گزشتہ کئی ہفتوں سے انسانی بستیوں میں جنگلی جانوروں کی دراندزی کی خبریں تواتر کے ساتھ سامنے آرہی ہیں، بلکہ رواں ہفتہ کے دوران وادی اور خطہ چناب میں کئی ایسے واقعات پیش آئے جب ہر دم نایاب ہوتے ہوئے برفانی چیتوں اور انکے بچوں کو بستیوں کے اندر گھومتے ہوئے پایا گیاجبکہ کئی علاقوںمیں ان جانوروں کو لوگوں کے گھروں کے اندر سے برآمد کرکے محکمہ وائلڈ لائف کے سپر دکیا گیا،جنہوں نے بعد اذاں انہیں واپس اپنی آماجگاہوں میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح سرینگر ، گاندربل اور ٹنگمرگ کے متصل کچھ بستیوں میں بھی ریچھو ں کی گھس پیٹھ کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ پہاڑی علاقوں میںان وحوش کے لئے غذا کے وسائل محدود ہو جاتے ہیں اور وہ قریبی بستیوں کی طرف رُخ کرتے ہیں۔یہ صورتحال ماضی میں بھی پیش آتی رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ان واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور رواں برس نہایت ہی تواتر کے جنگلی حیات کی انسانی بستیوں کے اندر آمد و رفت سے دو اہم سوال اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ کیا جنگلات کی صورتحال اس قدر زبو ں ہوگئی ہے کہ فطرت کے توازن کا ایک اہم ستون گردانے جانے والے ان وحشیوں کےلئے وہاں خوردونوش کی صورتحال دن بدن دگر گوں ہو رہی ہے یا پھر انسانی بستیاں اس قدر جنگلات کے قریب پہنچ گئی ہیں کہ یہ وحوش اپنی آماجگاہوں میں انسانی گھس پیٹھ سے برافرختہ ہو کر ایسے حالات پید اکر رہے ہیں۔ بہر حال دیکھا جائے تو دونوں صورتیں موجود ہیں۔ ایک جانب نہایت ہی سرعت کے ساتھ جنگلاتی اراضی سکڑتی جارہی ہے اور اس کے لئے ذمہ دارعوامل سے ہم مسلسل غفلت کے مرتکب ہوتے آئے ہیں۔ دوسر ی طرف انسانی آبادیاں بھی بہت تیزی کے ساتھ پھیل کر جنگلات سے متصل علاقوں سے رینگتے ہوئے جنگلات کی زیلی اراضی کے اندر گھستی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں انسانوں اور وحوش کا متصادم ہونا لازمی ہے اول الذکر صورتحال کے لئے جنگل سمگلروں کا مافیا، جس میں سیاستدانوں اور انتظامی اہلکاروں کے مفادات مسلم ہوتے ہیں،بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں کے حوالے سے بے محابہ تعمیراتی سرگرمیاں اور سلامتی کےلئے جنگلوں کے اندر سیکورٹی فورسز کی آمد و رفت ذمہ دارہے، جس کی وجہ سے ان وحوش کے مساکن متاثر ہوتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر انہیں اپنی آماجگاہوں سے منتقل ہونا پڑتا ہے۔ثانی الذکر صورت میں انسانی بستیوں کے بے ترتیب اور غیر منصوبہ بند پھیلائو نے جہاں زرعی اراضی کو بے بیان تباہی سے دو چار کر دیا ہے وہیں اب جنگلات سے متصل زیلی اراضی کو بھی زیر کرنے کا عمل جاری ہے ، جو بالآخر بچے کھچے جنگلات کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگلی جانوروں کی آماجگاہوں کے تحفظ کو سنجیدگی کے ساتھ لے کر ، ایسے علاقوں کو انسان کی دست برد اور دخل اندازی سے محفوظ کیا جائے وگرنہ ماحولیاتی عدم توازن میں مزید سنگینی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ، جو کم ازکم کائناتی اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔گزرے ایام میں محکمہ جنگلات نے جموں کے کئی علاقوں میں جنگلاتی اراضی کی باز یابی کے نام پر کارروائیاں ضرور کی تھیں، لیکن ان میں جنگلات کی بحالی کے بجائےفرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاسی انتقام گیری کے عناصر زیادہ نظر آرہے تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات سے متصل علاقوں میں اراضی کی باز یابی کو ترجیح د ی جائے۔ جموں وکشمیر جو صدیوں سے قدرت کی ان مہربانیوں سے مالامال رہاہے ، میں بھی آئندہ ایام میںتباہی کی صورتحال پیدا نہ ہو ، اس کے بارے میں یہاں کی حکومت اورعوام کو سنجیدگی اوردردمندی کے ساتھ غور وفکر کرنا ہوگا۔ ریاستی گورنر نے گزشتہ دنوں شجر کاری کی خصوصی مہم کا آغاز کرتے ہوئے سال2022تک پچاس لاکھ پوردے کاشت کرنے کے ہدف کاا علان کیا ہے، جو نہایت ہی خوش آئند ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگلات کو بچانے کےلئے سنجیدہ کارروائیاں کی جائیں۔