آصف حسین کشمیری
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں خیر اور شر، اخلاص اور ریا، صداقت اور نمود و نمائش کے درمیان ایک خاموش جنگ جاری رہی ہے۔ مگر ہمارے عہد کی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں نیکی بھی اشتہار مانگتی ہے، عبادت بھی کیمرے کی محتاج ہو گئی ہے اور خیرات بھی اس وقت تک مکمل نہیں سمجھی جاتی جب تک اس کی تصویر سوشل میڈیا پر نہ لگائی جائے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اعمال اب رب کے لیے نہیں بلکہ خلق کے لیے انجام دیے جا رہے ہیں، اور نیت کا رخ آسمان سے ہٹ کر اسکرین کی طرف مڑ چکا ہے۔
اخلاص کسی بھی عمل کی روح ہوتا ہے۔ جس طرح جسم روح کے بغیر محض ایک بےجان قالب ہے، اسی طرح عبادت اخلاص کے بغیر صرف حرکات و سکنات کا مجموعہ رہ جاتی ہے۔ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل قدر دل کی کیفیت کی ہے، وہ نیت جو انسان اور اس کے رب کے درمیان ایک راز ہوتی ہے۔ مگر آج اس راز کو بازار میں لا کھڑا کیا گیا ہے۔ ہر نیکی کو نمائش کی میز پر سجایا جاتا ہے اور ہر عبادت کو تشہیر کے ہتھیار میں بدل دیا گیا ہے۔
ہم ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں دکھاوے کا چلن عبادت سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے۔ مساجد میں صفیں تو بھری ہوتی ہیں مگر دل خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ سجدے تو لمبے ہیں مگر نیتیں چھوٹی ہو گئی ہیں۔ صدقہ دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ تصویر کھنچوانا ضروری سمجھا جاتا ہے، جیسے نیکی کا وزن تصویر کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں عبادت کی روح دم توڑتی ہے اور ریاکاری زندہ ہو جاتی ہے۔
ریاکاری محض ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی مرض ہے۔ جب ایک شخص نیکی اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، اس کے نام کے چرچے ہوں، اس کی شہرت بڑھے اور اس کا مقام بلند ہو تو دراصل وہ عبادت کو تجارت بنا دیتا ہے۔ وہ خدا سے نہیں بلکہ لوگوں سے اجر چاہتا ہے۔ اور جب اجر کا مرکز بدل جائے تو عمل کی سمت بھی بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عبادت میں خشوع کم اور نمائش زیادہ ہے، دعا میں عاجزی کم اور خودنمائی زیادہ۔
سوشل میڈیا نے اس مرض کو اور بھی گہرا کر دیا ہے۔ پہلے ریاکاری محدود دائرے میں ہوتی تھی، اب اس کا دائرہ عالمی ہو چکا ہے۔ ایک نیکی سیکنڈوں میں ہزاروں آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ لوگ خیرات کم دیتے ہیں، مگر اس کی تشہیر زیادہ کرتے ہیں۔ گویا مقصد بھوکے کو کھانا کھلانا نہیں بلکہ اپنی نیکی کو نمایاں کرنا بن چکا ہے۔ اس روش نے عبادت کو ایک شو میں بدل دیا ہے اور انسان کو اداکار۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ نیکی کو چھپانا فرض ہے یا ظاہر کرنا جرم، بلکہ اصل سوال نیت کا ہے۔ اگر نیکی کا اظہار دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے ہو تو یہ ایک مثبت پہلو رکھتا ہے، مگر اگر مقصد صرف اپنی تعریف اور شہرت ہو تو یہ ریاکاری کی حد میں داخل ہو جاتا ہے۔ نیت کی یہ باریک لکیر بہت کم لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔ اکثر انسان خود کو دھوکہ دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ خیر کے لیے کر رہا ہے، حالانکہ اندر کہیں نفس کی تسکین چھپی ہوتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کو بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے چہرے، لباس اور جسم کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے دل اور اس کے اعمال کو دیکھتا ہے۔ اس ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک اصل قیمت نیت اور باطن کی ہے، نہ کہ ظاہری نمائش اور بناوٹ کی۔ مگر آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دلوں کو سنوارنے کے بجائے چہروں کو سنوارنا سیکھ لیا ہے، اور نیت کی اصلاح کے بجائے تصویر کی زاویہ بندی پر محنت کرنے لگے ہیں۔
اسی طرح رسول اکرمؐ نے یہ اصول بھی طے فرما دیا کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔ اگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہو تو چھوٹا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے، اور اگر نیت لوگوں کی خوشنودی ہو تو پہاڑ جیسے اعمال بھی ریت بن جاتے ہیں۔ یہ ایک مختصر جملہ نہیں بلکہ پوری روحانیت کا خلاصہ ہے۔
لیکن افسوس! آج ریاکاری اور دکھاوا اس حد تک سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ اخلاص صرف ایک لفظ بن کر رہ گیا ہے۔ لوگ نیکی اس لیے نہیں کرتے کہ اللہ راضی ہو جائے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ خوش ہو جائیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت عبادت نہیں رہتی بلکہ تجارت بن جاتی ہے۔نبی کریمؐ نے قیامت کے دن کے ایک ہولناک منظر کا نقشہ کھینچ کر ہمیں جھنجھوڑ دیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا: ایک عالم، ایک مجاہد اور ایک سخی۔
سب سے پہلے ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں علم حاصل کیا، دوسروں کو سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تم نے میرے لیے کیا کیا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! میں نے علم حاصل کیا، لوگوں کو سکھایا اور تیری کتاب کی تلاوت کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم جھوٹے ہو۔ تم نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ لوگ تمہیں عالم اور قاری کہیں۔ سو دنیا میں تمہیں یہ سب کچھ مل چکا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو۔
پھر ایک مجاہد کو لایا جائے گا جس نے جان کی قربانی دی ہوگی۔ اللہ اس سے پوچھے گا: تم نے کیا کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا: تم جھوٹے ہو۔ تم نے اس لیے لڑائی کی تاکہ لوگ تمہیں بہادر کہیں، اور وہ کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو۔
پھر ایک سخی کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں بہت مال خرچ کیا ہوگا۔ اللہ اس سے پوچھے گا: تم نے اپنا مال کیوں خرچ کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں خرچ کیا، کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جہاں میں نے صدقہ نہ کیا ہو۔ اللہ فرمائے گا: تم جھوٹے ہو۔ تم نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ لوگ تمہیں سخی کہیں، اور وہ کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا کہ اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو۔
یہ حدیث صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک زلزلہ ہے جو انسان کے باطن کو ہلا دیتا ہے۔ علم، جہاد اور سخاوت جیسے عظیم اعمال بھی اگر ریاکاری سے آلودہ ہوں تو انسان کو جہنم کے دروازے تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے نزدیک عمل کی ظاہری شکل نہیں بلکہ اس کی نیت اور مقصد اصل معیار ہے۔
آج ہمیں اپنے دل سے سوال کرنا ہوگا:کیا میری عبادت اللہ کے لیے ہے یا لوگوں کے لیے؟کیا میرا صدقہ محتاج کی ضرورت کے لیے ہے یا تصویر کے لیے؟کیا میری نیکی خاموش ہے یا شور مچاتی ہے؟
ریاکاری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ دل کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ انسان ظاہری طور پر نیک دکھائی دیتا ہے مگر باطنی طور پر خالی ہو جاتا ہے۔ اس کے اعمال میں تاثیر نہیں رہتی، اس کی عبادت میں نور نہیں رہتا، اس کے الفاظ میں سچائی کی حرارت نہیں رہتی۔ وہ معاشرے میں ایک مثالی چہرہ تو بنا لیتا ہے مگر رب کے ہاں اس کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ہمارا معاشرہ آج اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ یہاں نیکی کو بھی مقابلہ بنا دیا گیا ہے۔ کون زیادہ خیرات دیتا ہے، کون زیادہ تصاویر لگاتا ہے، کون زیادہ مذہبی نظر آتا ہے،یہ سب ایک نئی دوڑ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس دوڑ میں اخلاص پیچھے رہ گیا ہے اور ریاکاری آگے بڑھ گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عبادت کا مفہوم بدل گیا ہے اور نیکی کا مقصد مسخ ہو گیا ہے۔ریاکاری صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ علم، سیاست، خدمت خلق اور حتیٰ کہ اخلاقیات تک میں سرایت کر چکی ہے۔ لوگ خدمت بھی اس لیے کرتے ہیں کہ ان کا نام ہو، ان کی تصویر چھپے، ان کا مقام بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدمت کا جذبہ کمزور اور شہرت کا شوق مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرہ خدمت گاروں سے نہیں بلکہ نمائشی کرداروں سے بھر گیا ہے۔
یہاں ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ریاکاری کا سب سے بڑا نقصان فرد کو نہیں بلکہ سماج کو ہوتا ہے۔ جب نیکی کا معیار ظاہری بن جائے تو منافقت کو فروغ ملتا ہے۔ لوگ سچائی سے زیادہ تاثر کی فکر کرتے ہیں۔ کردار سے زیادہ تشہیر کو اہم سمجھتے ہیں۔ اس سے اعتماد ٹوٹتا ہے اور معاشرتی رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔اخلاص دراصل آزادی کا نام ہے۔ وہ انسان کو لوگوں کی رائے کے بوجھ سے آزاد کرتا ہے۔ جو شخص صرف اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، وہ تنہائی میں بھی وہی ہوتا ہے جو محفل میں ہوتا ہے۔ اس کی زندگی میں تضاد نہیں ہوتا۔ مگر جو شخص ریاکاری کا شکار ہو، وہ دو چہرے رکھتا ہے: ایک لوگوں کے لیے اور ایک اپنے لیے۔ یہی دوہرا پن معاشرے کو اندر سے کھا جاتا ہے۔
آج ہمیں ایک نئی اخلاقی بیداری کی ضرورت ہے۔ ہمیں عبادت کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لانا ہوگا: یعنی دل اور خدا کے درمیان ایک خالص رشتہ۔ ہمیں نیکی کو دوبارہ خاموش بنانا ہوگا، تاکہ اس میں شور نہیں بلکہ نور پیدا ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اچھا بننا اہم ہے، اچھا دکھائی دینا نہیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں نیکی کو صرف ایک پرفارمنس سمجھیں گی، ایک فیشن، ایک رسم۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم خود احتسابی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ہر عمل سے پہلے یہ سوال کریں: میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟ اگر جواب میں اللہ کی رضا ہو تو آگے بڑھیں، اور اگر لوگوں کی تعریف ہو تو رک جائیں۔ یہی رکنا اصل عبادت ہے۔ یہی خاموشی اصل نیکی ہے۔ یہی انکار اصل اخلاص ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب عبادت نمائش بن جائے اور نیکی تشہیر کا ہتھیار بن جائے تو معاشرہ روحانی طور پر مفلس ہو جاتا ہے۔ اس کے پاس اعمال تو ہوتے ہیں مگر معنی نہیں ہوتے۔ اس کے پاس رسمیں تو ہوتی ہیں مگر روح نہیں ہوتی۔ اور یہ وہ حالت ہے جس پر نوحہ کرنا بھی کم ہے اور سوچنا بھی ضروری۔
یہ تحریر کسی ایک فرد یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہمیں اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا ہوگا۔ اگر ہمیں اس میں ریاکاری کی جھلک نظر آئے تو ہمیں ڈرنا چاہیے، اور اگر اخلاص کی کرن دکھائی دے تو ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہی کرن ہمارے ایمان کو زندہ رکھ سکتی ہے اور یہی روشنی ہمارے معاشرے کو اندھیروں سے نکال سکتی ہے۔اخلاص ایک خاموش چراغ ہے جو دل کے اندر جلتا ہے۔ اسے ہوا کی ضرورت نہیں، شہرت کی نہیں، تشہیر کی نہیں۔ اسے صرف سچائی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اس چراغ کو بچا لیں تو ہماری عبادت بھی بچ جائے گی اور ہماری نیکی بھی۔ ورنہ تاریخ ہمیں ان لوگوں میں شمار کرے گی جنہوں نے نیکی کو بھی تماشا بنا دیا اور عبادت کو بھی اشتہار۔یہی اس دور کا سب سے بڑا فکری و اخلاقی نوحہ ہے اور یہی ہمارے لئے سب سے بڑا امتحان بھی۔
(رابطہ۔ 9797888975)