ڈاکٹر زبیر سلیم
کچھ عرصہ پہلے میں ایک بزرگ شخص کے گھر گیا، جو گرنے کے باعث کولہے (ہِپ) کی ہڈی ٹوٹنے کا شکار ہو گئے تھے۔ جب میں ان کے پاس بیٹھا اور ان کے فکرمند اہلِ خانہ سے بات کر رہا تھا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ طبی عمل میں اس طرح کے واقعات کتنی بار پیش آتے ہیں۔
بڑھاپے میں ایک ہی بار گرنا انسان کی زندگی کا رخ اچانک بدل سکتا ہے۔ خود مختاری ختم ہو سکتی ہے، چلنے پھرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، اور صحت یابی اکثر طویل اور مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے تجربات ہمیں اس بات کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں کہ بزرگوں کو درپیش عام ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل جیسے اوسٹیوآرتھرائٹس، اوسٹیوپوروسس، فریکچر، چال میں عدم توازن، اور گرنا،پر گفتگو کی جائے۔یہ صرف میڈیکل رپورٹس میں درج تشخیصات نہیں بلکہ حقیقی مسائل ہیں جو ہمارے بزرگوں کے معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
اوسٹیوآرتھرائٹس:جب جوڑ گھسنے لگتے ہیں
اوسٹیوآرتھرائٹس کو عموماً جوڑوں کی ’’گھساؤ‘‘ کی بیماری کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہڈیوں کے سروں کو سہارا دینے والاکارٹلیج آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ جیسے جیسے یہ حفاظتی تہہ کم ہوتی ہے، جوڑوں میں درد، اکڑاؤ اور کبھی کبھار سوجن پیدا ہو جاتی ہے۔
گھٹنے، کولہے اور ہاتھ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بزرگ افراد اکثر صبح کے وقت اکڑاؤ، چلنے کے بعد تکلیف، یا سیڑھیاں چڑھنے میں دشواری کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگ حرکت سے گریز کرنے لگتے ہیں کیونکہ چلنا دردناک ہو جاتا ہے۔ تاہم، درست اقدامات سے اس بیماری کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے اور علامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
صحت مند وزن برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ زیادہ وزن گھٹنوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ ہلکی جسمانی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی، تیراکی یا سٹریچنگ جوڑوں کی لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ بزرگوں کو چاہئے کہ درد والے جوڑوں پر زیادہ زور نہ ڈالیں اور ضرورت پڑنے پر آرام دہ جوتے یا واکنگ ایڈز استعمال کریں۔سادہ تدابیر جیسے گرم پٹیاں، فزیوتھراپی اور بیرونی درد کم کرنے والی ادویات بھی کافی آرام فراہم کر سکتی ہیں۔
اوسٹیوپوروسس:ہڈیوں کی خاموش کمزوری
جہاں اوسٹیوآرتھرائٹس درد کا باعث بنتا ہے، وہیں اوسٹیوپوروسس اکثر خاموشی سے بڑھتا ہے۔ اس بیماری میں ہڈیاں کمزور اور چھدری ہو جاتی ہیں، جس سے معمولی گرنے پر بھی فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں یہ مرض ہے جب تک کوئی ہڈی نہ ٹوٹ جائے۔سن یاس (مینوپاز) کے بعد کی خواتین اور 65سال سے زائد عمر کے مرد خاص طور پر اس کے خطرے میں ہوتے ہیں۔ اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ کولہے کی ہڈی کا فریکچر نقل و حرکت اور خود مختاری کو شدید متاثر کر سکتا ہے، جبکہ ریڑھ کی ہڈی کے فریکچر جھکی ہوئی کمر اور مسلسل درد کا سبب بن سکتے ہیں۔
خوش قسمتی سے، مناسب طرزِ زندگی کے ذریعے اوسٹیو پوروسس کو اکثر روکا یا کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی کا مناسب استعمال ضروری ہے۔ دودھ، دہی، پنیر، سبز پتوں والی سبزیاں اور بادام جیسے خشک میوے اس کے اچھے ذرائع ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سپلیمنٹس بھی تجویز کر سکتے ہیں۔ روزانہ 15سے 20منٹ دھوپ میں رہنا جسم میں وٹامن ڈی بنانے میں مدد دیتا ہے۔
باقاعدہ وزن اٹھانے والی ورزشیں جیسے چلنا یا سیڑھیاں چڑھنا ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہیں اور مجموعی صحت کو بہتر کرتی ہیں۔ بزرگ افراد کے لئے 65سال کی عمر کے بعد ہڈیوں کی کثافت کا ٹیسٹ (DEXA سکین) کروانا مفید ہوتا ہے، یا اس سے پہلے اگر فریکچر ہو چکے ہوں یا خطرے کے عوامل موجود ہوں۔
فریکچر:صرف ہڈی ٹوٹنا نہیں
نوجوانوں میں فریکچر عموماً آرام اور وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن بزرگوں میں اس کے اثرات کہیں زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔ ہسپتال میں داخلہ، سرجری، طویل بے حرکتی اور دوسروں پر انحصار عام مسائل ہیں جو بڑھاپے میں فریکچر کے بعد پیش آتے ہیں۔ ان میں سے کولہے کے فریکچر خاص طور پر خطرناک ہوتے ہیں اور طویل مدتی نقل و حرکت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
اسی لئے احتیاط انتہائی اہم ہے۔ مناسب غذا، باقاعدہ ورزش اور درست طبی علاج کے ذریعے ہڈیوں کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ گھر کا محفوظ ماحول بھی اہم ہے۔ ڈھیلے قالین ہٹانا، روشنی بہتر بنانا اور باتھ روم میں سہارا دینے والی سلاخیں لگانا گرنے کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
چال میں عدم استحکام:جب چلنا غیر متوازن ہو جائے
عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھے، ردعمل اور توازن متاثر ہوتے ہیں۔ پٹھوں کی طاقت کم ہونے اور ردعمل سست ہونے سے چلنا غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ کچھ ادویات، نظر کی کمزوری یا کان کے اندرونی مسائل بھی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
خاندان کو ابتدائی علامات پر توجہ دینی چاہئے۔ اگر کوئی بزرگ آہستہ چلنے لگے، پاؤں گھسیٹنے لگے یا غیر متوازن نظر آئے تو یہ چال میں عدم استحکام کی نشانی ہو سکتی ہے۔
کرسی والی ورزشیں، ہلکی سکواٹس یا سٹریچنگ جیسی سرگرمیاں پٹھوں کو مضبوط بنانے اور توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ چھڑی یا واکر کا استعمال کمزوری کی علامت نہیں بلکہ حفاظت اور خود مختاری کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر کے ذریعے ادویات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ کچھ دوائیں چکر یا عدم توازن پیدا کر سکتی ہیں۔ آنکھوں اور سماعت کا باقاعدہ معائنہ بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔
گرنا:اکثر قابلِ روک تھام
گرنا بزرگوں میں ہنگامی طبی امداد کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ایک ہی بار گرنا فریکچر، ہسپتال میں داخلے اور خود مختاری کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم، بہت سے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔
گھر کی حفاظت کے لئےچیک لسٹ:
فرش کو صاف اور اچھی روشنی والارکھیں
ڈھیلے قالین یا تاروں کو محفوظ کریں
سیڑھیوں کے ساتھ ریلنگ لگائیں
باتھ روم میں سہارا دینے والی سلاخیں نصب کریں
ایسے جوتے پہنیں جن کے تلے پھسلنے سے محفوظ ہوں
طرزِ زندگی کی احتیاطی تدابیر:
چلتے وقت جلد بازی سے گریز کریں
چکر سے بچنے کے لئے مناسب مقدار میں پانی پئیں
توازن اور طاقت بہتر بنانے کے لئے باقاعدہ ورزش کریں
خاندان کا کردار
بزرگ والدین یا دادا دادی کی دیکھ بھال صرف ادویات دینے تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے لئے بڑھتی عمر کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں کو سمجھنا اور گھر کے ماحول کو اس کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
بزرگوں کو متحرک رہنے کی ترغیب دیں، انہیں طبی معائنے کے لئےساتھ لے جائیں، اور سب سے اہم یہ کہ ان کی بات سنیں۔ جب بزرگ خود کو سہارا یافتہ محسوس کرتے ہیں تو وہ اپنی خود مختاری اور نقل و حرکت کو برقرار رکھنے میں زیادہ پُراعتماد ہوتے ہیں۔
طاقت اور وقار کے ساتھ بڑھاپا
جس بزرگ سے میں ان کے گرنے کے بعد ملا تھا، وہ اب آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہے ہیں اور اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کی محبت میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کا تجربہ ایک اہم یاد دہانی ہے۔
بڑھاپاخود کوئی بیماری نہیںبلکہ زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے، جہاں احتیاط علاج سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اوسٹیوآرتھرائٹس، اوسٹیوپوروسس، فریکچر، چال میں عدم استحکام اور گرنے جیسے مسائل کو بڑھاپے کا لازمی حصہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ بروقت آگاہی، مناسب غذا، محفوظ ماحول، باقاعدہ طبی معائنہ اور فعال طرزِ زندگی کے ذریعے ان خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے ہم اپنے بزرگوں کو طاقت، وقار اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیںاور یوں نہ صرف ان کی ہڈیوں اور جوڑوں بلکہ اس توانائی کی بھی حفاظت کرتے ہیں جو نسلوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔