ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر
جس کی تصویر ہے خیال اپنا
فانی بدایونیؔ
خیال یار کی صورت نہایت ہی خوبصورت خیال ہے جس کا مرکز و محور دل اور دماغ ہے ۔ یار جس کی آماجگاہ نگاہوں سے شروع ہو کر کے دل کے ہر گوشے سے منسوب ہے ۔ یار کا خیال آنا اور یار کا خیال رکھنادو الگ الگ صورتیں ہیں پہلی صورت شاعری کی آمد سے مشابہہ ہے جبکہ دوسری صورت شاعری کی آوردگی سے مشاہبت رکھتی ہے ۔ یار کا خیال آنا محبت کی انتہا ہے اور یار کا خیال لانا محبت کی کمزوری ہے ۔ جس شخص کو یار کا خیال آتا ہے اور خوب آتا ہے وہ عاشق کہلاتا ہے اس عاشق کا جنون لافانی ہوتا ہے اس طرح کا لافانی کہ شخص خود تو خاک ہوتا ہے لیکن اس کا عشق سر چڑھ کر بولتا ہے اور یہ سر چڑ کر بولنے کی کیفیت خیال یار کا زبان زد عام کا فقرہ بن جاتا ہے جس کا محاوراتی استعمال مختلف معنوں میں ہوتا ہے جیسے خیال یار کا دامن ہونا، دامانِ خیال یار ہونا، خیال یار کا بھوت بننا، خیال یار کی دنیا بسانا، خیال یار کی چھایا میں رہنا، خیال بندی میں ماہر ہونا، خیال خام کی امید رکھنا، خیال کا فاسد ہوجانا، خیال کا دل میں دوڑنا، خیال یار اتر جانا، وغیرہ ۔
جب سنسان رات آدمی کو کاٹنے دوڑے تو خیال یار اس کی بہترین دوا بن جاتی ہے پھر اس دواء کا استعمال بر محل حالتیں رکھتا ہے یار کا چہرہ بار بار سامنے لانا، خیال یار کو تکیے کے نیچے رکھنا، خیال یار کی حسین چادر پورے بدن پر اُھوڈنا، اپنی آنکھوں کو یار کی حسین آنکھوں میں ڈالنا، گل رعنا کے رخساروں کو بار بار بوسہ لینا، انگلیوں کے نرم احساس کو محسوس کرنا جس سے لذت میں اضافہ ہوتا ہے گویا خیال یار ایک بہترین دوا ہے جس کا کوئی بھی سائڈ افکٹ نہیں بلکہ اچھے افکٹ ہی افکٹ ہیں ۔
خیال یار انسان کو مثبت ،منفی دونوں رویّوں سے آشنا کر آتا ہے جہاں آدم با حوصلہ بن جائے تو خیال یار کا اثر مثبت پڑتا ہوا دیکھائی دیتا ہے جن میں آدمی باوزن با کردار ، بردبار اور حلیم نظر آتا ہے ان تمام صورتوں میں خیالِ یار کاخیال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے ۔ خیالِ یار بلا لحاظ جنس و مذہب ہے جس میں ہر نفس کا حق ہے کہ وہ خیال یار سے دامن گیر ہو جائیںاس دور میں زندگی کا ہر واقع ،ہر گھڑی ہر لمحہ آدمی کو عزیر ہوتا ہے جہاں زندگانی کا عزیز اور عمدہ سفر پنہاں ہوتا ہے جس کی یادیں ہر دم تازہ اور صحت مند رہتی ہیں جو کبھی بھی پیری عمر کو نہیں پہنچ سکتی ہیں بلکہ ہمیشہ حسین اور نوجواں رہتی ہیں اور یہ یادیں آدمی کو باوصف بنا دیتی ہیں ۔ بعض اوقات آدمی کی کم فہمی اپنے محبوب کی یاد کو دوسروں کی یاد میں مدغم کرتی ہے جسے فتنے برپا ہوتے ہوئے نظر آتے ہیںبقول شاعر ؎
اک تیری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
آگئے یاد کئی نام حسینائوں کے
حبیب جالب ؔ
یہ فتنے کبھی کبھار یار کو آگ میں جلنے پر بھی مجبور کرتے ہیں یایہ آگ ان کی زندگی ہی عذاب بنا دیتی ہے۔ یار کا انتخاب حسن کی اداوں پر مبنی ہوتا ہے جس قدر ادائیں لچک دار ہوں اسی قدر انتخاب میں آسائیش پیش آتیں ہیں اور یہ آسائیش مشکل منزلوں سے گزر کر سامنے آتیں ہیں لیکن بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی مشکلیں سامنے آ جاتی ہیں جن کا مقابلہ کرنا آدمی کے بس کی بات نہیں رہتی اس طرح یار کو حاصل کرنے کا ثواب کب گناہ میں تبدیل ہو جائے کہنا مشکل ہے ۔ جب آدمی خیال یار سے نکل کر دامانِ یار اور گریبانِ یار کو چاک کرتا ہے تو ایک دوسرے کا وجود مدون ہو جاتا ہے جس کا لازمی نتیجہ خوبصورت خواب کے رنگ کی صورت میں حصول ہے جو ہر لحظ لذیز اور حسین ہوتا ہے اور زندگی شاداب ہو جاتی ہے ۔ لیکن اچانک یہ رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے اور اپنے اس یار کی یاری بے وقت کی راگنی محسوس ہوتی ہے تو خیال یارکا خیال رکھنے والا یار دشمن بن جاتا ہے ، بے وفا بن جاتا ہے ، ہر جائی بن جاتا ہے اور خیال یار کا حسین پیکرِ فنا ہو جاتا ہے، تباہ ہو جاتا، برباد ہو جاتا ہے نیز اپنے وجود سے خائف ہو کر آہ و بقا اور ستمگری و مظلومیت کا مجسمہ بن کر رہ جاتا ہے اور باقی سب عہد و فا عہد پارینہ کی داستان بن جاتی ہے جس کے پردوں ، جس کی پرچھائیوں نیز یادوں کو یہ مظلوم پیکر صرف کو ستا رہتاہے کہ ہائے وہ وقت جو مجھے اس منزل پر لا کھڑا کر گیا جہاں نہ جینا آسان اور نہ مرنا سہل اور اس طرح خیال یار کا حسن بکھر جاتا ہے وہ تپ تپ کر ایک زندہ لاش کے سواکچھ نہیں رہتا۔ ؎
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تم نے
بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
مہتاب عالمؔ
زندگی خیال خام کا فن نہیں ہے بلکہ یہ سوز جگر مانگتی ہے جس کے لئیے لازم ہے کہ بندہ شاکر رہے اپنے خالق کا جس کا اس سے سبق بھی پڑھایاجاتا ہے اور ہنر بھی سکھایا جاتا ہے لیکن بندہ کمینہ ہمیشہ ہی شرم سار نظر آتا ہے اپنی کرتوتوں سے ۔ کہنا یوں انسب رہے گا کہ خیال یار کی زینت بھی الگ ہے اور ضمانت بھی جو نظر مانگتی ہے اپنے دلدار کی اس دلدار کی جو اسے ہر فکر سے آزاد کر دیے اور امانت کی طرح سنبھال کے رکھ دے اس رکھ دینے کی صورتیں بھی الگ الگ اور منفرد قسم کی ہیں جو خود میں آسمان نظر آتیں ہیں اور ہر نقش و رنگ سے پاک و معتبر دیکھائی دیتی ہیں بالکل اسی طرح جس طرح سورج کی روشنی، چاہت کی چاشنی ، ساز کی نغمگی، رات کی سیاہی ، زمین کی زرخیزی، کلام کی شیرینی ، حیات کی حقیقت۔ دوستو خیال یار کی ایک اچھی تعبیر امید بھی پیش کی جاسکتی ہے جس کا دامن کافی وسیع بھی ہوتا ہے اور نہایت پاکیزہ بھی جو آدمی کو باحوصلہ بنا دیتی ہے اور با سلیقہ بھی جس کی دنیا جہاں دراز کا میدان مانگتی ہے جو ہزار سطحوں پر پھیلی ہو ، لاکھ خیالات پر مبنی ہو جو غم دنیا سے دور اور خیال یار کی یادوں میں محو شبنمی صبح کی طرح ، چاندنی نور کی مانند ،بہتے دریا کی طرح ، اَبر آلودہ فضا کی طرح اور دھڑکتے دل کی طرح زندہ جاوید وجود رکھتی ہو۔
تیرے خیال کے دوودیوار بناتے ہیں
ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بنا تے ہیں
جمیل الدین عالی ؔ
جناب من !سطح سمندر سے اس کی خاموشی کا راز دریافت کیجئے تو ہزار طرح کی داستانیں سنیں کو ملیں گی جہاں سے زندگی کا نیاسبق حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ جہاں سے زندگی کی نئی تعبیریں اور تاویلیں حاصل کی جا سکتی ہیں جہاں داستانِ الفت کی رنگینی باہیںکھول سکتی ہے جو اصل میںخیال یار کا سفر آسان بنانے کا ہنر رکھتی ہے جس کی ذات زرّہ بے نشان ہے جو کوئی نشان نہیں رکھتی کوئی پتہ نہیں رکھتی بلکہ اگر رکھتی ہے تو صرف منزل بے نشان کا جس کی سرحدیں لامکان سے بھی تجاوز کرتیں ہیں جنھیں گردِ غبار کی پرتیں کھا جاتی ہیں عین اسی طرح جس طرح شکاری شکار کوکھا جاتا ہے اور ہوس کی آگ پوری کر لیتا ہے جو کسی کو کسی کا نہیں رکھ چھوڑتی ہے ۔ دامان خیال یار کا پکڑنا اس امر کی دلیل ہے کہ یار بہت ہی وفادار ہے جو کسی بھی صورت میں اپنے یار کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا ہے بلکہ اس سے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے چاہے حالات کیسے بھی ہوں ماحول سازگار ہو یا نہ ہو یہاں صرف عہد و فا کی زندگی حیات بخش ہے جو آدمی خاص کر یار کو باوفا بنا دیتی ہے باحوصلہ رکھتی ہے جو کسی بھی صورت میں اس سے بے وفائی نہیں کر سکتاہے کیونکہ بے وفائی اس سے کبھی راس نہیں آئی ہے اور نہ ہی آسکتی ہے ۔ یار کے خیال آنے کی صورتیں عجیب ہوتی ہیں کبھی کبھار یہ صورتیں آدمی کو خودکشی کرنے پر بھی مجبور کرتی ہیں اور کبھی کبھار خود سوزی پر، کہیں سطحوں پر اس کی صورتیں خوبصورت بھی ہوتیں ہیں جو حسین قسم کی موت عطا کرانے کا ہنر رکھتی ہیں اوربعض اوقات خیال یار کی زلفیں آدمی کے لئے پھانسی کا پھندا ثابت ہوتی ہے ۔ یہ پھانسی کچھ لوگوں کے لئیے راحت کا سامان ہوتی ہیں اور کچھ لوگوں کے لئے زندگی کا فرار جو شخص کو زندگی کے عذاب سے آزاد بھی کرتی ہے نیز خیال یار سے نجات بھی دلاتی ہے ۔
محبت کی داستان زندگی کو رنگینی عطا کرتی ہے وہ رنگینی جو زندگی کو ساز اور سوز عطا کرے جس سے آدمی رنگین اور نرم بن جاتا ہے یا پھر محبت کا پجاری بن جاتا ہے جو اس سے الفت کے اعلیٰ درجے پر پہنچاتی ہے جہاں سے عاشق ان گنت نام حاصل کر لیتا ہے یہ مقام حاصل کرنے کا عالم بھی نرالا ہوتا ہے جہاں آدمی بے فکری اور بے نیازی سے سب کچھ ہنسی خوشی تسلیم کر لیتا ہے چاہئے اس کا مزہ تیکھا ہی کیوں نہ ہو۔ عاشق ان حالات میں کسی کابھی مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے حالات چاہئے کیسے ہی کیوں نہ ہو ماحول چاہے موافق ہو یا نہ ہو۔ ذہن کی آزادی تب سلب ہو جاتی ہے جب عاشق خیال یار کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔ لیکن اس بات کا خیال رہے کہ خیالِ یار کا دامن کبھی آرام سے ہاتھ میں نہیں آتا ہے بلکہ اس کے تمام سرے ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں اس طرح پھسل جاتے ہیں کہ جیسے تیز طرار مچھلی آپ کے ہاتھوں میں آتے آتے پھسل جاتی ہے اور آدمی حیف صد حیف کا نغمہ گا کر دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے وہ کوشش جو کومیابی کی صورت میں ہوتے ہوئے بھی آدمی کو ناکام معلوم ہوتی ہے اور یہ ناکامی کس طرح کا رنگ رکھتی ہے کس ہنر میں مہارت رکھتی ہے کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں رہتا۔ ؎
شام بھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
فراقؔ
یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
برسات کی رم جم میں سماں ہوتا ہے
قتیل شفائی
�������