ضیاء مقبول
بلّی کے رونے کی آواز رفتہ رفتہ ایک ننھے بچے کی ریں ریں میں تبدیل ہو ئی اور نسیمہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر دھڑام سے میٹرنٹی وارڈ کے چرمراتے بیڈ پر گر پڑی جہاں اس کی دائیں بغل میں اس کا بچہ اور بائیں بغل میں اک عورت کے سوجے پاوں تھے جس کا تکیہ بیڈ کے دوسرے سرے پر تھا۔اس عورت کی نو زائیدہ بچی گلابی پھولوں والی ٹوپی پہنے کلکا ریاں مار رہی تھی اور غالباً اس آواز کی باز گشت اس کی ماں کے خوابوں کی وادیوں میں کوئل کی آواز بن کر گونج رہی تھی۔ نسیمہ اپنے بچّے کو اٹھا کر اس کے چہرے کے خدوخال میں اپنے آباء کی جھلکیاں ڈھونڈنے لگی۔اماں جیسی بڑی آنکھیں،انی جیسے گھنگھریالے بال،ابا جیسی گھنی بھوئیں۔ یکبار نسیمہ کو اس میں اپنے شوہر کا عکس بھی دکھائی دیا جو جلد ہی اس کی آنکھوں میں چھائی نمی کے آگے دھندلا گیا۔
نسیمہ کی پہلی شادی آٹھ سال پہلے ایک سرکاری کلرک سے ہوئی تھی۔ اگرچہ ایک فرمانبردار اور مثالی بیوی اور بہو کی طرح وہ چار سال مشینوں کی طرح گھر کے کام کرتی رہی ہر مگر زمانے کی تیز رفتار ریل گاڑی نے اسے ایک موٹر کار کی طرح روند دیا۔وہ ہزار علاج و معالجہ اور نذر و نیاز کے باوجود پانچ سال میں کبھی ماں نہیں بن پائی اور شوہر نے اسے اس طرح اپنی زندگی سے الگ کردیا جیسے وہ کوئی دیمک کی چاٹی پرانی فائل ہو۔
نسیمہ اپنے بھائی کے پاس واپس لوٹی تو اس کے گھر پر “مائیکہ” کا لیبل لگ چکا تھا۔تین چار مہینے بعد اس کے “مائیکے” میں پھر سے لمبی لمبی لسٹ لے کر دلال آنے جانے لگے۔ کنوارے لڑکے، دوسری بیوی کے خواہشمند بوڑھے، لا ق یافتہ اور رنڈوے۔۔ آخر نسیمہ کے بھائی اور بھابھی نے اس کیلئے شہر میں ایک رنڈوا ڈھونڈا جس کی بیوی اس کے پاس تین بچے چھوڑ کر اللہ کو پیاری ہوگئ تھی۔نسیمہ نے آکر ہی شوہر سمیت تینوں بچوں کا بوجھ سنبھالا اور ایک مشین کی طرح اپنے فرائض نبھانے میں منہمک ہوئی۔پھر ایک دن اچانک سے مشین میں کچھ بھاری پن سا آگیا ۔پہیوں کی رفتار مدھم پڑ گئی۔جانچ کرائی تو ایک کل پرزے کا اضافہ تشخیص ہوا۔ نسیمہ کے شوہر کو اس خبر سے زوردار جھٹکا لگا۔اس کیلئے نسیمہ بچہ پالنے کی ایک ایسی مشین تھی جسے خود اپنا بچہ پالنے کا کوئی حق نہیں تھا۔اس نے نسیمہ کو سمجھایا, چمکارا ۔وہ نہ مانی تو ڈرایا ,دھمکایا مگر وہ اس بوجھ کو اتار پھینکنے کیلئے تیار نہیں ہوئی۔نو مہینوں کے اندر ہی اندر ان کے بیچ تلخی کی اتنی اونچی دیوار کھڑی ہو گئی تھی کہ نسیمہ اپنے “میکے” کے نزدیک ایک سرکاری اسپتال میں بھرتی تھی اور سسرال میں کسی کو خبر نہیں تھی۔
” بچے کے باپ کا نام کیا ہے؟”
نسیمہ چونک کر نرس کو دیکھنے لگی جو ہاتھ میں ایک قلم اور فارم پکڑے ہوئے تھی۔
“ہاں! کیا نام ہے اس کا؟۔ نرس نے جلدی دہرایا۔
نسیمہ کے کانوں میں عجیب شور سا پیدا ہوا جیسے مشین کے پرزے اندر ہی ایک ایک کر کے چکنا چور ہو رہے ہوں۔اس شور کے بیچ جیسے کوئی چلا چلا کر کہہ رہا ہو ” اسے رکھنا ہے تو رکھو ۔پر میں اسے اپنا نام نہیں دوں گا۔”
���
سوپور، بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419744094