جموں//پولیس نے احتجاجی اساتذہ کی طرف سے گورنر ہائوس کے گھیرائو کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جس دوران کئی اساتذہ زخمی ہو گئے ۔ اتوار کی صبح ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر خطہ کے تمام اضلاع سے آئے ہوئے سینکڑوں اساتذہ نمائش گرائونڈ میں جمع ہوئے اور ساتویں پے کمیشن کے نفاذ نیز ایس ایس اے کی تنخواہوں کو مرکزی بجٹ سے غیر منسلک کرنے کی مانگوں کو لے کر راج بھون کی طرف مارچ کی کوشش کی۔ اپنے ہاتھوں میں تختیاں اٹھائے اور مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے یہ مظاہرین ایک جلوس کی شکل میں جیول چوک اور بس اڈہ سے ہوتے ہوئے اندرا چوک پہنچے جہاں بھاری تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا، اس بیچ مظاہرین اور پولیس کے درمیان دھکامکی بھی ہوئی اور پولیس کی طرف سے کئے گئے لاٹھی چارج میں متعدد اساتذہ زخمی ہو گئے جب کہ متعدد کو حراست میں لے کر پولیس لائن گاندھی نگر پہنچا دیا گیاجہاں سے مابعد انہیں رہا بھی کر دیا گیا۔مظاہرین اس موقع پر اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آج تک اساتذہ نے پر امن طریقے سے احتجاج کر کے سرکار سے ان کے حق کے لئے مطالبہ کرتے آئے ہیں لیکن وہ اپنے حق کے لئے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ استاد کے رتبہ کا تقدس پامال کر کے انہیںسڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے ۔ اپنے مطالبات کو جائز ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کوئی اضافی مانگ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ساتویں پے کمیشن کی واگزاری اور سر و شکھشا ابھیان کے تحت تعینات کئے گئے اساتذہ کی تنخواہیں مرکزی بجٹ سے ڈی لنک کر کے انہیں ریاستی بجٹ کیساتھ منسلک کرنے کی مانگ کر رہے ہیں جو کسی بھی صورت سے نامناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے سول سوسائٹی ، تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر انجمنوں کے زعماء سے حمایت طلب کی۔ مقررین میں جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے ریاستی صدر ونود شرما، سینئر نائب چیئرمین نجم جعفری، ریاستی نائب صدر گلزبیر ڈینگ ، چیف کارڈی نیٹر سکھدیو سنگھ سمبڑیا اور صدر جموں صوبہ راجیش سنگھ شامل تھے۔