حال و احوال
جاوید چوہدری
جموں و کشمیر آج جس سب سے سنگین، ہمہ گیر اور تباہ کن بحران کا سامنا کر رہا ہے وہ بیروزگاری ہے، جس بحران کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، وہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں—یہ ایک انسانی المیہ ہے، ایک اجتماعی ناکامی ہے اور ایک ایسی ریاستی بے حسی کی داستان ہے جس نے اپنے ہی نوجوانوں کو اُمید اور مایوسی کے درمیان معلق چھوڑ دیا ہے ۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں نوجوانوں نے تعلیم کو نجات کا راستہ سمجھا ،خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے برسوں محنت کی ،والدین نے اپنی جمع پونجی بیچ کر بچوں کو پڑھایا، مائیں اپنی دعاؤں میں ان کے مستقبل کو سنوارتی رہیں، مگر آخر میں ان سب کو ملا تو صرف انتظار، خاموشی اور دھوکہ۔ یہ بیروزگاری کسی ایک سال ،کسی ایک حکومت یا کسی ایک فیصلے کی پیداوار نہیں، یہ مسلسل وعدوں، اُدھورے اعلانات، منسوخ شدہ بھرتیوں اور فائلوں میں دفن خوابوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ یہاں امتحانات کا اعلان ہوتا ہے، نوجوان راتوں کی نیند قربان کر کے تیاری کرتے ہیں ،مگر امتحان کے بعد نتیجہ برسوں تک نہیں آتا، جب آتا ہے تو یا تو عدالتوں میں اُلجھ جاتا ہے یا انتظامیہ کی بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔آسامیاں مشتہر ہوتی ہیں ،امیدیں جاگتی ہیں مگر پھر خاموشی چھا جاتی ہے ،نہ کوئی جواب ،نہ کوئی وضاحت ،نہ کوئی احساسِ ذمہ داری ۔کیا ریاست کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ان تاخیروں کی قیمت صرف وقت نہیں بلکہ ایک پوری نسل کا مستقبل ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں نوجوان عمر کی حد عبور کر جاتے ہیں، ان کے خواب سرکاری نوٹیفکیشنز کی سطروں میں دم توڑ دیتے ہیں، ان کی محنت، ان کی قابلیت ،ان کی امید سب کچھ ریاستی بے حسی کے بوجھ تلے دفن ہو جاتا ہے۔ یہ نوجوان صرف بیروزگار نہیں یہ خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کرتے ہیں ،وہ ریاست سے سوال پوچھتے ہیں،کیا ہماری محنت کی کوئی قیمت نہیں؟کیا ہماری تعلیم بے معنی تھی؟کیا ہمارے خواب صرف انتخابی نعروں کا ایندھن تھے؟مگر جواب میں انہیں صرف خاموشی ملتی ہے۔ ایک سرد، بے حس اور طویل خاموشی تعلیم یافتہ بیروزگاری نے اس بحران کو ایک خطرناک سماجی دھماکے میں تبدیل کر دیا ہے۔ انجینئرز ،پوسٹ گریجویٹس ،ریسرچ اسکالرز، تربیت یافتہ اساتذہ، یہ سب آج یا تو سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں یا پھر ایسے عارضی اور کم اُجرت والے کام کرنے پر مجبور ہیں جو ان کی قابلیت اور تعلیم کی توہین کے مترادف ہیں۔ یہ صرف معاشی نقصان نہیں ،یہ انسانی وقار کی توہین ہے۔ اس بحران کا سب سے ظالمانہ پہلو ڈیلی ویجز ملازمین اور سیزنل ٹیچرز کی حالت ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی ریاست کی خدمت میں گزار دی، مگر بدلے میں انہیں نہ مستقل ملازمت ملی، نہ تحفظ نہ عزت۔دہائیوں سے کام کرنے والے ڈیلی ویجز آج بھی اپنی حیثیت کے لیے ترس رہے ہیں، ان کی زندگیاں غیر یقینی کے سائے میں گزرتی ہیں، ان کے بچوں کا مستقبل غیر محفوظ ہے، ان کے گھروں میں معاشی بے چینی ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ سیزنل ٹیچرز کی حالت اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے، وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں تعلیم کی شمع روشن رکھتے ہیں مگر ریاست انہیں وقتی ضرورت کا ایک بے نام کردار سمجھتی ہے۔ جب ضرورت ختم ہوتی ہے، انہیں بھی خاموشی سے بے روزگاری کے اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔کیا یہی ریاستی انصاف ہے؟کیا یہی وہ نظام ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟
سب سے زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اس بحران کی سنگینی کا وہ احساس نظر نہیں آتا، جس کی یہ صورتحال متقاضی ہے۔ بیانات دیے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فائلیں حرکت نہیں کرتیں، فیصلے مؤخر ہوتے رہتے ہیں اور اس تاخیر کے ہر لمحے کے ساتھ ہزاروں زندگیاں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ یہ خاموشی صرف انتظامی ناکامی نہیں یہ ایک اخلاقی ناکامی ہے ۔ریاست کی ذمہ داری صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے مستقبل کا تحفظ کرنا بھی ہے ،روزگار کوئی احسان نہیں، کوئی رعایت نہیں، یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جب ریاست اپنے نوجوانوں کو روزگار دینے میں ناکام ہو جائے تو وہ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
آج جموں و کشمیر کا نوجوان ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کے پاس تعلیم ہے، صلاحیت ہے ،عزم ہے، مگر موقع نہیں۔ اس کے پاس خواب ہیں مگر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا راستہ بند ہے۔ یہ صورتحال صرف افراد کو متاثر نہیں کر رہی، یہ پورے معاشرے کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔
مایوسی جب حد سے بڑھ جائے تو وہ صرف ایک احساس نہیں رہتی ،وہ ایک ردعمل بن جاتی ہے۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کا اعتماد کھونا کسی بھی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہوتی ہے، کیونکہ جب نوجوان ریاست پر یقین کھو دیتے ہیں تو ریاست اپنی بنیاد کھو دیتی ہے۔ اب وقت بیانات کا نہیں فیصلوں کا ہے، اب وقت وعدوں کا نہیں عمل کا ہے ،اب وقت خاموشی کا نہیں جواب دہی کا ہے۔ ریاست کو فوری ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے، بھرتی کے عمل کو تیز کرنا ہوگا، تاخیروں کا خاتمہ کرنا ہوگا، ڈیلی ویجز اور سیزنل ملازمین کو انصاف دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے ،کیونکہ اگر یہ اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ گیا تو اس کے نتائج صرف معاشی نہیں ہوں گے، وہ سماجی اور تاریخی ہوں گے، جموں و کشمیر کا نوجوان ابھی خاموش ہے مگر یہ خاموشی رضامندی نہیں بلکہ انتظار ہے۔انتظار انصاف کا،انتظار جواب کا،انتظار اس لمحے کا ،جب ریاست اسے ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک سرمایہ سمجھے گی اور اگر یہ انتظار مزید طویل ہوا، تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی، کیا ریاست اپنے نوجوانوں کو روزگار دینے میں ناکام رہی یا اس نے جان بوجھ کر ان کے خوابوں کو مرنے دیا؟ اور اگر یہ انتظار مزید طویل ہوا تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی کہ کیا ریاست اپنے نوجوانوں کو روزگار دینے میں ناکام رہی یا اس نے جان بوجھ کر ان کے خوابوں کو مرنے دیا؟
مگر آج اس سوال کے ساتھ ایک اور سوال بھی پوری شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے اور وہ سوال براہ راست موجودہ انتظامی ڈھانچے ایل جی انتظامیہ اور بھرتی کے ذمہ دار اداروں سے ہے ۔آخر کب تک جموں و کشمیر کے نوجوان فائلوں کی گردش کمیٹیوں کی تشکیل اور بے معنی وضاحتوں کے نام پر اپنے مستقبل کو قربان کرتے رہیں گے؟ ایل جی انتظامیہ جس کے پاس مکمل انتظامی اختیار مکمل فیصلہ سازی کی طاقت اور مکمل ذمہ داری موجود ہے، اس بحران پر وہ سنجیدگی اور فوری اقدام کیوں نہیں دکھا سکی، جس کی یہ صورتحال متقاضی تھی؟ اگر اختیار موجود ہے مگر فیصلہ نہیں ہو رہا تو یہ صرف تاخیر نہیں، یہ ایک خطرناک انتظامی ناکامی ہے ۔یہ سوال اب صرف نوجوان نہیں پوچھ رہے، یہ سوال ہر وہ خاندان پوچھ رہا ہے جس کا بیٹا یا بیٹی برسوں سے روزگار کے انتظار میں اپنی جوانی کھو رہا ہے۔بھرتی ایجنسیاں جنہیں شفافیت رفتار اور انصاف کی علامت ہونا چاہیے تھا، آج نوجوانوں کی مایوسی کی علامت بن چکی ہیں۔ امتحانات منعقد ہوتے ہیں مگر نتائج غیر معمولی تاخیر کا شکار ہوتے ہیں ۔سلیکشن لسٹیں جاری ہوتی ہیں مگر تقرری کے احکامات نہیں آتے ۔آسامیاں مشتہر ہوتی ہیں مگر پراسس نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر روک دیا جاتا ہے۔یہ صرف تاخیر نہیں یہ نوجوانوں کے اعتماد کا قتل ہے۔ ہر تاخیر ہر التوا ہر خاموشی ایک نوجوان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کی محنت اس کی تعلیم اور اس کا مستقبل انتظامی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ایل جی انتظامیہ کی ذمہ داری صرف امن و امان برقرار رکھنا نہیں بلکہ اس خطے کے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل دینا بھی ہے۔ اگر نوجوان تعلیم کے باوجود بے روزگار رہیں ،اگر بھرتی کے عمل برسوں تک مکمل نہ ہوں، اگر وعدے صرف فائلوں تک محدود رہیں تو یہ انتظامی کنٹرول نہیں بلکہ انتظامی جمود ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھرتی کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ایک معمول بن چکی ہے، نوجوان تیاری کرتے ہیں ،امتحان دیتے ہیں اور پھر برسوں تک انتظار کرتے ہیں، ایک ایسے انتظار میں جس کا کوئی واضح انجام نہیں ہوتا۔یہ انتظار صرف ذہنی اذیت نہیں، بلکہ ایک مکمل سماجی بحران ہے۔ ہزاروں نوجوان ڈپریشن ،بے یقینی اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ خاندان معاشی بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کی بے بسی دیکھ کر خاموشی سے ٹوٹ رہے ہیں اور اس سب کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں وہ ہنگامی کیفیت ،وہ سنجیدگی ،وہ احساسِ ذمہ داری نظر نہیں آتا جو اس صورتحال کا تقاضا ہے۔ یہ خاموشی ناقابلِ فہم بھی ہے اور ناقابلِ قبول بھی۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کو نظر انداز کرنا صرف ایک پالیسی ناکامی نہیں یہ ایک تاریخی غلطی ہے ۔ایک ایسا نوجوان جسے ریاست موقع نہیں دیتی، وہ خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگتا ہے اور جب ایک پوری نسل خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف معاشی نہیں، بلکہ سماجی اور ادارہ جاتی ہوتے ہیں۔ ایل جی انتظامیہ کو اب یہ واضح کرنا ہوگا کہ کیا نوجوانوں کا مستقبل واقعی ان کی ترجیحات میں شامل ہے، یا وہ صرف سرکاری بیانات اور رسمی یقین دہانیوں تک محدود ہے ۔اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ،ہر گزرتا دن ریاست کے نوجوانوں کے اعتماد کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ اس احساس کو مضبوط کر رہا ہے کہ شاید ان کے مسائل فوری ترجیح نہیں ہیں، ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک پوری نسل کو مایوسی کے اندھیرے میں چھوڑنا چاہتی ہے یا انہیں امید وقار اور موقع دینا چاہتی ہے۔ کیونکہ ریاستیں صرف سڑکوں عمارتوں اور فائلوں سے نہیں بنتیں ،ریاستیں اپنے نوجوانوں کے اعتماد سے بنتی ہیں۔ اگر یہ اعتماد ٹوٹ گیا تو اسے بحال کرنا کسی بھی انتظامیہ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ جموں و کشمیر کا نوجوان اب صرف روزگار نہیں مانگ رہا،وہ انصاف مانگ رہا ہے، وہ موقع مانگ رہا ہے، وہ وہی مانگ رہا ہے جس کا وعدہ اس سے کیا گیا تھا اور اب یہ ذمہ داری براہ راست ایل جی انتظامیہ، بھرتی ایجنسیوں اور حکومتی نظام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خاموش چیخ کو سنیں۔ اس سے پہلے کہ یہ خاموشی ایک ایسے سوال میں بدل جائے جس کا جواب تاریخ بھی آسانی سے نہ دے سکے۔ کیونکہ آخرکار ریاستوں کا فیصلہ ان کی عمارتوں سے نہیں بلکہ اس بات سے کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے نوجوانوں کے ساتھ کیا سلوک کیااور آج جموں و کشمیر کا نوجوان تاریخ کے سامنے کھڑا ہےانتظار میں، سوال کے ساتھ اور انصاف کی آخری اُمید کے ساتھ۔
(رابطہ۔ 7006056756) [email protected]