بہت کم لوگ اب باقی بچے ہوں گے جن کی یاداشت کے پردوں پر اُس کشمیرکا عکس موجود ہوگا جو مکمل طور پر ایک مختلف کشمیر تھا ۔صدیوں کی تہذیبی عظمتیں اپنے پہلو میں لئے وہ کشمیر اخلاقی اورانسانی قدروں کا امین بھی تھا اور علمبردار بھی لیکن اس کشمیر کا ایک دلچسپ پہلو بھی تھا جسے میں آج اپنا موضوع بنارہا ہوں ۔یہ کوئی نیا انکشاف نہیںکہ کشمیری باشندوں کی اکثریت، جن میں ان پڑھ بھی شامل ہیں، عالمی حالات ، سیاست اور مذہب کے ساتھ بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ہر مجلس میں ، ہر ملاقات میں کشمیر ی اگر کوئی بات کرنا پسند کرتا ہے تو وہ عالمی حالات ، واقعات ، سیاست اور مذہب ہی ہے ۔ وہ اپنے بارے میں بہت کم سوچتا ہے لیکن گرد و نواح کے حالات ، عالمی تبدیلیوں اور مذہب کے مختلف موضوعات پر بہت زیادہ غورکرتا ہے ۔چار دہائیاں قبل کشمیر میں معلومات کے حصول کا واحد ذریعہ ریڈیو تھا لیکن اس وقت بھی کشمیرکا دکاندار ، چھاپڑی فروش ، سرکاری ملازم ، مزدور اور زمیندار عالمی حالات کی اتنی ہی جانکاری رکھتا تھا جتنی کہ ایک بڑا سیاسی لیڈر یا سفارت کار رکھتا ہے ۔صبح مساجد میں اللہ کے آگے سربسجود ہونے کے بعد حمام کی گرمی تاپتے ہوئے سرد جنگ سے اقوام عالم پر پڑنے والے اثرات پر غور ہوتا تھا۔ امریکہ اور سوویت یونین کے اندرونی حالات بھی زیر بحث آتے تھے اور اس کے بعد برصغیر کے تازہ حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوتا تھا ۔ شادی بیاہ کی تقاریب اور دکانوں پر سیاست کی ہی باتیں ہوتی تھیں ۔ کوئی گاہک دکاندار کے پاس آتا تھا تو دونوں میں سے کوئی ایک کسی تازہ واقعہ کاذکر چھیڑتاتھا اور بحث شروع ہوتی تھی ۔یہ کشمیری کی عادت بھی تھی اور پسندیدہ شوق بھی ۔ دکانوں کے تھڑوں پر شام کو لوگ ٹولیو ں میں بیٹھ کر بحث و مباحثے میں مصروف رہتے تھے ۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا اُن دنوں لوگ اس قدر خوشحال اور فارغ البال تھے کہ ان کا کوئی نجی مسئلہ نہیں ہوا کرتا تھا ۔ کیا کوئی سماجی مسئلہ بھی نہیں تھا ۔ سڑک ، پانی ، بجلی ، روزگار کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔بزرگ کہتے ہیں کہ ان دنوں غربت بہت تھی لیکن اس کی کسی کو پرواہ نہیں تھی ۔ عورتیں سوت کات کر اپنے بچوں کی ہر مراد پوری کیا کرتی تھیں ۔لوگ بے فکر ہوکر دنیا بھر کے حالات پر بحث میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ مباحث کے کئی مراکز ہوا کرتے تھے ۔ میں کچھ اہم مراکز کی جانکاری آپ تک پہنچا رہا ہوں ۔
اسی کی دہائی کے آخر تک کشمیرمیں جگہ جگہ تکئے ہوا کرتے تھے۔تکیہ اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں لوگ چرس پینے کے لئے جاتے ہیں ۔عسکری تحریک نے ان تکیوں کا خاتمہ کرڈالا، اب ان کے کہیں کہیں کھنڈر باقی رہے ہیں ۔ یہ تکئے عام طور پر جہلم کے کنارے واقع ہوتے تھے اوران کے گرد درخت بھی لگائے جاتے تھے ۔ جہلم کے کنارے ایک خوبصورت تکیہ زینہ کدل میں تھا ۔ جہلم کے کناروں سے باہر جو تکئے تھے، ان کے باغیچے بھی ہوا کرتے تھے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چرسیوں کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور سبزہ پسند تھا ۔سماج میں ان تکیوں کا بھی اپنا ایک مقام تھا اور چرسیوں کا بھی ۔ شادی بیاہ یا اورکوئی تقریب ہو ،یہ ضروری تھا کہ وازہ وان کی ایک ترامی نزدیکی تکئے پر روانہ کی جائے۔کبھی کبھی خصوصی طور پر کسی گھر میں تکئے کے لئے پاچے بنائے جاتے تھے تاکہ یہ فنا فلا لوگ دعائیں دیں ۔کچھ لوگ نوزاید بچوں کو تکیوں پر لایا کرتے تھے تاکہ چرسی جنہیں عرف عام میں ’’ شودے ‘‘ کہا جاتا تھا اسے دعائیں دیں ۔عام تاثر تھا کہ یہ فنا فلا لوگ ہیں اس لئے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔تکیوں پر بیماروں کیلئے بھی شفاء کی دعا کی جاتی تھی اگر کوئی اس کی درخواست کرتا ۔یہ تکئے شودوں کے سیاسی اکھاڑے ہوتے تھے ۔ چرس کی چلم بھر کر ایک ایک کرکے حقہ ہر چرسی کے پاس جاتا تھا اور جب راونڈ مکمل ہوتا تھا تو کو ئی چرسی امریکی صدر کی بات چھیڑا کرتا تھا یا سوویت یونین کے صدر کے عزائم کے بارے میںاہم ترین جانکاری فراہم کرتا ہے ۔اس پر ہر چرسی اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کرتا تھا ۔کبھی کبھی بحث گالی گلوچ تک بھی پہنچ جاتی تھی لیکن اس سے آگے نہیں بڑھتی ۔ گالیاں فحش نہیں ہوا کرتی تھیں بلکہ فارسی کے بھاری بھرکم جملے استعمال ہوتے تھے جو اب متروک ہوچکے ہیں ۔امریکہ اور سوویت یونین کی بحث میں فلسطین کا ذکر بھی آتا تھا ۔ یہودیوں کا بھی ، ہٹلر کابھی اور عربوں کا بھی ۔بیچ میں کبھی کبھی ہندوستان بھی گھس جاتا تھا اور پاکستان کا بھی دخل ہوتا تھا ۔ ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْمسئلہ کشمیر بھی پیش ہوتا تھا ۔ شیربکرا جھگڑا بھی سراٹھاتا تھا ۔ پیشن گوئیاں بھی ہوتی تھیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ہوتا تھا ۔کبھی کبھی رات بھر چھکری کی محفل بھی ہوتی تھی جس کا خرچہ کوئی قریبی ذی عزت آدمی اٹھاتا تھا۔ گانے والا صوفیانہ کلام تک ہی اپنے کو محدود رکھتا تھا۔ اس محفل میں محلے کے لوگ بھی شامل ہوا کرتے تھے ۔ تکیوں پر جانے والوں میں باعزت شہری بھی ہوتے تھے ۔ سرمایہ دار بھی ۔ اور بہت چھوٹے طبقے کے لوگ بھی لیکن یہاں محمود و ایاز ایک ہی صف میں ہوتے تھے ۔ چرسی نماز نہیں پڑھتے تھے لیکن اللہ کا ذکر خوب کیا کرتے تھے ۔ اُن کے خیال میں چرس اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔چرسی نہ فرقہ پرست ، نہ انتہا پسند ،نہ مسلک پرست ہوتا تھا ۔ وہ کسی سے نفرت بھی نہیں کرتاتھا ۔ اپنی دھن میں مگن ہوکر رہتا تھا ۔ رشوت خوری ، فریب کاری ، جھوٹ اور حسد سے بھی وہ دور تھا ۔ صرف اپنی دھن میں مگن رہتا تھا ۔ اس لئے لوگ اسے بے غرض مخلوق سمجھ کر اس کا خیال رکھتے تھے ۔چرسی عام طور پر قمیض پاجامہ اور واسکٹ لگا کر تکئے پر جاتا تھا ۔ یہ ڈریس اس کی پہچان تھی ۔اگر کوئی شودا شادی بیاہ کی کسی تقریب میں شامل ہوتا تھا تو لوگ اسے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے کیلئے کہتے اور وہ لمبی چوڑی تقریر کرتا اور اگر مذہب کے بارے میں اس سے کچھ پوچھا جاتا تو وہ ایسی باتیں کرتا تھا کہ لوگ متاثر ہوتے تھے ۔ غرض مباحث کا ایک مرکز یہ تکئے ہوا کرتے تھے ۔
دوسرا مرکز نائی کی دکان ہوا کرتی تھی ۔اب کشمیری نائی نابود ہوچکے ہیں ان کی جگہ یوپی ، بہار اوردہلی کے نائیوں نے لی ہے جو ہیر کٹنگ سیلون کے نام سے دکانیں چلاتے ہیں ۔ ان کے پاس جدید قسم کی کرسی اور کچھ جدید سامان ہوتا ہے جبکہ کشمیری نائی بوسیدہ سی کرسی اور پرانے استروں سے کام چلاتا تھا ۔ نائی کی دکان پر دن بھر سیاسی مباحث اور معرکے ہوا کرتے تھے ۔ شاہ فیصل ، کرنل قدافی ، ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹو ، کرنل ناصر اور صدام حسین ہیرو ہوا کرتے تھے ۔ جن کی تعریفوں میں زمین و آسماں کے قلابے ملائے جاتے تھے ۔نائیوں کی یہ دکانیں مڈل کلاس لوگوں کے سیاسی مراکز ہوا کرتے تھے ۔
تیسرا مرکز کافی ہائوس تھا جہاں مشہور سیاسی شخصیتیں ، دانشور ، صحافی ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم اور کشمیری پنڈت جمع ہوتے تھے۔کافی ہائوس میں کشمیر اوربرصغیر کے تازہ حالات زیر بحث رہا کرتے تھے ۔ یہاں سیاسی سازشیں بھی جنم لیتی تھیں ۔یہ تینوں مراکز ذہنی تفریح کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اور جو لوگ ان مراکزمیں جانے کے عادی تھے ان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ کسی بھی مجبوری کی حالت میں بھی ان مراکز پر جانا چھوڑدیں ۔
اب ان تینوں سیاسی مراکز کا خاتمہ ہوچکاہے لیکن سیاست کا کیڑا اپنی جگہ موجود ہے ۔ ان مراکز کی جگہ اب سوشل میڈیا نے لی ہے ۔ سوشل میڈیا پر تکیہ برانڈ سیاست بھی ہوتی ہے ۔ نائی برانڈ بھی اور کافی ہائوس برانڈ بھی ۔مشکل ہی سے کوئی ایسا پوسٹ سوشل میڈیا پر نظر آئے گا جو کسی سماجی مسئلے ،کسی جاندار سوچ یاکسی نظرئیے کا احاطہ کرتا ہو ۔وہی ذہنی رویہ ہے جو تکیوں پر ہوتا تھا ، نائی کی دکان پر یا کافی ہائوس میں ہوتا تھا۔دن میں سو بار امریکہ کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے ، اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹایا جاتا ہے ، اب اردغان ہیرو کے روپ میں ابھر رہا ہے ۔ کئی اور ہیرو بھی تلاش کئے جارہے ہیں جو ڈونالڈ ٹرمپ کا خاتمہ کرسکیں ۔کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اپنی خامیوں کو تلاش کرے۔ اگر کوئی کرے گا تو اسے دشمنوں اور غداروں میں شامل کیا جائے گا ۔
’’ ہفت روز ہ نوائے جہلم سرینگر‘‘