بداخلاقی اور بدتہذیبی :یہ تمام اعمال ایک تو سراسر اسراف تبذیر میں داخل ہے جن کے مرتکبین کو اللہ تبارک و تعالی نے اخوان الشیاطین (شیطانوں کے بھائی) قرار دیا ہے۔دوسرے قدم قدم پراللہ کی نافرمانی کا ارتکاب ہے۔تیسرے،ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ بڑے بڑے گناہوں کی جسارت ہے جس کی کسی مسلمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔چوتھے، بد اخلاقی اور بدتہذیبی کے مظاہر ہیں جن کی توقع کسی بھی مہذب اور شائستہ قوم سے نہیں کی جاسکتی، چہ جائیکہ اسلام کے ماننے والے ان کا ارتکاب کریں؟تمام مذکورہ خرافات کے بعد آخر میں فوٹو سیشن ہوتا ہے جس میں مرد وعورت سب اسٹیج پر یا اور کسی نمایاں جگہ پر جمع ہوتے اور باری باری دولہا اور دلہن کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں۔یہ سراسر بے پردہ اور مخلوط اجتماع ہوتا ہے۔
بارات کا سلسلہ ختم کریں :ان تمام مفاسد اور خرابیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ اور ایک ہی حل ہے کہ بارات کا سلسلہ ختم کیا جائے اور مختصر چند لوگ لڑکی والوں کے گھر جائیں لڑکی والے بھی اپنا پورا خاندان جمع کرنیکے بجائے چند ضروری افراد کی اس تقریب میں شریک کریں اور گھر کے ایک کمرے ہی میں نکاح کر کے حسب استطاعت مہمانوں کی ضیافت کر کے اپنی بیٹی کے ہمراہ ان کو رخصت کردیں۔اس طرح اس تقریب کے لیے نہ شادی ہال کی بکنگ کی ضرورت ہوگی۔ نہ مہمانوں کے لیے درجنوں کے حساب سے دیگوں مختلف ڈشوں اور دیگر اشیائے طعام کی۔ نہ عورتوں کی بے پردگی و بیحیائی کا فتنہ اور نہ بینڈ باجوں، آتش بازی اور نہ مودی فلموں کی حیاسوز فتنہ انگیزی اور نہ دیگر بیشمار خرابیوں کا ظہور، جس کی تفصیل گزشتہ سطور میں پیش کی گئی ہے۔
سادگی اختیار کریں :فھل من مذکر (القرآن الحکیم ) کیا کوئی ہے ان نصیحتوں پر کان دھرنے والا ؟ سادگی اور اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنے والا؟ اور لوگوں کی ناراضگی اور لومتہ لائم (ملامت گروں کی ملامت) سے بے خوف ہو کر صرف اللہ کوراضی کرنے والا؟بارات میں عورتوں کی شرکت کے مزید مفاسد کے پیش نظر لڑکی والوں کے گھر جاتے وقت سوائے گھر کی خواتین کے (بیٹے کی ماں اور بہنوں کے) خاندان کی عورتوں اور دوست احباب کی بیگمات کو قطعا ساتھ نہ لے جایا جائے اس لیے کہ شادیوں میں عورتوں کی شرکت بھی بے شمار مفاسد کا باعث ہیں۔
خواتین میں خرافات :عورتوں میں سادگی کا تصور بالکل ختم ہوگیا ہے۔ حالانکہ حکم یہ ہے کہ عورتیں بالکل سادہ لباس میں باپردہ گھر سے باہرنکلیں۔ جبکہ ہوتا یہ ہے کہ خاندان میں کسی کی شادی کی اطلاع ملتے ہی گھر کی خواتین مردوں کو مجبور کرتی ہیں کہ گھر میں (بچیوں اور بیوی سمیت) تمام خواتین کے لیے کم ازکم دودوسوٹ اعلیٰ قسم کے تیار کیے جائیں۔ ایک نکاح والے دن اور دوسرا ولیمے والے دن کے لیے کیونکہ خاندان کی ساری عورتوں نے ان کو دیکھنا ہے۔ دونوں دن ایک ہی سوٹ میں اور ساد? لباس میں ملبوس ہونے کی صورت میں ان کی سبکی ہوگی۔ محدود آمدنی والے مرد کے لیے اپنے محدود بجٹ میں اس کے لیے گنجائش نکالنا بڑا مشکل ہوتاہے۔ علاوہ ازیں لباس اور اس کی سلائی کے علاوہ۔سادگی کا تصور ختم ہونے کی وجہ سے۔ میک اپ اور سولہ سنگھار کا سامان کا بھی مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے اور آنے جانے کے لیے کرائے کی گاڑی بھی ضروری ہے۔ جو صاحب حیثیت گھرانے ہیں ان کی بیگمات کا، مذکورہ اخراجات کے علاوہ۔زیورات کے نئے طلائی سیٹ کا مطالبہ ہوتا ہے۔ گھر میں پہلے جوسیٹ بعض کے ہاں کئی کئی سیٹ ہوتے ہیں، ان کا کہنا ہوتا ہے وہ پرانے ہیں یا فلاں کی شادی میں میں نے وہ پہنے تھے، اب وہی سیٹ اس شادی میں میں نے نہیں پہننا ہے۔ اور آج کل کے ’’زن مرید‘‘ قسم کے شوہر مطالبے بھی پورے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اور اب بہت سی خواتین میک اپ کے لیے بیوٹی پارلروں کی خدمات بھی حاصل کرتی ہیں اور وہاں سے اپنے بال، چہرہ اور ہر چیز سیٹ کروا کر شادیوں میں شریک ہوتی ہیں تا کہ وہ لباس اور زیورات ہی میں نہیں بلکہ حسن و جمال اور آرائش و زیبائش میں بھی یکتا اور ممتاز نظر آئیں۔
پردے سے کوسوں دوری : پھر ان تکلفات وتصنعات میں پردے کا اور نماز پڑھنے کا اہتمام کیوں کر ممکن ہے؟اِسی لئے ہماری شادیوں میں ان سب کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ پردہ کریں گی تو آرائش و زیبائش کے ہی مناظر لوگوں کوکب نظر آئیں گے اور نماز کے لیے وضو کریں گی تو میک اپ کا سارا مصنوعی حسن بہہ جائے گا اور چہرے کی اصل رنگت اور اصل خدوخال نمایاں ہو جائیں گے۔یہ عورتیں جب شادی والے گھر یا شادی ہال میں اکٹھی ہوتی ہیں تو ان کی نظر میں دیگر تمام عورتوں کے لباس، زیورات اور میک اپ کا جائزہ لیتی ہیں۔ اگر وہ ان سب میں ممتاز ہوتی ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، شیطان ان کے اندر تفاخر اور تکبر کا احساس اور اپنے سے کمتر عورتوں کی تحقیر کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ توسادہ مزاج قسم کی عورتوں کی بابت اس قسم کے تبصرے بھی ان کے نوک زباں پر آجاتے ہیں کہ فلاں کو دیکھو! اللہ نے ان کو سب کچھ دیا ہے لیکن یتیموں اورفقیروں کے سے لباس میں یہاں آئی ہیں۔ یعنی یہ سادگی، جو ان کو پسند ہے، شیطان صفت ان عورتوں کو بری لگتی ہے۔کئی عورتیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو اکثر وبیشتر ان کی باہم گفتگو کا موضوع ایک دوسرے کی غیبت اور ایک دوسرے پرلعن طعن ہوتا ہے۔ اللہ کا ذکر شاز و نادر ہی ان کی زبانوں پر آتا ہے۔
ویڈیو مووی بنوانا :مووی فلم میں، جو آج کل شادیوں کا (بارات میں بھی اورولیمے میں بھی) ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ ان سے پردہ اور فیشن پرست عورتوں کے ایک ایک سین کو محفوظ کر کے ان کے حسن و جمال اور بناؤ سنگھار اور لباسوں کی تراش خراش بلکہ عریانی و نیم عریانی کو عام کر کے دونوں خاندانوں میں ان کی نمائش کا اہتمام اور ان کا چرچا ہوتا ہے حالانکہ عورتوں کی یہ ساری خوبیاں اور آرائش و زیبائش کی ساری صورتیں صرف خاوند کے لیے جائز اور اس کے مخصوص ہیں۔ لیکن بے چارہ مرد تو اپنی بیوی کو اپنے گھر میں بالعموم اس کے برعکس حالت میں دیکھتا ہے کیونکہ عورتیں اپنے خاوند کے لیے اس طرح کی آرائش و زیبائش کا اہتمام نہیں کرتیں جب کہ ان کو اس کے سامنے بناؤ سنگھار کرنے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ حکم ہے لیکن جب ان کو باہر جانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اس طرح بن سنور کر گئی ہیں کہ اللہ کی پناہ، بالخصوص شادیوں میں تو اسکی بے پردگی ، اس کا نیم عریاں لباس، میک اپ، غازہ لپ سٹک، اس کی ایک ایک حرکت وادا ایک غارت گر دین و ایمان اورر ہزن تمکین و ہوش ،کسی الھٹر حسینہ، دل ربا چنچل بازاری عورت سے کم نہیں ہوتی حالانکہ اس کو حکم یہ ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے تو باپردہ اور سادگی سے نکلے حتی کہ اس کی خوشبو کی مہک بھی کسی مرد کیوں نہ ہو۔
زناکار عورت : ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو عورت خوشبولگا کر (باہر نکلتی ہے اور) لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھ لیں تو وہ زناکار ہے۔‘‘احادیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک عورت حضرت ابوہریرہ کے پاس سے گزری تو انہوں نے اس سے خوشبو مہکتی ہوئی سونگی انہوں نے پوچھا: ’’اے اللہ کی بندی! کیا تو مسجد میں آئی ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اور مسجد میں آنے کے لیے تو نے خوشبو لگائی ہے؟‘‘ اس نے کہا:’’ ہاں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے اپنے محبوب پیغمبر ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’اس عورت کی نماز قبول نہیں جو خوشبو لگا کر مسجد میں آتی ہے جب تک کہ وہ واپس جا کر اس طرح غسل نہ کرے جو جنابت کاغسل ہوتا ہے۔‘‘( سنن ابی داؤد ( 4174 )اس سے اسلامی تعلیمات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک عورت کو مسجد میں جانے کے لیے بھی خوشبو لگا کر جانے کی اجازت نہیں ہے تو دوسری کسی بھی جگہ معطر اور مزین ہو کر جانے کی اجازت کس طرح ہوسکتی ہے؟اور جو اس طرح جاتی ہے اس کے دل میں اسلامی تعلیمات کا احترام اور ان پرعمل کاجذبہ کتنا ہے؟
ایک قبیح رسم :نکاح کے بعد عورتوں کے اجتماع اور حصے میں ایک اور رسم کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے اور وہ ہے کہ دولہا میاں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس حصے میں جاتے ہیں اور وہاں دولہا دلہن کو ایک ساتھ بٹھا کر تمام خواتین کے سامنے دودھ پلائی کی رسم ادا کی جاتی ہے اس کے علاوہ دولہا دلہن سب کے سامنے ایک دوسرے کے منہ میں مٹھائی ڈالتے ہیں۔ اس موقعے پر دونوں خاندانوں کی خواتین کے علاوہ دولہا کے قریبی دوست بھی وہاں موجود ہوتے ہیں۔ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ دیندار خاندانوں میں بھی اس رسم کو معیوب نہیں سمجھا جاتا اور اسے بلا تکلف ادا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دولہا بھی۔ سوائے ماں، بہنوں اور ساس کے تمام عورتوں کے لیے غیر محرم اور اس کے ساتھ اس کے دوست بھی غیر محرم ہوتے ہیں بلکہ دوست تو دلہن کے لیے بھی غیر محرم ہیں۔ لیکن سب کے سامنے بے حیائی کی رسم ادا کی جاتی ہے اور ویڈیو والے یہاں بھی تمام مناظر فلمانے کا کام جاری رکھتے ہیں۔۔۔(جاری)