نئی دلی//بارڈر روڈ آرگنائزیشن ( بی آر او )نے کہا ہے کہ جموں۔ پونچھ چار گلیاروں وای ایکسپریس وے بنانے کا کام عنقریب شروع کیا جائے گا۔یہ جانکاری بی آر او کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ایس کے شری واستوا نے خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اوراطلاعات کے وزیر چودھری ذوالفقار علی کو نئی دلی میں ایک میٹنگ کے دوران دی۔ اس میٹنگ کے دوران راجوری اور پونچھ اضلاع میں عملائے جارہے کئی اہم سڑک پروجیکٹو ںکی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا ۔وزیر نے اس موقعہ پر جموں ۔ پونچھ شاہراہ کو چار گلیاروں والی بنانے کا کام جلد شروع کرنے اورکالی دھار میں ایک ٹنل تعمیر کرنے کا معاملہ اٹھایا ۔وزیر موصوف نے کہا کہ جموں ۔پونچھ شاہراہ چار گلیاروں والی بنانے اورکالی دھارپر ٹنل تعمیر کرنے سے مسافت کم ہوگی اور ان دونوں اضلاع تک سفر آسان ہو جائے گا۔ اس موقعہ پر راجوری ۔تھنہ منڈی ۔ بفلیاز سڑک کو بڑھاوا دینے،راجوری ۔ کنڈی ۔بدھل سڑک کی کشادگی اور کئی سڑکوں کی رکھ رکھائو کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا۔ چودھری ذوالفقار علی کو ڈائریکٹر جنرل نے جانکاری دی کہ اکھنور۔ پونچھ سڑک کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے سے متعلق ڈی پی آر کو دو تین دنوں کے اندر اندر منظور کیا جائے گااور منظوری کے فوراً بعد ٹینڈر جاری کئے جائیں گے ۔راجوری ۔ بدھل سڑک کے حوالے سے وزیر نے اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی وکالت کی تاکہ بدھل اور کوٹرنکہ کے لوگوں کو عبور و مرور میں آسانی ہو۔ ڈی جی نے انہیں یقین دلایا کہ کوترانکا پل کو مارچ 2018ء سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔ذوالفقار علی نے راجوری ۔ تھنہ منڈی ۔ بفلیاز سڑک کی افادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک سلامتی کے اعتبار سے کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور یہ سرینگر کو جموں اور دونوں اضلاع کے مختلف علاقوں کو ریاست کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سڑک خستہ حال ہوچکی ہے اور اس کی فوری طور سے تجدید و مرمت کی جانی چاہئے۔انہوںنے کہا کہ مستقبل میں مغل روڈ پر ٹریفک کا دبائو کافی حد تک بڑھ جائے گا لہٰذا راجوری ۔ تھنہ منڈی ۔ بفلیاز کو بڑھاوا دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہو ں نے کہا کہ بی آر او کو ڈرینج نظام کی دیکھ ریکھ بھی کرنی چاہئے ۔وزیر نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں زائرین اسی سڑک سے بابا غلام شاہ بادشاہ اور شاہدرہ شریف کی زیارت پر حاضری دینے کے لئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سڑک کو بڑھاوادینے کی اشد ضرورت ہے۔چودھر ی ذوالفقار علی نے کہاکہ حکومت کے ساتھ کئے گئے وعدے کے باوجود بھی پچھلے تین برسوں میں بی آر او نے اس سڑک کی کشادگی کا کام ہاتھ میں نہیں لیا ہے۔ انہوںنے ڈی جی کو حصول اراضی سے جڑے معاملات کے بارے میں آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل حتمی مرحلے میں ہے لیکن اراضی کے معاوضے کا معاملہ گریف کے پاس التوا میںپڑا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی آر او کو اب ایک وقت کا تعین کرنا چاہئے تاکہ علاقے کے لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات حاصل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے 3212 کنال اور 19مرلہ زمین حاصل کی جاچکی ہے اور اسے بی آر او سونپ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین کے معاوضے کے طور پر 55.86کروڑ روپے واجب الادا ہیں جنہیں جلد از جلد واگذار کیا جانا چاہئے۔ ڈ ی جی بی آر او نے وزیر کو یقین دلایا کہ تھنہ منڈی ۔ بفلیاز سڑک جو 16کلومیٹر لمبی ہے کا ڈی پی آر بھی عنقریب ہی منظور کیا جائے گا۔