مختصرجائزہ
سہیل سالم
شعور ،لاشعور اور تحت الشعور میں بسنے والی کیفیات کو غزلوں کے سانچے میں ڈھالنے والے نرم اور ملائم لہجے کا نام ’’اشرف عادل ‘‘جو کشمیر میں اردو کے شعری افق پر کا ایک تابناک ستارے کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔’’جہان لاشعور‘‘ان کا تیسرا شعری مجموعہ ہے جو کہ حال ہی میں(2026) اردو دنیا میں متعارف ہوا۔ کشمیر کی معاصر اردو شاعری میں اشرف عادل کی نرم اور ملائم آواز نہایت ہی متاثر کن ہے جو اپنی لچک سے خاموشی کو توڑتی ہوئی اور دل تک پہنچنے کی ہمت رکھتی ہے ۔آپ کی غزلوں میں روایت کی خوشبو ہونے کے ساتھ ساتھ جدید سوچ اور ثقافت کا بھی اثر نمایاں ہے۔ انہوں نے کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نئے تجربے اور مشاہدات کو بھی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ان کی غزلیں پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے غم حیات نے ان کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔بقول اشرف عادل ؎
کھاتا ہوں اب کے پچھلے برس کا بچا ہوا
اس سال دوستوں نے کوئی غم نہیں دیا
کھڑکی نہ کھول جل رہے ہیں کمرے میں چراغ
دہلیز پر مچا رہی ہے شور پھر ہوا
بچھو ،درندے ،سانپ ابھی ہیں چھپے ہوئے
بستی کے چہرے سے ابھی پردہ نہیں اٹھا
انہوں نے زندگی کے زخموں کو مہارت سے مرحم لگانے کی سعی کی ہے۔ ادبی دنیا یا ادبی ماحول میں اکثر شاعروں ،فنکاروں اور مفکروں کو ان کی زندگی میں پہچان نہیں ملتی، لیکن اشرف عادل ان خوش نصیب شاعروں میں سے جن کے فن کو احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ۔اشرف نے اپنی شاعری کو متوسط لوگوں کی زبان، گردونواح کے حالات اور جدید نظریات کے قریب رکھا ہے۔انہوں نے شاعری کو خواب و خیال کی حویلی سے نکال کر سماجی ایوانوں تک پہچانے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور انسانیت کو اہمیت دی ہے۔انہوں نے اپنی غزلوں میں آج کے مسائل،آج کی فکر اور آج کی فضا سے جوڑ کر سماج کی باطنی صورت حال کو حقیقت پسندانہ رنگ دیا ہے۔اشرف عادل لکھتے ہیں : ۔
عداوت سے تری واقف ہوئے جب سے
محبت سے تری انکار کرتے ہیں
خوشامد کرتے ہیں اپنے یہاں اکثر
ہماری رہبری اغیار کرتے ہیں
مزاج اب موسموں کا کس قدر بدلا
سنہری دھوپ کو بیمار کرتے ہیں
جہاں تک موضوع کا تعلق ہے، اشرف عادل کے یہاں موضوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کی غزلوں کا انداز مختلف ہے اور ایک ہی بات کو سو رنگ سے باند نے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ محبت ان کی شاعری کا مرکزی موضوع ہے۔ لہٰذا ان کی غزل نئی نسل کے جذبات کی ترجمانی معلوم ہوتی ہے۔ اشرف عادل نے اپنی غزلوں میں زندگی کو مختلف ادوار میں بانٹنے کی کامیابی سعی کی ہے پھر چاہیے ،جوانی کے جوش و خروش ہو یا پھر جوانی کی پختگی کے دور کی دلی کیفیات اور داخلی احساسات کو قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ محبت ایک ذاتی تجربہ ہے۔ ہر کوئی آگ سے ہو کر گزرنا چاہتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبرت کام نہیں آتی۔ جنت کا لطف مرنے کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک بات یہاں دھیان میں رہے کہ اشرف عادل کے معشوق کا تصور رومانوی ادب کی طرح نہیں ہے۔ عادل کے یہاں عشق کا جذبہ معشوق کو دیوی بنا کر اس کی پرستش کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اشرف عادل کا محبوب بھی کلاسیکل شعراء کے محبوب کی طرح گوشت پوشت کا جیتا جاگتا انسان ہے۔ جس کے چہرے پر غصہ بھی نمودار ہوتا ہے، جونا ناراض بھی ہوتا ہے ، جو روتا بھی ہے اور اسے روٹھنے پر منایا بھی جاسکتا ہے۔بقول اشرف عادل ؎
محبتوں کا سفر چھوڑ کے نہیں جانا
عداوتوں کا اثر چھوڑ کے نہیں جانا
مراسم دوستانہ ہیں تعارف غائبانہ ہے
محبت میں وطیرہ ان سے عاجزانہ ہے
محبت ہم پس دیوار کرتے ہیں
مگر نفرت سر بازار کرتے ہیں
اشرف عادل نئے ماحول کی نئی فضا میں محبت کے لمس کو محسوس کرنے کی سعی بھی کی ہے اور اس کی آرزو بھی کی ۔ان کے یہاں کئی غزلیں اپنے ہی آنگن کی فضا میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔انھوں نے اجتماعی اور انفرادی زندگی کی واردات کو اپنی غزلوں میں زیادہ پیش کیے ہیں۔لیکن یہ واردات کسی بھی شخص کے قلبی یا سماجی واردات سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔انھوں نے اپنے غزلوں میں باطنی اور خارجی عناصر کے درمیان بھی غضب کا توازن بر قرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے باطنی محسوسات ،خارجی محسوسات سے پوری طرح ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ان کے اشعار انسانی نفسیات کے مبہم پہلوں سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں۔ایک حساس فنکار کی مانند انھوں نے زندگی کے تمام تر پہلوں کا جائزہ لینے میں دلچسپی دکھائی ہے اور جہاں انسانیت دم توڑ رہی ہے وہاں صدائے احتجاج بھی بلند کی ہے۔زندگی کے اتار چڑھاؤ کی طرح ان کی ذہنی سطح پر بھی ہر پل تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔بقول اشرف عادل ؎
اب ہماری چشم پر نم میں بصارت بھی نہیں
اور کسی دیوار پر کوئی عبارت بھی نہیں
اب بنے ہیں لوگ خود اپنی نمازوں کے امام
رہنمائی بھی نہیں ہے اور امامت بھی نہیں
اس مگر میں ہم سروں کی فصل کٹواتے رہے
جس نگر میں سر اٹھانے کی اجازت بھی نہیں
اشرف عادلؔ کے اس شعری مجموعہ ’’ جہان لاشعور ‘‘ میں تر و تازگی ،زبان و بیان میں رچاؤ اور عصری آگہی کی تصویر بھی دکھائی دیتی ہے اور جہاں جذبات و احساسات کی روشنی سے جہان لاشعور میں ایک نئی ہل چل مچ جاتی ہے۔انہوں نے اپنے دور کے سوز و گداز، رنج و الم اور انسانی زندگی کی بے شمار الجھنوں کو نادر تشبہات اور استعاروں کالباس عطا کیا ۔ ’’جہان لاشعور‘‘حیات و کائنات سے وابستہ تمام مسائل کی نمائندگی کرتی ہے اور معاشرے کو آئینہ دکھا کر حقیقت کا پرچار بھی کرتی ہے۔بقول اشرف عادل ؎
فنکار ہیں ہم لوگ قلم کار ہیں ہم لوگ
اس دور تجارت کے گنہگار ہیں ہم لوگ
یوں شمع جلاتے ہیں اندھیروں میں مسلسل
پر تیز ہواؤں کے طرف دار ہیں ہم لوگ
رابطہ۔9103930114
[email protected]