فکرو فہم
سید مصطفیٰ احمد
اکیسویں صدی کے اس موڑ پر جہاں ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا دیا ہے اور مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کا لازمی جزو بنتی جا رہی ہے، وہاں تعلیم کے تصورات بھی بنیادی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ تغیر وسیلہ حیات ہے اور جمود موت کا پیغام ہے۔ جو پانی رواں ہے، وہ شفاف اور تروتازہ ہے؛ مگر جو جمود کا شکار ہے، وہ زہریلے جراثیم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ یہی اصول تعلیم پر بھرپور طریقے سے صادق آتا ہے۔ موجودہ دور میں جب سماجی ڈھانچے، معاشی تقاضے اور ثقافتی اقدار تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ہمارا تعلیمی نظام بھی ان تغیرات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ماضی قریب میں جب زندگی کی رفتار نسبتاً سست تھی اور معاشی ڈھانچہ سادہ تھا، تب روایتی تعلیم سے کام چل جاتا تھا۔ اسناد کا حصول اور سرکاری ملازمت کی یقینی دہانی ہی تعلیم کے بنیادی مقاصد ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کے عہد میں جہاں عالمگیریت نے دنیا کو عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے اور چوتھے صنعتی انقلاب کی لہریں دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں، تعلیم کا تصور یکسر بدل گیا ہے۔ اب علم کے حصول کے ذرائع نے نئی جہتیں اختیار کر لی ہیں۔ ڈیجیٹل کتب خانے، آن لائن کورسز، مجازی جماعتیں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارمز نے تعلیم کے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔
موجودہ نظام تعلیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ :
ہمارا موجودہ تعلیمی نظام اب بھی ماضی کی کھار دار جھاڑیوں میں اپنی آپ کو گھسیٹ رہی ہے جو طلبہ کو آزادانہ سوچ کی بجائے رٹے بازی پر مجبور کرتا ہے۔ امتحانات کا بھیانک تصور طلبہ کی ذہنی صحت پر گہرے زخم ڈال رہا ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو طالب علم میں سوال کرنے کی جسارت پیدا کرے، نہ کہ وہ جو اسے خاموش تماشائی بنا کر رکھ دے۔ آج کے دور میں جہاں گوگل ہر سوال کا جواب فراہم کر سکتا ہے، ہمارا نظام تعلیم طلبہ کو نوٹس اور رہنما کتب کے حوالے کر دیتا ہے، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ماردیتا ہے۔
جدید تعلیم کے تقاضے: عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، جدید تعلیم کو پانچ بنیادی ستونوں پر استوار کرنا ہوگا۔
اول۔ تعلیم برائے زندگی: تعلیم کو چاہیے کہ وہ چار دیواری درس گاہ سے نکل کر حقیقی زندگی سے جڑے۔ اب تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں، بلکہ زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ آبی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، سماجی ناہمواری جیسے مسائل پر طلبہ کو عملی طور پر کام کرنا چاہیے۔
دوم ۔ ڈیجیٹل خواندگی اور مصنوعی ذہانت: موجودہ دور میں ڈیجیٹل خواندگی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت، مشینی تعلم اور معلوماتی علوم جیسے شعبوں سے واقفیت ہر طالب علم کے لیے لازم ہے۔ اسحاق عظیموف کی پیش گوئیاں آج حقیقت بن رہی ہیں جہاں روبوٹس تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ہمیں اساتذہ کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کو اپنا معاون بنا سکیں، حریف نہیں۔
سوم۔ ہنر مندی پر مبنی تعلیم: آج کی معیشت میں ڈگری سے زیادہ مہارت کی قدر ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ طلبہ کو صرف نظری تعلیم ہی نہیں بلکہ عملی ہنر بھی سکھایا جائے۔ کوچنگ مراکز کی بجائے ہنر مندی کے فروغ کے مراکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب وہ دور گیا جب صرف ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل بننا کامیابی کی نشانی تھا؛ آج معلوماتی علوم کے ماہر، سائبر سیکیورٹی ماہر، ڈیجیٹل مارکیٹر اور یوگا کوچ جیسے پیشے بھی اتنی ہی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
چہارم ۔ذہنی صحت اور جذباتی ذہانت: جدید تعلیم کا سب سے اہم پہلو طلبہ کی ذہنی صحت ہے۔ امتحان کا دباؤ، نمبروں کی دوڑ اور والدین کی توقعات نوجوان نسل کو ذہنی امراض کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو مشاورتی خدمات، ذہنی آگاہی پروگرامز اور تناؤ کے انتظام کی ورکشاپس کا انعقاد کرنا چاہیے۔ جذباتی ذہانت کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ طلبہ اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھیں اور زندگی کی جنگ بہتر طریقے سے لڑ سکیں۔
پنجم ۔تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما: جدید تعلیم میں تخلیقیت اور اختراع کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ موجودہ معلومات پر سوال اٹھائیں، نئی راہیں تلاش کریں اور اپنے خیالات کا اظہار بلا خوف کریں۔ جماعت میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں استاد اور طالب علم کے درمیان مکالمہ ہو، یک طرفہ خطبہ نہیں۔
تعلیم کا نیا نمونہ ۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں:
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کا وعدہ کیا ہے۔ اس پالیسی میں 4+3+3+5 فارمولے کے تحت تعلیمی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں تخلیقی صلاحیتوں پر زور، اکتا دینے والے نصاب سے نجات، کھیلوں اور جسمانی تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانا اور بین الضابطہ تعلیم کو فروغ دینے جیسی دفعات شامل ہیں۔نئی تعلیم میں طلبہ کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں پڑھایا جائے گا، بلکہ ان میں تنقیدی سوچ، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقیت اور اشتراک جیسی اہم خصوصیات پیدا کی جائیں گی۔
نتیجہ : بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں تعلیم کا روایتی تصور متروک ہو چکا ہے۔ اب ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو طلبہ کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے زندگی کی حقیقی جنگ کے لیے تیار کرے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے جو طلبہ کی نفسیات، دلچسپی اور صلاحیتوں کا احترام کرے۔ جہاں وہ خوشی خوشی علم حاصل کریں، دباؤ کا شکار نہ ہوں۔ جہاں وہ روبوٹ کی طرح رٹنے کے بجائے انسان کی طرح سوچیں۔
یہ تبدیلی راتوں رات ممکن نہیں، لیکن آغاز کرنا ہوگا۔ اساتذہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، والدین کو اپنے بچوں پر نمبروں کا دباؤ کم کرنا ہوگا اور حکومت کو تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ تبھی ہم ایک ایسی تعلیم یافتہ نسل تیار کر سکیں گے جو نہ صرف اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے، بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبدالکلام نے کہا تھا: ’’تعلیم وہ طاقت ہے جو انسان کو آزاد کر سکتی ہے۔‘‘ آئیے، اس طاقت کو حقیقی معنوں میں آزاد کرنے کے لیے نئی تعلیم کی راہ پر گامزن ہوں۔ منزل دور ہے، لیکن سنگ میل عبور کرنا ضرور ہے۔
[email protected]
����������������