سرینگر //جموں و کشمیر میں لاک ڈائون 2ہفتوں سے جاری ہے،اور اس کے مثبت اثرات واضح ہورہے ہیں۔حالانکہ لگاتار 3ہفتوں تک مکمل لاک ڈائون کے بعد ہی کورونا کے کیسوں میں کمی آنی شروع ہوجاتی ہے لیکن جموں کشمیر میں 17روز سے جاری بندشوں کے بعد ہی نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔عمومی طور پر 10روز کے بعد کورونا کا مثبت مریض ٹھیک ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اگر اس پیمانے کو موجودہ صورتحال کے مطابق دیکھا جائے تو لاک ڈائون کے 10روز بعد ہی جموں کشمیر میں مثبت کیسوں میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق29اپریل کو جب لاک ڈائون کا آغاز کیا گیا تو اگلے دن 3023افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جبکہ 30 افراد فوت ہوگئے۔پھر لگاتار 10روز تک کیسز بڑھتے گئے اور امواتیں بھی زیادہ ہوئیں۔10ویں روز 9مئی کو 5190متاثر اور54 افرادفوت ہوئے۔ یوں مثبت کیسوں کی شرح 10.6 فیصد اوراموات کی شرح 1.04 فیصد تھی۔ لیکن پھر 10روز تک مکمل بندشوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے۔ 11ویں روز یعنی10مئی کو 3614متاثر ین کا اضافہ ہوا اور56افراد فوت ہوئے۔ اس طرح مثبت کیسوں کی شرح کم ہوکر9.8فیصد اور اموات کی شرح1.5فیصد رہی۔اسکے بعد لگاتار تھوڑی تھوڑی کمی واقع ہونے لگی ہے جو اب بھی جارہی ہے۔جموں و کشمیر سرکار کی اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی کے چیئر مین ڈاکٹر ایم ایس کھورو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’لاک ڈائون سے وائرس کو روکا نہیں جاسکتا ، ہاں اس سے وائرس کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ عام متوازن وائرس کی رفتار کو روکنے کیلئے 10دنوں سے 3ہفتوں کا وقت لگتا ہے لیکن دوسری لہر کے دوران وائرس کی نئی ہیت سامنے آئی ہے اور اس کے رویے کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نئی ہیت کے وائرس میں لوگوں کو جلد متاثر کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اسلئے لوگ کافی تیزی سے متاثر ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر کھورو کا مزید کہنا تھا ’’ وائرس کی رفتار کو دیکھتے ہوئے میں نے پیش گوئی کی تھی وائرس روزانہ 10ہزار لوگوں کو متاثر جبکہ 100لوگوں کی جان لے گا لیکن لاک ڈائون سے فرق نمایاں آئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ لاک ڈائون کی وجہ سے روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 5ہزار اوراموات 60 یا 70کے درمیان سمٹ گئی ہیں‘‘۔ڈاکٹر کھورو نے کہا ’’ ہم نے سرکار سے کہا ہے کہ وائرس کی رفتار کم کرنے کیلئے لاک ڈائون کوبڑھانا ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا’’ ماسک، سماجی دوری اور سماجی تقریبات سے دوری وائرس کو روکنے کابہترین ہتھیار ہے‘‘۔ ڈاکٹر کھورو کا کہنا تھا کہ وائرس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ لوگوں کو ٹیکے لگانا ہے۔ گورنمنٹ میدیکل کالج سرینگر میں شعبہ کیمونٹی میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’آئندہ2ہفتوں کے دوران کیسوں میں اضافہ ہوگا اور یکم جون سے کمی کا امکان ہے‘‘۔ڈاکٹر خان نے بتایا ’’ 5دنوں کے بعد پتہ چلتا ہے کہ کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوا ہے اور پھر 10دن کے بعد وہ روبہ صحت ہوتا ہے‘‘۔ڈاکٹر سلیم کا مزید کہنا تھا کہ متاثر شخص کے رابطوں کا پتہ لگانے اور ان کی ٹیسٹنگ میں بھی ایک ہفتہ لگتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نتائج مثبت ہیں لیکن مکمل جانکاری اور لاک ڈائون کے مجموعی اثرات 3ہفتوں بعد ہی دیکھنے کو ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو متاثرین اسپتال میں فوت ہورہے ہیں ، ان میں تقریباً سبھی 3ہفتے یا دو ہفتے قبل وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 17دن لاک ڈائون کرنے کے بعد ہم کسی قسم کی کوتاہی نہیں برت سکتے اور وائرس کو پھر سے رفتار پکڑنے کا موقع نہیں دے سکتے۔