میر شوکت
پونچھ، دس دسمبر ۲۰۲۵—یہ وہ صبح تھی ،جب پہاڑ حسبِ معمول خاموش تھے مگر خاموشی میں بھی ایک سوال چھپا ہوا تھا۔ آسمان صاف تھا، دھوپ بےقصور، ہوا میں سردی کی ہلکی سی چبھن، مگر فضا میں ایک انجانی سی الجھن تیر رہی تھی۔ چنار کے پتوں نے سرخ ہونا شروع کیا ہی تھا کہ عقل نے اچانک پیلا جھنڈا لہرا دیا۔ وادی جاگی تو ایسا لگا جیسے کسی نے خواب میں ہی ایک سرکاری نوٹیفکیشن تھما دیا ہو،اور خواب فوراً کابوس میں بدل گیا ہو۔ یہ دن موسم کے لحاظ سے عام تھا، مگر عقل کے اعتبار سے غیر معمولی، کیونکہ اسی دن تعلیم کو کتّوں کے ساتھ باضابطہ سرکاری رشتے میں باندھ دیا گیا۔
سی ای او پونچھ کے دفتر سے جاری ہونے والا نوٹیفکیشن بظاہر ’’نوبل‘‘ تھا، اتنا نوبل کہ اس کی شرافت پر شک ہونے لگا۔ اس میں سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ تھا، عوامی تحفظ کا تڑکا تھا اور آخر میں وہ شاندار خیال جس نے تعلیم کے ماتھے پر بل ڈال دئیے۔ استاد اب اسکول کے ساتھ ساتھ کتوں کے نگران، سانپوں کے مشاہد اور گلی محلوں کے محافظ بھی ہوں گے۔ گویا استاد ایک ایسا ہمہ گیر مخلوق ہے جو صبح بچوں کو الف بے سکھائے، دوپہر کو کتے گنے، شام کو سانپ پہچانے اور رات کو ضمیر کے زخم سہلاتا سو جائے۔خوبصورتی یہ ہے کہ وہ خود کو سنجیدگی کے لباس میں پیش کرتا ہے اور یہ نوٹیفکیشن بھی پورے وقار کے ساتھ آیا تھا۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ تعلیم ثانوی ہو گئی ہے، مگر ہر سطر یہی چیخ رہی تھی۔ استاد کو’’نوڈل آفیسر‘‘ بنایا گیا۔یہ لفظ اتنا مزیدار ہے کہ سن کر بھوک لگنے لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ لفظ تعلیم کے منہ میں ڈالی گئی ایسی نوڈل ہے جو نگلی نہیں جا سکتی۔ سوال یہ نہیں کہ کتے مسئلہ ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ مسئلہ حل کرنے کے لیے استاد ہی کیوں دستیاب مخلوق ٹھہرا؟
سوچئے، اساتذہ کا انتخاب ہی کیوں؟ کیا اس لئے کہ وہ سب سے سستے ہیں؟ یا اس لیے کہ وہ خاموش رہتے ہیں؟ یا اس لیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ استاد نے ہر دور میں ہر بوجھ اٹھایا ہے۔خواہ وہ قوم کا ہو یا نظام کی نااہلی کا۔ تعلیم کا شعبہ اس ملک میں ہمیشہ ایک ایسی میز رہا ہے جس پر ہر محکمے نے اپنا فالتو سامان رکھ دیا۔ مردم شماری ہو، الیکشن ہو، پولیو مہم ہو، اب کتا مہم بھی ہو گئی۔ استاد ہر جگہ حاضر، مگر اپنی کلاس میں غائب۔
منظر دیکھیے: ایک اسکول کا صحن، جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، آج وہاں ایک اُستاد ہاتھ میں رجسٹر لیے کتے کی آنکھوں میں جھانک رہا ہے۔ وہ سوچ رہا ہے کہ یہ کتا پچھلے ہفتے بھی یہی تھا یا نیا آیا ہے؟ اس کے کان نوٹ کرنے کے قابل ہیں یا دم؟ وہ استاد جو بچوں کی نفسیات سمجھتا تھا، آج جانوروں کی مردم شماری میں مصروف ہے۔ کلاس روم میں بچے بیٹھے ہیں، تختہ سیاہ خاموش ہے اور تعلیم ایک طرف کھڑی منتظر ہے کہ شاید فرصت ملے۔یہ سب کچھ سپریم کورٹ کے حکم کے نام پر ہو رہا ہےاور عدالت کا احترام اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر انتظامی سستی کا بوجھ عدالت کے کھاتے میں ڈال دینا اب سرکاری روایت بن چکا ہے؟ عدالت نے تحفظ کا کہا، استاد کو محافظ بنا دیا گیا۔ کل اگر عدالت نے ٹریفک کی بہتری کا کہا تو کیا استاد سڑک پر کھڑا ہوگا؟ اور اگر آلودگی کا مسئلہ ہوا تو کیا وہ درختوں سے دھواں ناپے گا؟
بات یہ نہیں کہ کتے اہم نہیں، بات یہ ہے کہ انسان کم اہم ہو گیا ہے۔ استاد، جو ذہن بناتا ہے، اب فہرستیں بنا رہا ہے۔ وہ ہاتھ جو حروف کی شکل سکھاتا تھا، اب پنجوں کے نشانات گن رہا ہے اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس پورے عمل میں استاد سے رائے تک نہیں لی گئی، کیونکہ رائے ہمیشہ برابر والوں سے لی جاتی ہے اور استاد اس نظام میں صرف ’’موجود‘‘ ہوتا ہے،’’شریک‘‘ نہیں۔
شام کو جب استاد گھر لوٹتا ہے تو اس کے بستے میں بچوں کی کاپیاں کم اور سرکاری ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنے بچے سے پوچھتا ہے: ’’آج سکول کیسا رہا؟‘‘ اور خود جواب دینے سے گھبراتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سکول اب صرف تعلیم کا نام نہیں رہا، وہ ایک ہمہ قسمتی دفتر بن چکا ہے، جہاں ہر مسئلے کا حل استاد ہے۔سوائے تعلیم کے۔
یہ کالم کسی کتے کے خلاف نہیں، کسی سانپ کے خلاف نہیں، حتیٰ کہ کسی نوٹیفکیشن کے بھی خلاف نہیں، یہ کالم اس سوچ کے خلاف ہے جو سمجھتی ہے کہ استاد سب کچھ ہے، مگر استاد کچھ بھی نہیں ۔ یہ اس خاموشی کے خلاف ہے جو ہر بار استاد اختیار کرتا ہے، اور ہر بار نظام اسے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔
قومیں سڑکوں سے نہیں بنتیں، فہرستوں سے نہیں بنتیں، کتوں کی گنتی سے بھی نہیں بنتیں۔ قومیں اس تختہ سیاہ سے بنتی ہیں جس پر پہلا لفظ لکھا جاتا ہے۔ جب اس تختہ سیاہ پر گرد جم جائے اور استاد ہاتھ میں رجسٹر لیے گلیوں میں گھومے، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ کتوں کا نہیں رہا،مسئلہ ترجیحات کا ہے۔یہ نوٹیفکیشن شاید فائلوں میں ایک کامیابی ہو، مگر تاریخ میں یہ ایک سوال بن کر رہے گا:جب استاد کو کتے گننے پر لگا دیا گیا تھا، تب بچوں کو کون گن رہا تھا؟