محمد امین اللہ
رمضان المبارک اسلام کا وہ مقدس مہینہ ہے جس میں مسلمانان عالم کے شب وروز میں ایک انقلابی تبدیلی آ جاتی ہے ۔ سونے جاگنے کے اوقات تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے ۔ یہ ہر بالغ مرد ، عورت پر فرض ہے ۔ بلا عذرِ شریعی ترک کرنے والے کے لئے سخت وعید ہے ۔ رمضان کے روزے ہجرت کے ڈیڑھ سے دو سال بعد 10شعبان 2ہجری ( بمطابق 624 عیسوی) مدینہ منورہ میں فرض ہوئے، اللہ کے رسولؐ نے اپنی حیات طیبہ میں 9سال تک روزے رکھے ۔
روزہ کے فرضیت والی آیت مبارکہ میں ایک مومن کے لئے دنیا وہ آخرت کی کامیابی کی جو صفت بتائی گئی ہے وہ عمل کی شاہ کلید کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر تقویٰ حاصل ہو جائے تو ہدایت ربانی کا حقدار ہو جاتا ہے یعنی عامل قرآن ہو جاتا ہے ۔ روزہ حصول تقویٰ کا وہ ربانی عطیہ ہے جو زندہ رہنے والے ہر مسلمان کو ہر سال میسر ہوتا ۔ روزہ دراصل نفس امارہ کو قابو میں رکھنے کی تربیت دیتا ہے ۔ نفس امارہ ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ حالت روزہ میں ایک صاحب ایمان صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک اپنے تمام تر جائز جسمانی خواہشات اور ضروریات سے خود کو روکھے رکھتا ہےاور نفس امارہ کے تمام تر ترغیبات مثلاً ، غصہ ، جھوٹ ، بہانہ بازی ، جھنجھلاہٹ سے بازرہتا ہے ۔ یہ ایک ماہ کی تربیت کا مقصد سال کے گیارہ مہینے ہر اس کام سے خود کو بعض رکھنا ،جس کو اللہ اور رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے۔ روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کو ہر رِیا اور دروغ گوئی سے بچانا ہے ، اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنا، اپنی زبان کو فحش گوئی سے بچانا ہے ۔ روزہ دار کا روزہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان کا معاملہ ہے ۔ ایک فرد روزہ ہے یا نہیں، جب تک وہ دوسرے پر ظاہر نہ کرے اللہ کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا ۔ ہر نیکی کا اجر فرشتوں کے ذریعے ملے گا مگر روزے کا اجر اللہ خود دے گا ۔ جنت میں روزہ داروں کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہے، جسے باب الریان کہتے ہیں جس سے روزہ دار داخل ہوں گے ۔ رسول اللہ ؐ کا فرمان ہےکہ اپنے نفس (نفس امارہ) کو قابو رکھنا سب سے بڑا جہاد ہے۔روزہ ڈھال ہے، جس طرح ڈھال دشمن کے تلوار ، نیزے اور تیر سے بچاتی ہے ،اس طرح روزہ ،روزے دار کو ہر طرح کے شیطانی اور نفسانی وسوسوں اور حملے سے بچاتا ہے ۔جب بھی کوئی صاحب ایمان نیکی کا ارادہ کرتا ہے، اس کے راستے میں اس کا نفس ، آرزو ، لالچ ، حرص و طمع ، خوف بن کر کھڑا ہو جاتے ہیں اور آدمی نیکی کرنے سے رہ جاتا ہے ۔ روزہ کی حالت میں جن جسمانی ضروریات اور نفسانی خواہشات سے انسان خود کو روکتا ہے، یہی چیزیں اس کو روزہ رکھنے کے معاملے میں کمزور کر دیتی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جس نے پاکیزگی کو اختیار کیا، اسے فلاح نصیب ہو گئ اور جس نے اس نیکی کے جذبے کو دبا دیا وہ نا مراد ہو گیا ۔ روزے جسمانی سختی اور آزمائش انسان کو قرب الہٰی حاصل کرنے کا وسیلہ ہیں، روزے دار نماز، قرآن اور ذکر و فکر سے جڑ جاتا ہے ۔ عام دنوں کی عبادت کے مقابلے میں روزے میں عبادات کی کثرت پیدا ہو جاتی ہے۔جوروزہ دار، روزے کے تمام تقاضوں کو بحسن وخوبی ادا کرے، اس کے بقیہ دنوں کے معاملات درست ہو جاتے ہیں ۔ (جاری)