ "ہم زندگی بچانے کی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں"۔ڈاکٹر ستیش گپتا ، ایچ او ڈی امراض چشم ، جی ایم سی جموں نے کہا کہ کسی بھی عمر کا شخص کارنیا عطیہ کرسکتا ہے۔ اعضاء کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہزاروں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ہم مرنے کے بعد اپنے اعضاء /ٹشوز عطیہ کرکے ان کی جان بچا سکتے ہیں۔